• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی سمٹ، اہم ممالک نظرانداز، گمنام مدعو، فہرست خارجہ پالیسی سے متصادم

نیویارک (تجزیہ:عظیم ایم میاں) امریکی صدر بائیڈن نے دُنیا کے 110 ممالک کو ’’ورچوئل ڈیموکریسی سمٹ‘‘ میں شرکت کیلئے مدعو کر لیا ، 9 دسمبر کو شروع ہونے والی اس دو روزہ سمٹ میں اُن ممالک کو مدعو کیا ہے جنہیں امریکی صدر جمہوری سمجھتے ہیں لیکن امریکی محکمہ خارجہ کی جاری کردہ لسٹ کا جائزہ لینے پر متعدد تضادات اور ابہام کے علاوہ امریکی خارجہ پالیسی سے تضاد بھی نظر آتا ہے،اس سمٹ میں اہم ممالک نظرانداز اورگمنام مدعوکیے گئے ہیں،بنگلہ دیش اور سری لنکا جمہوریت کے باوجود نظرانداز، پاکستان چین سے صلاح مشورہ کرلے تو بہتر ہوگا۔ پاکستان، نیپال اور بھارت کو مدعو کیا گیا ہے لیکن پارلیمانی نظام والے بنگلہ دیش اور سری لنکا کو اس سمٹ میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی اگر اسے صرف اہم جمہوری ممالک کی سمٹ کا مؤقف اپنایا جائے تو اس میں 10 ایسے ممالک کوبھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے جن کے ناموں سے بیشتر دُنیا واقف بھی نہیں اور نہ ہی اُن کی آبادی زیادہ ہے۔ ٹونگا، وانوآٹو، ٹوالو، کابوورڈی، سیموا، پلاوو، مارشل آئی لینڈ جیسے چھوٹے اور قدرے گمنام ممالک بھی مدعو کئے گئے ہیں تا کہ ایک ملک، ایک ووٹ اور ایک رائے کا فائدہ اُٹھایا جا سکے۔ مذکورہ ممالک 193 رُکن ممالک کی اقوام متحدہ کے ممبر بھی ہیں۔ اس ’’ورچوئل ڈیموکریسی سمٹ‘‘ کا سب سے اہم اور متنازع پہلو یہ ہے کہ امریکا ایک چین کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور تائیوان کو تسلیم نہیں کرتا جبکہ چین تائیوان کے جزیرے کو چین کا علاقہ اور حصہ قرار دیتا ہے۔ لیکن امریکی صدر بائیڈن نے تائیوان کو بھی ایک ماڈل جمہوریت قرار دے کر اس کانفرنس میں مدعو کر لیا ہے۔ اس باعث چین کا برہم ہونا لازمی اَمر ہے۔ البتہ اس صورتحال نے چین کو ہمسایہ اور دوستانہ تعلقات کے حامل پاکستان کیلئے ایک چیلنج پیدا کر دیا ہے کہ تائیوان کو تسلیم نہ کرنے والا اور چین کا ہمسایہ اور قریبی دوست تائیوان بارے چین کے مؤقف اور حساسیت کو نظرانداز کر کے امریکی کانفرنس میں شرکت کرے گا؟ تائیوان کو مدعو کئے جانے پر چین پہلے ہی اپنے مؤقف اور ردعمل کا اظہار کر چکا ہے۔ پاکستان کے حکمران بلاشبہ شرکت کی امریکی دعوت پر ضرور خوش ہوں گے لیکن تائیوان کو اپنا حصہ قرار دینے والے چین کی حساسیت کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔ بعض حلقوں کی رائے ہے کہ پاکستان کو شرکت کی دعوت کا مقصد پاکستان کو چین سے دُور کرنے کی امریکہ۔ بھارت مشترکہ چال ہے۔ بہتر ہوگا کہ پاکستان اس ڈیموکریسی سمٹ میں شرکت کا فیصلہ کرنے سے قبل چین سے صلاح مشورہ کر کے کوئی فیصلہ کرے۔ اس کانفرنس میں پورے مشرق وسطیٰ سے صرف اسرائیل اور عراق کو مدعو کیا گیا جبکہ مصر، اردن سے لے کر خلیجی ممالک سمیت کسی ملک کو شرکت کی امریکی دعوت نہیں دی گئی۔

اہم خبریں سے مزید