• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی چڑیا گھر میں سفید شیر کی ہلاکت پر شنیرا شدید برہم

سماجی اور  معاشرتی مسائل پر ہمیشہ اپنی آواز بُلند کرنے والی شنیرا اکرم نے کراچی چڑیا گھر میں سفید شیر کی ہلاکت پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شنیرا اکرم نے کراچی چڑیا گھر میں سفید شیر کی ہلاکت پر ردّعمل دیا۔

شنیرا اکرم نے کہا کہ ’وہ مر گیا کیونکہ ہم اس کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے تھے۔‘

اُنہوں نے کہا کہ ’چڑیا گھر ایک ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں جانور تحفظ، اسپتال میں داخل، بحالی، تفریح اور افزائش کے لیے جائیں اور پھر کم از کم، لوگ ان کا مشاہدہ کرنے جا سکتے ہیں۔‘

وسیم اکرم کی اہلیہ نے شدید غصے کے انداز میں کہا کہ ’یہ چڑیا گھر نہیں بلکہ جانوروں کی جیلیں ہیں۔‘

واضح رہے کہ کراچی زو میں موجود نایاب نسل کا سفید شیر 20 دن بیمار رہنے کے بعد آخر کار مرگیا، چڑیا گھر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شیر نمونیا کا شکار تھا اور نہایت کمزور ہونے کے باعث دوران علاج مر گیا۔

چڑیا گھر انتظامیہ کے مطابق نایاب نسل کے اس سفید شیر کو افریقا سے 2012 میں درآمد کیا گیا تھا، شیر کو اُس وقت ایک کروڑ روپے کی خطیر رقم ادا کر کے لایا گیا تھا، شیر کی عمر 14 سے 15 سال تھی۔

دوسری جانب کراچی چڑیا گھر میں پیش آنے والا واقعے پر محکمہ بلدیات سندھ نے کارروائی کرتے ہوئے غفلت کے مرتکب افسر خالد ہاشمی کو معطل کردیا ہے۔

محکمہ بلدیات کے جاری کردہ نوٹیفیکشن کے مطابق مذکورہ افسر کی غفلت کے باعث چڑیا گھر میں سفید شیر ہلاک ہوگیا تھا۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید