• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جناح اسپتال شعبہ امراض سینہ، آکسیجن مانیٹرز غیرفعال، ادویہ نایاب، صفائی کا ناقص نظام، بلیوں کی بھرمار

کراچی (بابر علی اعوان / اسٹاف رپورٹر) جناح اسپتال کراچی کا شعبہ امراض سینہ تباہی متعددمسائل کی آماجگاہ بن گیاہے۔ سرنج سے پین کلر اور اینٹی بائیوٹک ادویات تک ناپید ، ڈرپس سے انجکشن اور پیشاب کی نلکیاں تک باہر سے منگوائی جاتی ہیں۔ وارڈ کے بستروں پر چادریں نہیں، بلیوں کی بھرمار ہے جو بستروں سے ڈاکٹر کے کاؤنٹر تک پر بیٹھی نظر آتی ہیں ۔ وارڈ کو ناتجربہ کار ہاؤس آفیسر کے سپرد کر دیا گیا ہے ، رات میں ڈیوٹی دینے والے پوسٹ گریجویٹس مریضوں کا معائنہ تک کرنا گورار نہیں کرتے۔ صرف 2 نرسوں سے پورے وارڈ کو چلایا جارہا ہے۔ سانس کی تکلیف میں مبتلا مریضوں کے خون میں آکسیجن کی مقدار معلوم کرنے کے لئے صبح شام کرائے جانے والے آرٹیرئل بلڈ گیسز (اےبی جیز) ٹیسٹ کی مشین بھی وارڈ میں نصب نہیں ۔ مریضوں کو پیشاب کی نلکیاں لگانے والا نرسوں کا کام بھی ہاؤس آفیسر سیکھنے کے لئے خود کرتے نظر آتے ہیں جس سے مریضوں کو شدید اذیت ہوتی ہے۔ وارڈ میں آکسیجن کے کئی پوائنٹس اور نصب کیے گئے جدید مانیٹرز غیر فعال ہیں جبکہ باتھ روم گندگی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ۔ وارڈ کی بد حالی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وارڈ میں رکھے گئے چولہے سے گیس کی لیکیج کے باعث گزشتہ روز آگ بھڑکی جس سے ایک مریضہ کی تیماردار کے عبائے کا کچھ حصہ جل گیا تاہم وہ محفوظ رہیں،واقعہ کوکسی نے کوئی نوٹس نہیں لیا نہ ہی چولہے اور گیس کی لیکیج کو ٹھیک کیا گیا جو کسی بڑے حادثے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جناح اسپتال کا شعبہ امراض سینہ پاکستان کے بہترین شعبہ جات میں سے ایک تھا۔ پاکستان میں پہلی بار کسی سرکاری اسپتال میں سینے کے مریضوں کے لئے مخصوص آئی سی یو جناح اسپتال کے شعبہ میں قائم کیا گیا ۔ملک کے مشہور و معروف اور مایہ ناز ماہرین امراض سینہ نے وارڈ میں مریضوں کی خدمت کی لیکن پروفیسر ندیم رضوی کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے وارڈ روبہ زوال ہے۔  اس سلسلے میں   شعبہ امراض سینہ کی سربراہ ڈاکٹر نوشین سے استفسار کیا گیا تو انہوں نے موقف دینے سے انکار کر دیا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف اپنے ایگزیگیٹیو ڈائریکٹر کو جواب دہ ہیں ان کا کوئی موقف نہیں ۔ 

شہر قائد/ شہر کی آواز سے مزید