• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں لوٹی ہوئی دولت واپس لانا مشکل ہے، جاوید اقبال

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ  پاکستان میں لوٹی ہوئی دولت واپس لانا مشکل ہے۔

چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے تقریب سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ کچھ لوگ نیب کی بنیاد پر سیاست میں زندہ رہنا چاہتے ہیں، کرپشن نے ملک کو اتنا برباد کیا ہے کہ عام آدمی کا جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو گیا، کوئی بھی شخص یاادارہ کرپشن کے ناسور کو اکیلا ختم نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ احتساب عدالتوں کے پاس بھی بے شمار کام ہیں، نیب کے کیس کا اختتام اس وقت ہو جاتا ہے جب ریفرنس متعلقہ عدالت میں بھجوا دیا جاتا ہے، کچھ خرابیاں سسٹم کی ہیں کسی فرد واحد کو ذمے دار قرارنہیں دے سکتے، امید ہے آئندہ حالات مزید بہتر ہوں گے، 4سال میں 1270 ریفرنسز مختلف عدالتوں میں داخل ہوئے، نیب کے کیسز کا فیصلہ کرنا میرے اختیار میں ہو تو اس میں سالہا سال نہ لگیں، 1386 ارب روپے کی رقم زیرالتوا کیسز میں شامل ہے، نیب کو متنازع بنانے کیلئے بعض اوقات نان ایشوز کو بھی ایشو بنایا گیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے والے بتائیں کہ کتنے کیسز عدالتوں میں جمع کرائے؟ آپ کا کیس ختم ہو گا تو میرٹ پر ختم ہو گا، جب کیسز روزانہ کی بنیاد پر چلیں گے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگا، آپ نیب کوجتنی بھی گالیاں دیں، اس سے آپ کا کیس ختم نہیں ہوگا، تنقید کرنے والوں کو کہتا ہوں آج شکایت کریں، 48 گھنٹوں میں نوٹس لوں گا۔

جاوید اقبال نے مزید کہا کہ چند ہفتے قبل چائے کی پیالی پرطوفان اٹھا دیا گیا کہ ریکوری کا پیسا کہاں گیا؟ تین بار مکمل آڈٹ میں معمولی لیپس کے علاوہ کوئی مسئلہ نہیں آیا، ایک صاحب نے نیب کے کچھ افسران پر رشوت لینے کا الزام لگایا، ثبوت دیں، کارروائی کریں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ایک صاحب نے بڑے دبنگ طریقے سے کہا نیب کے افسران رشوت لیتے ہیں میرے پاس ثبوت ہے، میں آج کہتا ہوں ثبوت لےآئیں میں کارروائی کروں گا، تنقید اس وقت جائز ہے جب آپ کو ادراک ہو کہ کس معاملے پر تنقید کر رہےہیں، نیب کا حساب کتاب جو شخص بھی چیک کرنا چاہے وہ آ کر چیک کرے۔

جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ ملک میں ہرجگہ قبضہ مافیا ہے، کہیں بڑا اور کہیں چھوٹا ہے، نیب میں ایک ایک پائی کا حساب رکھا جاتا ہے، گوادر میں ریکور کروائی گئی زمینوں کی مالیت کھربوں میں ہے، ریکوری ہمارے پاس امانت ہے، خیانت کا کبھی خیال بھی نہیں آیا، ڈائریکٹ ریکوری اور ان ڈائریکٹ ریکوری کامکمل حساب ہے، جو شخص بھی نیب کا حساب کتاب چیک کرنا چاہے چیک کرسکتاہے، ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ سب رکارڈ موجود ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ  یہاں کوئی مقدس گائے نہیں، جو کرے گا وہ بھر ےگا۔

جاوید اقبال نے کہا کہ  لاہور کا نیب روشنی کا مینار ثابت ہوا، نیب کی ٹیم کو متحرک ضرور کیا، یہ کریڈٹ آپ کو دینا پڑے گا، جن کی صبح بھی نیب سے شروع ہوتی ہے، شام بھی نیب سے ہوتی ہے، فراڈ سے متاثرہ افراد کو ان کی ڈوبی ہوئی رقم مل رہی ہے۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ بہترین کوشش کی ہے کہ اپنے ادارے میں، دیانت، امانت کو فروغ دیں، نیب نے جو جنگ شروع کی ہے اس نے جاری رہنا ہے، تاجر برادری کا مجھے مکمل احساس ہے، ان کااحترام کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ آج تک جتنے ریفرنسز بنے ہیں ایسا نہیں ہے کہ ہوا میں معلق ہیں، 1270ریفرنسز کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے،  اگر ہر کوئی اپنے حصے کا دیا جلائے گا تو پاکستان روشن رہے گا، نیب کے خلاف بعض اوقات شرمناک پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، میں مذمت کرتا ہوں،  اگر نیب کی کوئی ہمدردی ہے تو پاکستان اور اسٹیٹ کے ساتھ ہے، نیب کو پرو گورنمنٹ کہنے سے زیادہ کوئی ظالمانہ تنقید نہیں ہو سکتی۔

قومی خبریں سے مزید