• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کنگنا کی مشکلات میں اضافہ، اداکارہ کیخلاف مقدمات درج

ممبئی(پی پی آئی) بولی وڈ اداکارہ کنگنا رناوت کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی وفادار بننا مہنگا پڑ گیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر سکھ برادری کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنے پر کنگنا رناوت کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ مقدمہ سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے امرجیت سنگھ سندھو کی مدعیت میں درج کرایا گیا ہے۔ممبئی میں درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ کنگنا رناوت کی جانب سے جان بوجھ کر کسانوں کے احتجاج کو ’خالصتانی تحریک‘ قرار دیا گیا اور پھر انہیں ’خالصتانی دہشت گرد‘ کہا گیا۔کنگنا رناوت نے انسٹاگرام اسٹوری پر بھارت میں احتجاج کرنے والے کسانوں سے متعلق لکھا کہ ’ہو سکتا ہے کہ خالصتانی دہشت گرد حکومت کا بازو مروڑ دیں لیکن اس خاتون وزیراعظم اندرا گاندھی کو نہ بھولیں جس نے ایسے لوگوں کو اپنی جوتی کے نیچے کچل ڈالا تھا، اس سے فرق نہیں پڑتا کہ اس نے اس قوم کو کتنا ہی دکھ پہنچایا، اس نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر انہیں مچھروں کی طرح کچل ڈالا لیکن ملک کے ٹکڑے نہیں ہونے دیئے‘۔ علاوہ ازیں کرناٹکا پردیش یوتھ کانگریس کمیٹی نے کنگنا رناوت کے حالیہ انٹرویو پر اُن کے خلاف پرچہ درج کرنے کی درخواست دی، جس میں چینل انتظامیہ، صحافی کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔رکشہ رامایہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کنگنا رناوت نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ کنگنا نے اپنے حالیہ بیان میں آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کے لیے گھٹیا زبان استعمال کی، جس پر وہ جرم کی مرتکب ہوئیں ہیں۔یاد رہے کہ اداکارہ نے گزشتہ دنوں ایک کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے 1947 میں ملنے والی آزادی کو بھیک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں اصل آزادی2014میں (مودی حکومت آنے کے بعد) حاصل ہوئی۔اداکارہ کے اس بیان پرملک کے مختلف علاقوں میں اُن کے خلاف پرچے درج ہوچکے ہیں۔

دل لگی سے مزید