• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایرانی میزائل امریکی و اسرائیلی اہداف کا بالکل درست نشانہ کیسے لگا رہے ہیں؟

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

مشرقِ وسطیٰ خصوصاً خلیج میں جنگ کا انداز تیزی سے بدل رہا ہے جہاں اب روایتی ہتھیاروں کے بجائے الیکٹرانک وار فیئر، سیٹلائٹ معلومات اور ریڈار سگنلز فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔ 

’الجزیرہ‘ کی جانب سے امریکا و اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ پر خصوصی تجزیہ شائع کیا گیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس اور چین ایران کو ایسی حساس معلومات اور ٹیکنالوجی فراہم کر رہے ہیں جس سے خطے میں امریکا اور اسرائیل کی دہائیوں پرانی فوجی برتری کو چیلنجز درپیش ہیں۔

امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق تین امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ روس ایران کو خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی جنگی جہازوں اور طیاروں کی درست پوزیشن سے متعلق خفیہ معلومات فراہم کر رہا ہے تاہم روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو میں اس الزام کی تردید کی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق دفاعی ماہرین کی رائے ہے کہ جنگ میں درست معلومات گولیوں سے زیادہ قیمتی ہو چکی ہیں، ایران کے پاس محدود جاسوس سیٹلائٹس ہیں لیکن روس کے جدید سیٹلائٹ نظام، خصوصاً کینوپس-وی سیٹلائٹ جسے ایران میں خیام سیٹلائٹ کہا جاتا ہے، ایران کو مسلسل نگرانی کی صلاحیت فراہم کر رہے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران کے کچھ حملے ایسے امریکی فوجی مقامات پر ہوئے جو عوامی نقشوں میں ظاہر نہیں ہوتے۔

رپورٹ کے مطابق جنگی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے درست حملوں کے پیچھے بیرونی انٹیلیجنس کا تعاون ہو سکتا ہے۔

یہ بھی دعویٰ سامنے آیا ہے کہ چین بھی ایران کی الیکٹرانک جنگی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ 

’الجزیرہ‘ کی خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین نے ایران کو جدید ریڈار سسٹم فراہم کیے ہیں اور ایرانی فوجی نیوی گیشن کو امریکی جی پی ایس سے ہٹا کر چین کے بیڈو-3 سیٹلائٹ نظام سے جوڑ دیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کا فراہم کردہ وائی ایل سی-8 بی اینٹی اسٹیلتھ ریڈار کم فریکوئنسی لہروں کے ذریعے ایسے امریکی اسٹیلتھ طیاروں کو بھی پکڑ سکتا ہے جو عام ریڈار سے تقریباً پوشیدہ سمجھے جاتے ہیں۔ 

اسی طرح اطلاعات ہیں کہ ایران جَلد ہی چین سے سی ایم-302 سپرسونک اینٹی شپ میزائل حاصل کرنے کے قریب ہے جو آواز کی رفتار سے تین گنا تیز سفر کر سکتے ہیں اور بحری بیڑوں کے لیے بڑا خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔

ادھر امریکا اور اسرائیل بھی متحرک ہیں اور اُنہوں نے حالیہ کارروائیوں میں ایران کے کئی ریڈار مراکز اور دفاعی نظام کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی فضائیہ کے سابق کمانڈر ایتان بن الیاحو کے مطابق کسی ریڈار کو تباہ کرنا دراصل دشمن کو اندھا کرنے کے مترادف ہوتا ہے تاہم ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے ترجمان علی محمد نعینی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے خطے میں امریکا کے تقریباً 10 جدید ریڈار سسٹمز تباہ کیے ہیں۔

’الجزیرہ‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیج کا خطہ اب ایسی جنگ کا میدان بنتا جا رہا ہے جہاں الیکٹرانک اسپیکٹرم، سیٹلائٹ معلومات اور انٹیلیجنس نیٹ ورک روایتی ہتھیاروں سے زیادہ اہم ہو چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق چین اس تنازع کو ایک عملی تجربہ گاہ کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے تاکہ مستقبل میں تائیوان کے ممکنہ تنازع کے لیے اپنی فوجی حکمتِ عملی بہتر بنا سکے جبکہ روس کے لیے ایران کی مدد کرنا مغربی دباؤ کے جواب میں اسٹریٹجک مفادات کا حصہ ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیج میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے اور اب اصل جنگ یہ نہیں کہ کون زیادہ طاقتور ہے بلکہ یہ ہے کہ میدانِ جنگ میں کون زیادہ بہتر دیکھ اور سمجھ سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید