• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر: پرویز فتح۔ لیڈز
آئین کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی سے انحراف کرنے والے ممالک کو تاریخ معاف نہیں کرتی، دنیا میں وہی معاشرے ترقی کرتے، مہذب و شائستہ کہلاتے اور عالمی سطح پر عزت و توقیر پاتے ہیں جہاں آئین کو نظامِ حکمرانی کا صحیفہ سمجھا جاتا ہو اور قانون پر عمل درآمد کی روایت کو مستحکم بنانے میں معاشرے کے تمام طبقات دیانت داری سے اپنا حصہ ڈالتے ہوں، بدقسمتی سے پاکستان 73 برس سے آئینی راستے سے کوسوں دوُر ہے اور واپسی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی،المیہ یہ ہے کہ ایک ڈپٹی سیکرٹری لیول کا پاکستانی افسر کشمیری عوام اور وہاں پر قائم کی جانے والی حکومت کو کنٹرول کرتا ہے اور کسی کو سوال اُٹھانے کی جرأت نہیں ہوتی، پاکستانی میں جو سیاسی پارٹی اقتدار میں آتی یا پھر حصہ دار بنتی ہے، کشمیر میں بھی اُنہیں کے کارندے حکومت بنا لیتے ہیں، ایسے حالات میں وہ کشمیر اور وہاں کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے کیا کر پائیں گی، اندازہ کیا جاسکتاہے، 1931ء میں میرپور میں مالیہ کی عدم ادائیگی کی تحریک کے دوران پہلی بار انگریز فوج نے قدم رکھا تو عوامی حقوق کی جدوجہد شدت سے جاری تھی اور 1939ء میں ریاست کے عوام کی آواز سنتے ہوئے اُنہیں پہلا آئین دیا گیا لیکن آج ہم جسے آزاد ریاست یا پھر آزاد حکومت کہتے ہیں وہاں آئین نہیں بلکہ ایک ایکٹ نافذ ہے اور ہم سب اُسی ایکٹ کے تلے زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں، نہ کوئی بولنے کے جرأت کرتاہے اور نہ کوئی سننے والا ادارہ ہے، جب 1966ء میں میرپور میں چند نوجوانوں نے مل کر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی تو اُسے بڑی تیزی سے پورے آزاد کشمیر میں پزیرائی ملی، اُس کے پلیٹ فارم پر ہر شہر میں تنظیم سازی ہونے لگی اور نوجوان منظم طریقے سے سیاسی عمل کا حصہ بننے لگے، اِس کے قیام میں جاوید نظامی، عبدالمجید، ممتاز راٹھور اور دیگر روشن خیال ساتھیوں کا اہم کردار رہا، یہ این ایس ایف، پاکستان کی این ایس ایف کا حصہ نہ تھی اور یہ اپنے آزادانہ تشخص کی وجہ سے اِس قدر مقبول ہوئی کی آزاد کشمیر کے وزیر اعظم اُسے واحد اپوزیشن تصور کرنے لگے، جب بھی پاکستان میں ڈکٹیٹرشپ کا دور آتا تو رولنگ الیٹ اور ڈکٹیٹر اُسے توڑنے اور کمزور کرنے لگ جاتے، آج آزاد کشمیر میں متعدد ترقی پسند سیاسی جماعتیں موجود ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے وجود کو کم ہی تسلیم کرتی ہیں، پاکستان میں بالا دست طبقات نے ملک اور اِس کے عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے،ملک میں مذہبی کارڈ استعمال کر کے ایک طرف لوگوں کو بھڑکایا جا رہا ہے تو دوسری طرف حکومت میں بیٹھے لوگ اُسی مذہبی کارڈ کو استعمال کرتے ہوئے عوام کی توجہ اُن کے اصل مسائل سے ہٹانے میں مصروف ہیں، ملک میں سٹیٹس کو، کو قائم رکھنے والی قوتیں، باالخصوص جاگیردار ایک بیٹے کو فوج میں بھیجتے ہیں تو دوسرے کو سول بیوروکریسی میں بھیج دیتے ہیں، اب تو وہ چھوٹی موٹی صنعت لگا کر شہری اشرافیہ بھی بن چکے ہیں، پاکستان میں ترقی پسند سیاست 1960ء کی دہائی میں پنپی اور ہر شہر میں انقلاب زندہ باد کے نعرے لگنے اور سُرخ پرچم لہراتے کارکن شہروں میں نظر آنے لگے، ملک میں نیشنل عوامی پارٹی کا قیام بہت ہی مثبت عمل تھا جو مشرقی پاکستان سمیت ملک بھر میں ایک مضبوط اور منظم سیاسی جماعت بن کر اُبھری تھی، اُسی کی بدولت صوبائی خود مختاری، سامراجی شکنجے سے آزادی اور غیر جانبدار خارجہ پالیسی ملکی سیاست کا حصہ بنتی نظر آنے لگی جس نے ملک میں نوآبادیاتی باقیات کو چیلنج کیا، بدقسمتی سے یہ پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ورنہ آج پاکستان کا جغرافیائی اور سیاسی نقشہ مختلف ہوتا، ملک میں شفاف سیاسی عمل جاری ہوتا جِس کی بدولت اختلاف رائے کو سننے اور برداشت کرنے کا ماحول ہوتا، نہ ملک ٹوٹ کر بنگلہ دیش بنتا، نہ بار بار مارشل لا لگتا اور نہ ہی مذہبی شدت پسند گروپ بننے کی نوبت آتی، یہ امر انتہائی تکلیف دہ تھا کہ چین، سوویٹ یونین اختلافات اور نیشنل عوامی پارٹی میں سوشلسٹوں اور قوم پرستوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات نے نیشنل عوامی پارٹی کا شیرازہ بکھیر دیا۔ بہت سے ترقی پسند کارکن مایوس ہو کر گھر بیٹھ گئے یا پھر دائیں بازو کی جماعتوں میں شامل ہو گئے اور اُس کا فائدہ پیپلز پارٹی کو پہنچا۔ جِس سیاست کو ترقی پسندوں نے اپنے خون پسینے سے پروان چڑھایا تھا اُس کا پھل مسٹر بھٹو نے کاٹا۔بد قسمتی یہ ہے کہ سیاست میں شخصیت پرستی آگئی ہے اور یہ ترقی پسندوں میں بھی سرائیت کر چکی ہے جِس کی بنیادی وجہ شاید ملک میں جمہوی روایات کا فقدان ہے۔ ہم اپنی تحریکوں میں حقیقی لیڈرشپ کو کیوں نہیں اُبھرنے دیتے، آج ملک میں ایک منظم، متحرک اور قابلِ عمل ترقی پسند تحریک پیدا کرنے کے لیے ملکی سیاسی ڈھانچہ، معیشت، پیداواری رشتوں اور سماجی رویوں کا تفصیلی تجزیہ کر کے ایک متحدہ انقلابی تحریک پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔عوامی ورکرز پارٹی کا وجود قابلِ تحسین ہے مگر ابھی اور بہت کچھ کرنا ہو گا کیونکہ ابھی تک ملکی سطح پر بائیں بازو کی ایسی کوئی سیاسی جماعت ابھر کر سامنے نہیں آئی جو عوام کو قیادت فراہم کر سکے۔ ملکی عوام غربت، مہنگائی، بےروزگاری اور بیماریوں کی وجہ سے بُری طرح سے پِس رہی ہے اور قیادت کے لیے منتظر ہیں۔ اِس وقت ملک کو سماجی تبدیلی برپا کرنے والے قوت کی ضرورت ہے جس کی قیادت صرف ترقی پسند تحریک ہی پیدا کر سکتی ہے۔ (یہ گفتگو سابق چیف جسٹس آزاد کشمیر جسٹس ریٹائرڈ محمد اعظم خان نےعوامی ورکرز پارٹی کی بریڈ فورڈ میں منعقدہ استقبالیہ تقریب میں کی)
یورپ سے سے مزید