• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عورتوں پر تشدد ہونا کوئی نئی بات نہیں اگر ہم تاریخ اُٹھا کر دیکھیں تو ہمیں تشدد کے متعدد واقعات پڑھنے کو ملے گے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس کی ابتدا تو تقسیم کے وقت ہی ہو گئی تھی،تو غلط نہ ہوگا ۔اُس وقت بھی عورتیں اغوا کی گئیں ، ان کا ریپ بھی کیا گیا، غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ،زندہ درگور کیا گیا۔ یہاں تک ان کو بنیادی حقوق تک سے محروم رکھا گیا ۔ 1971ءمیں جب مشرقی پاکستان الگ ہوا تو پھر یہی کہانی دہرائی گئی۔2000 ءکے عشرے میں افغانستان کے حالات کی وجہ سے پاکستان کے لئے جہاں اور بہت سے مسائل پیدا ہوئے ۔وہیں عورتوں پر تشدد میں بھی اضافہ ہوا۔

اگرچہ اس تغیر پذیر دنیا میں خواتین پر تشدد کے انداز بدلتے گئے۔ لیکن اب توظلم وتشدد کی صورت ِحال یہ ہے کہ ہر طلوع ہوتے سورج کے ساتھ دل میں یہ خدشہ رہتا ہے کہ نہ جانے آج خواتین پر تشدد کی کون سی لرزہ خیز کہانی اخبار ،ٹی وی اور سوشل میڈیا کی شہ سر خی بننے گی ،نہ صرف ہمارے ملک میں بلکہ دنیا بھر میں خواتین پر تشدد کے متعدد واقعات رونما ہوتے ہیں ،جن کی گونج چند دن عدالتوں کے کمروں میں گونجتی ہے،اخباروں اور میگزین کا حصہ بنتی ہیں، پھر زمین بوس ہو جاتی ہیں ۔

کسی کو ان واقعات کے نتائج کی پروا ہی نہیں ہوتی۔ مجرم کو سزا دلوانے کے لیے چندروز شور ضرور مچایا جا تا ہے ،سزا ملے یہ نہ ملے اس کی کسی کو کوئی فکر نہیں ہوتی۔ ہمارے ملک میں ہر ماہ خواتین پر تشدد کے بے شمار واقعات پیش آتے ہیں ،کبھی کوئی شوہر کے ظلم کے ہاتھوں موت کی گھاٹ اتار دی جاتی ہے ،کبھی کوئی اپنے دوست کے تشدد کے سبب زندگی کی بازی ہار جاتی ہے ۔ کبھی کوئی دیور کے ہاتھوں قتل کر دی جاتی ہے ۔کبھی کسی معصوم چہرے پر تیزاب پھینک کر اس کے چہرے کو جھلسا دیا جاتا ہے ۔

کبھی کسی کو زندہ جلا دیا جاتا ہے ۔کسی کوغیرت کے نام پر قتل کردیا جاتا ہے۔کسی کوشک کی بنیاد پر ظلم کا نشانہ بنا یا جاتا ہے۔ غرض یہ کہ کسی نہ کسی طر ح عورت تشدد کاشکار ہورہی ہے ۔حد تو یہ ہے کہ اس سے جینے کا حق بھی چھینا جارہا ہے ۔اس کا سکون غارت کر دیا ہے ۔اس طر ح کی کہانیوں کے کردار چند دنوں تک لوگوں کی توجہ کا مرکز بننے رہتے ہیں ،اس کے بعد سب بھول کر اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہر سال تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔لیکن ان کو روکنے کے لیے کسی کے کونوں پر جُو تک نہیں رینگتی ۔

اب اس حقیقت سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی کہ صنف ِنازک کو مسلسل محکوم رکھنے کے لیے ان کے خلا ف تشدد کا ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے ۔یہ روز کا معمول بن گیا ہے کہ خواتین پر ظلم کی داستانیں سننے کو ملتی ہے۔ اب تو ہم لوگ یہ سن سن کر اور پڑھ پڑھ کر اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ کوئی فرق ہی نہیں پڑھتا ۔ شاید ایسی لیے ہمارے آنکھوں سے حیرت کا عنصر رخصت ہوچکا ہے ۔ ہمیں یہ لازمی سوچنا چاہیے کہ ہم کس دور میں جی رہےہیں ۔کیا ریاست اور سماج عورتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں؟

ہمارے معاشرے میں کچرے کی ڈھیر کی صورت میں ایسی بے شمار کہانیوں کے کردار دبے ہوئے ہیں ،جن کے ساتھ تقدیر نے سانپ سیڑھی کا کھیل کھیل کر انہیں عرش سے فرش پر لاکر گرا دیا ۔ان میں سے چند کی آوازیں کچھ دنوں تک توجہ حاصل کرتی ہیں ، بعدازاں سب اپنی زندگی کی دوڑ میں مگن ہو جاتے ہیں ۔ لیکن حیرت اس بات کی ہے کہ اب خواتین پر تشدد صرف گھروں تک محدود نہیں رہا ۔بلکہ اب تو گلیوں ،سڑکوں ،بازاروں اور تعلیمی اداروں میں بھی ہونے لگا ہے۔

یعنی ہزاروں احتجاج کے باوجود ،سڑکوں پر نعرے بازی کے باوجود، ظلم و تشدد کے خلاف ریلیاں نکلنے کے باوجود یہ سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے،حیدرآباد میں گھریلو اختلافات کی وجہ سے چار بچوں کی ماں قرۃالعین کو اس کے شوہر نے تشدد کا نشانہ بناکر قتل دیا۔ خبر پڑھنے کے بعد عقل دنگ ،دماغ سن اور زبان گنگ سی ہوگئی۔ دل یہ قبول کرنے تو تیار ہی نہیں کہ کوئی شوہر اتنا ظالم کیسے ہو سکتا ہے ،یہ بھیانک عمل کرتے ہوئے اس کی ہاتھ کیوں نہیں لرزے ،روح کیوں نہیں کپکپائی ،اپنے چار معصوم بچوں کے چہرے کیوں نظر نہیں آئے ،اْس وقت اس کی انسانیت کہاں مر گئی تھی۔

اس کو ایک لمحے کے لیے بھی یہ خیال نہیں آیا کہ یہ میرے بیوی ہے ،جس سے میں نے زندگی کے ہر موڑ پر ساتھ نبھانے کا وعدہ کیا تھا، یہ میرے بچوں کی ماں ہے ۔قرۃ العین کے گھر والوں کے پا س تشدد زدہ لاش دیکھ کرکچھ کہنے کے لیے الفاظ نہیں تھے اور اگر کچھ کہنا بھی چاہتے تو الفاظ ان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے ۔بس ایک ہی سوال ان کے دل وماغ میں گردش کررہا تھا کہ کوئی انسان کسی دوسرے انسان پر ایسا تشدد کیسے کرسکتا ہے ؟ہماری بیٹی کو انصاف کیسے ملے گا ؟ قرۃا لعین کے علاوہ دو مہینوں کے دوران حیدرآباد میں چار اور خواتین کو ان کے شوہروں نے قتل کیا۔

سندھ میں خواتین کو گھریلو تشدد سے بچانے کے لیے ڈومیسٹک وائلنس (پریوینشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 2013 کا قانون موجود ہے، جس میں گھریلو تشدد میں ملوث افراد کو ایک ماہ سے دو سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے جب کہ ملزم پر 50 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے ،مگر افسوس ابھی تک اس پر عمل در آمد نہیں ہوا۔ 

ابھی قرۃ العین کے ہولناک قتل کا سوگ کم نہیں ہوا تھا کہ اسلام آباد میں نور مقدم کے بہیمانہ قتل نے سارے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا ۔اس کے دوست نے پہلے اس کو تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر گلا کاٹ کر اس کو قتل کردیا۔ بچپن میں سنا کرتے تھے دوستی کا رشتہ انمول ہوتا ہے، دوست ایک دوسرے کے دکھ، سکھ کے سانجھے ہوتے ہیں۔ مصیبت کے وقت ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں ۔ 

اپنی ہر بات ایک دوسرے سے شیئر کرتے ہیں لیکن یقین مانے نور مقدم کا کیس سامنے آنے کے بعد تو ان باتوں پر اعتبار ہی نہیں رہا۔ نور نے تو سوچا بھی نہیں ہوگا کہ اس کا دوست ،دوست نہیں بلکہ آستین کا سانپ ثابت ہوگا ۔اُس کے ساتھ بھیڑیوں والاسلوک کرے گا، اُس کو کیا معلوم تھا کہ وہ اپنے گھر میں اس کے ساتھ کیا ظلم کرنے والا ہے۔ 

حیرت تو اس بات کی ہے جب نور پر تشدد کیا جارہا تھا تو اس کے ملازمین گھر میں موجود تھے ،اُس وقت اُس کو بچانے کے لیے کسی کی غیرت کیوں نہیں جاگی، ان لوگوں کی انسانیت کہاں مر گئی تھی ۔نور نے اپنی جان بچانے کے لیے ننگے پاؤں بھاگنے کی کوشش کی لیکن چوکیدار نے باہر جانے نہیں دیا، اس نے ظاہر جعفر سے معافیاں بھی مانگیں لیکن اس درندے کو کوئی فرق نہیں پڑا۔

ابھی ان بہیمانہ قتل کی باز گشت ختم نہیں ہوئی تھی کہ ٹنڈوآدم کی عنبرین کواس کے شوہر نے زندہ جلا دیا ۔اسی دوران وہاڑی سےراولپنڈی آنے والی بھکارن نسیم بی بی کو ملزم واجد نے ایک ویران جگہ لے جاکراس کا ریپ کرنے کے بعدچاقو سے وار کر کے اس کے بچے اور اس کو قتل کر دیا۔ شہداد کوٹ میں انیس سالہ نذیراں اپنے دیور کے ہاتھوں قتل ہوئی ۔آخر کب تک خواتین پر ظلم وتشدد کی جنگ جاری رہے گی ؟اب اس ظلم کو ختم ہوجانا چاہیے ۔پتا نہیں ان بھیڑیوں کو فوری طور پر موت کی گھاٹ کیوں نہیں اتا را جاتا۔ ہم کب حوا کی بیٹیوں کے مجرموں کو سزا دلوائیں گے ؟

انتہا تو یہ ہے کہ یہ درندے ظلم کرنے کے بعد آزادی سے دندانتے بھرتے ہیں، انہیں کسی کا کوئی ڈر خوف نہیں ہوتا ۔اور ایسا کیوں ہے ،کیوں کہ انہیں بہت اچھے سے معلوم ہے ہمارے ملک میں اس جرم کے قوانین تو ہے لیکن سزا ملنا اتنا آسان نہیں ۔یہی چیز تشدد کے واقعات بڑھانے میں اہم کردار ادا کررہی ہے ۔ اس طر ح کے واقعات سننے اور پڑھنےکے بعد عقل یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ کیا ہم واقعی انسانوں کے معاشرے میں رہتے ہیں ؟کیوں کہ پے در پے اس طر ح کے واقعات سامنے آنے کے بعد تو لگتا ہے ہم بھیڑیوں اور حیوانوں کے گرد جی رہے ہیں ۔

عورتوں پر اس طرح تشدد کوئی انسان تو نہیں کرسکتا۔ ایسا لگتا یہ درندے ہیں جن کو روٹی کے نوالے ملے جارہے ہیں لیکن ان کی ہوس ہے جو پوری ہی نہیں ہو رہی ہے۔ کم وپیش ہر اخبار کے صفحے اول پر خواتین پر بہیمانہ تشدد کی شہ سر خیاں ہر روز موجود ہوتی ہیں۔ سرخی پڑھنے کے بعد پوری خبر پڑھنےکی ہمت دم توڑ دیتی ہے ،کیوں کہ ہر خبر میں اندوہناک منظر سمایا ہوا ہوتاہے۔ ہر واقعہ ایسا ہے ،جس سے نظر یں چرانا بھی انسانیت کو گوار نہیں لیکن جنہیں پور ی طر ح بیان بھی نہیں کیا جاسکتا۔

یقینی اور بے یقینی کی کیفیت میں ایک ہی سوال کی تلوار سروں پر لٹک رہی ہے، کیا واقعی یہ انسانوں کا معاشرہ ہے ؟ بہ حیثیت قوم ہم انسانیت کے معیار پر پورے اترتے ہیں؟ سیانے کہتے ہیں کسی بات کو لکھنے یا کہنے کے لیے سب سے اہم کام بات کا سرا تلاش کرنا ہوتا ہے ،اس کے بعد آسانی سے بات کو آگے بڑھا لیا جاتا ہے ۔لیکن اس طر ح کے دل خراش واقعات کو بیان کرنے کے لیے سرا تلاش کرنا ہی سب سے مشکل کام ہے ۔ان کو بیان کرنے کے لیے قلم بھی ساتھ نہیں دیتا ۔سمجھ نہیں آتا کن جدباتی اور سخت الفاظوں کا استعمال کیا جائے، جن سے ان درندوں کے دل موم ہو جائیں اور ان دو پیروں والے بھیڑیوں کی انسانیت جاگ جائے ۔

یہ صورت ِحال صرف پاکستان میں نہیں بلکہ مغربی ممالک میں بھی ہے ۔بظاہر تو ہمیں لگتا ہے کہ وہاں کی عورت بہت آزاد ہے ،وہ جیسے چاہے زندگی گزار سکتی ہے ۔ اس کو کسی قسم کی روک ٹوک کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ،حالاںکہ حقیقت اس کے برعکس ہے وہاں بھی عورت پر ظلم وتشدد کی تلوار لٹکتی رہتی ہے ۔بربریت کی چکی میں مغربی عورت بھی پستی رہتی ہے۔ رواں سال فرانس اور سویڈن میں39 خواتین اپنے ساتھی کے ہاتھوں قتل کی گئی ۔

اکتیس سالہ فرانسی خاتون شینیز کے شوہر نے پہلے اس کی ٹانگ پر گولی مار کر زخمی کیا اور پھر آگ لگادی ۔فرانس میں حقوق نسواں کی تنظیم 'لا فاؤنڈیشن دیس فیمینیس کی رپورٹ کے مطابق اپنے ساتھی کے ہاتھوں قتل ہونے والی خواتین میں ایک تہائی وہ عورتیں شامل ہیں، جنھیں آتشیں اسلحے سے قتل کیا جاتا ہے۔ جب کہ دوسری جانب سویڈن میں پانچ ہفتوں میں مختلف وجوہات کی بنا ء پر چھ خواتین کو قتل کیا گیا۔ لیکن ان تمام قتل کے واقعات میں ایک بات مشترکہ تھی کہ جن مردوں کوپولیس نے حراست میں لیا ،ان کے مقتولہ عورتوں سے قریبی تعلقات تھے ۔ان میں دوخواتین کو سر ِعام قتل کیا گیا تھا۔

خواتین کے خلاف تشدد اور دیگر جرائم کی روک تھام کے لیے ملک میں کئی قوانین تو بنائے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود تشدد کے واقعات کا مسلسل بڑھنا تشویش کا سبب بن رہا ہے اصل مقصد ان قوانین پر عمل درآمد کروانا ہے، یہ قوانین صرف کتابوں میں یا صرف آرڈر میں ہی نظر نہیں آنے چاہیے۔ گھریلو تشدد و ظلم صرف کسی قانون سے ختم نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے ہمیں اپنے معاشرے کے اندر ایک مہم چلانے کی ضرورت ہے ،جس میں آگاہی دی جائے کہ ہماری بیٹیوں ،بہنوں کو بتایا جائے کہ آپ کے کیا حقوق ہیں؟ 

آپ اگر کسی جگہ شادی کر کے جا رہی ہیں تو آپ نے کن چیزوں کو مدّنظر رکھنا ہے اگر ہم ان چیزوں کے اُوپر عمل دآمد کریں گے تو ہم اس گھریلو تشدد جیسے عفریت پر قابو پا سکیں گے۔ ورنہ یہ چیزیں ہمیشہ ایسی ہی رہیں گی اور اگراس جنگ کے بادلوں کوختم کرنا ہے تو ہمیں ان پر قابو پانا ہوگا ۔ اب تو اس ظلم کو ختم کرنے کی جدوجہد خواتین کی ذمہ داری محسوس ہونے لگی ہے، کیوں کہ ریاست اور تنظمیں تواس کی روک تھام میں نا کام ہو چکی ہیں ۔اور نہ تاحال کوئی خاطر خواہ فیصلہ کرنے میں کام یاب ہوئی ہیں۔

لاک ڈاؤن کے دور ان تشدد کے واقعات میں اضافہ

کووڈ -19 آنے کے بعد اقوام متحدہ نے پیش گوئی کی تھی کہ لاک ڈائون میں خواتین پر تشدد کے 15 ملین اضافی واقعات سامنے آسکتے ہیں۔ افسوس یہ پیش گوئی سچ ثابت ہوئی او لاک ڈاؤن کے دوران خواتین پر تشدد کے اعداد و شمار میں کافی حد تک اضافہ ہوا۔ اس سے قبل عالمی ادارہ صحت نے اندازہ لگایا تھا کہ ہر تین میں سے ایک عورت کو اپنی زندگی میں مردانہ تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

اس سر زمین سے درندوں کا خاتمہ ضرور ہوگا

2005 ء میں اقوام متحدہ کی امن کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے نسائی امن تنظیم بیت شالم کی نمائندہ خاتون ،ٹیری گرین کا کہنا تھا کہ ’’اس وقت دنیا بھر میں ایک ہی نعرہ گونج رہا ہے ،’’عورتوں کو حقوق دو ،ان پر تشدد ختم کرواور مجرموں کو سزا دو ۔ لیکن افسوس اقوام متحدہ اپنی کوششوں میں ناکام ہوگئی ہے ، اس کے لیے آگے کیا کرنا ہے ،اب یہ سوچنا ہماری ہی ذمہ داری ہے ۔

عورتوں پر ظلم کے خلاف ہونے والی کانفرنس میں ٹیری گرین نے خطاب کرتے ہوئے کہا ،ہم عورتیں بربریت اور ظلم وتشدد سے نفرت کرتی ہیں اور ان ناانصافیوں اور صنفی تفریق کو جڑ سے ختم کردینا چاہتی ہیں ۔روز اول سے عورت کو مظلوم فرد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔اسی وجہ سے تشدد کے واقعات میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے ۔