• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنوبی کوریا، اسکویڈ گیم اسمگل کرنے والے شخص کو گولی مار دی گئی

سیؤل(مانیٹرنگ ڈیسک)نیٹ فلکس پر ’اسکویڈ گیم‘ کا پہلا سیزن مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ چکا ہے ، غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق کم جونگ ان کی حکومت کا کہنا ہے کہ سیریز نے جنوبی کوریا کے سرمایہ دارانہ نظام کو فروغ دیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق نیٹ فلکس سیریز اسکویڈ گیم کی اسمگلنگ کے الزام میں ایک شخص کو گولی مار دی گئی ہے ، یہ شخص مبینہ طور پر پین ڈرائیو کے ذریعے شو کو چین سے جنوبی کوریا لایا تھا، جسے ہائی اسکول کے طلبہ کے ساتھ شیئر کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس شو کو دیکھنے والے طلبہ، اسکول پرنسپل اور اساتذہ کو بھی سزا سنائی گئی ہے اور ایک طالبِ علم کو عمر قید اور دیگر کو 5 سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق طلبہ کے علاوہ اسکول کے پرنسپل، یوتھ سیکریٹری اور اساتذہ کو بھی سزا دی گئی ہے اور اُنہیں اِن کے عہدوں سے برطرف کر دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ جنوبی کوریا میں فلمائی گئی یہ سیریز نو اقساط پر مشتمل ہے، اس سنسنی خیز ڈراما سیریز میں قرض میں ڈوبے لوگوں کو3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر جیتنے کا لالچ دے کر بچوں کے کھیل کھلائے جاتے ہیں اور ہارنے والے کو گولی مار دی جاتی ہے۔فرنٹ میں اس سیریز کا وہ کردار ہے جوا ’سکوئڈ گیم‘ کروا رہا ہے اور اس کا بھائی ایک پولیس والا ہے جو اس گروہ کو پکڑنے کی کوشش کررہا ہے۔سیریز کا مرکزی کردار ’جی ہن‘ پہلے سیزن کے آخر میں امریکا کی فلائٹ چھوڑ کر واپس ’سکوئڈ گیم‘ میں حصہ لینے کی سوچتا ہے اور وہیں اس کی نویں اور آخری قسط کا اختتام ہوجاتا ہے۔

دل لگی سے مزید