• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

؎’’ اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا، تو کیا غم ہے…کہ خونِ صد ہزارانجم سے ہوتی ہے سحر پیدا‘‘ یہ شعر پچیس سال پہلے استنبول میں ایک جلسے میں آغاجان کے خطاب میں سُنا تھا۔ اُس کے بعد سےجب بھی تُرکی جانا ہوا، تو یہ شعرایک نئے معانی کے ساتھ سحر کی امید دلاتا نظر آیا۔ ہم ہر مرتبہ تُرکی کو استعماری طاقتوں کی سازشوں کے باوجود ترقّی کی نئی منزلوں پر گام زن دیکھتے آئےہیںکہ آج کے کورونا وائرس کے دَور میں جب سائنس کا صدیوں پر محیط سفر رُکتا ہوا محسوس ہونے لگا ، لاک ڈاؤن، سماجی فاصلے، لیبارٹریزکے چکّروں اور ہوائی سفروں کی نِت نئی پابندیوں نے چلت پھرت محدود سے محدود تر کر دی ۔سفر کی صعوبتوں میں بہت اضافہ ہو گیا ، مگر زندہ قومیں ندی کی مانند ہوتی ہیں، جو اپنے لیے راستہ نکالنے کی ہر ممکن تدبیر کرہی لیتی،آگے بڑھنے کے لیے پوری قوّت لگاہی دیتی ہیں اور بظاہر جب رُکی بھی ہوتی ہیں، اُس وقت بھی اپنی مسلسل حرکت، جدّوجہد سے پتّھروں کے دل چیرنے میں مصروفِ عمل ہوتی ہیں۔اور، تُرک قوم کا شمار بھی ایسی ہی اقوام میں ہوتا ہے۔

کورونا وائرس کے عالمی پھیلاؤ سے قبل استنبول میں پوری دنیا میں القدس اور فلسطین کے لیے کام کرنے والی خواتین اور تنظیموں کومدعوکرکے ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا اورایک تنظیم ’’ کلنا مریم(ہم سب مریم ہیں)‘‘کی بنیاد رکھی گئی۔ چوں کہ حضرت مریم ؑ بیت المقدس کی خدمت اور دنیا بھر کی مظلوم عورتوں کے لیے مزاحمت، بہادری اور جدّوجہد کی علامت ہیں، اس لیے بیت المقدس اور اقصیٰ کی عورتیں اپنے آپ کو ’’مریمات القدس ‘‘ہی پکارنے میں فخر محسوس کرتی ہیں ۔

فلسطین کی مظلوم عورت نے حضرت مریم ؑکو اپنا رول ماڈل بنارکھا ہے اور ان کی تقلید میں پُر عزم ہیں کہ وہ بیت المقدس کی خدمت کریں گی اور اس پر صیہونی قبضے کے خلاف آخری سانس تک مزاحمت کرتی رہیں گی۔ رواں سال صدر اردوان کی اہلیہ ،ایمنے اردوان اور ان کی بیٹی سمیہ اردوان کی میزبانی میں ’’کلنا مریم ‘‘کی دوسری بین الاقوامی کانفرنس کا کا انعقاد کیا گیا، جس کا عنوان تھا کہ’’ القدس کی مریمات کی قندیلوں کی روشنی کبھی مدّھم نہیں پڑتی۔ ‘‘بیت المقدس تمام آسمانی مذاہب کی عقیدتوں کا مرکز ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ قبلہ اوّل ہونے کے ساتھ عقیدے کا جزو بھی رہا ہے۔

تقریباً ڈیڑھ سال تک حضورﷺ کی امامت میں اس کی طرف نماز پڑھی گئی۔ انھوںؐ نے سفرِمعراج بھی یہیں سے کیا۔ یہاں پر انبیاؑ کی نماز کی امامت بھی کی اور ایک حدیث کے مفہوم کے مطابق حضرت اُمّ ِسلمہؓ کو ہدایت کی تھی کہ بیت المقدس کے چراغوں کے لیے تیل بھیجنے کا اہتمام کرو اور روئے زمین پر حرمین شریفین کے بعد یہ تیسری مسجد ہے کہ جس کے لیے سفر کرنا ثواب ہے۔اسی لیے دنیا بھر کے مسلمان مسجدِ اقصیٰ کو صرف عرب ممالک کا مسئلہ نہیں ،کُل اُمّت کا مسئلہ اور درد سمجھتے ہیں۔

کانفرنس میں پاکستانی اسٹال کی ایک جھلک
کانفرنس میں پاکستانی اسٹال کی ایک جھلک

بہر حال، ہم 15 اکتوبر 2021 ء کو استنبول کے خُوب صُورت شہر پہنچے۔پاکستانی وفد 17افراد پر مشتمل تھا،جس میں ہم چار افراد پاکستان سے، چھے پاکستانی ،یورپ سے اور سات افراد تُرکی سے شامل تھے۔کانفرنس میں 25 ممالک سے 500 وفود نے شرکت کرکے فلسطین اور القدس کی خواتین اور بچّوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کا عزم کیا۔کانفرنس کا افتتاح دنیا بھر سے آئی ہوئی خواتین کی دست کاریوں سے سجی نمائش سے ہوا۔ جس کے بعد افتتاحی سیشن منعقد ہوا، جس کی مہمانِ خصوصی ،ایمنے اردوان تھیں، جو اپنی بیٹی سمیہ اردوان کے ساتھ شریک ہوئیں۔

انھوں نے پاکستانی اسٹال سے بھی خریداری کی اور اسےخُوب سراہا۔پاکستانی اسٹال پر اندرونِ سندھ سے پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کی ڈاکٹر نور النساء کی لائی ہوئی اجرکیں، تنکوں سے بنی ٹوکریاں،پنکھیاں، اسماء رضوان کی لائی شالیں اور افشاں نوید کی تیار کردہ میٹھی ٹکیاں توجّہ کا مرکز بنی رہیں۔یہی نہیں، کراچی سے فریحہ مبارک کی بنائی جیولری بھی ایمنے اردوان کو بے حد پسند آئی۔

کلنا مریم تنظیم کی صدر، قطر کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی ھندالمطوع نے کانفرنس کے شرکا کا شکریہ ادا کیا کہ کورونا کے اس دَور میں بھی سب نے دُور درازکا سفر طے کرکے کانفرنس کو رونق بخشی۔ایمنے اردوان اپنے خطاب میں اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پاتیں اور فلسطینی بچوں اور خواتین پر اسرائیلی مظالم کا تذکرہ کرتے کرتے رو پڑتیں۔ ان کے خطاب میں ممتا کا جذبہ صاف جھلک رہا تھااور وہ اپنے خطاب میں بار بار اقوامِ عالم کو جھنجھوڑ رہی تھیں کہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں۔ہم نے پاکستان کی طرف سے فلسطین سے محبّت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ’’ اس کانفرنس نے پھر سے اُمّت کا تصوّر زندہ کر دیا ہے۔ 

تُرکی کی خاتونِ اوّل، فلسطینی عوام کی حالتِ زار پر آبدیدہ ہیں
تُرکی کی خاتونِ اوّل، فلسطینی عوام کی حالتِ زار پر آبدیدہ ہیں

ہم مختلف علاقوں اور زبان و تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں، مگر یہ فرق ہمیں آپس کی وحدت سے نہیں روک سکتا۔ ہم ایسے دَور میں رہ رہے ہیں، جہاں مشرق ہو یا مغرب ، دنیا کو واضح طور پر ایک اچھے پیغام اور اچھی قیادت کی ضرورت ہے۔ ہمیں انسانیت کو اپنی اعلیٰ اقدار منتقل کرنی ہیں۔‘‘ کانفرنس کے سیشن میں انڈونیشیا ، قطر ، پاکستان ، لبنان ، اردن ، ترکی اور فلسطین کے نمایندوں نے اپنے پُرجوش خطابات میں القدس کی مریمات سے اظہارِ یک جہتی کیا اور دنیا بھر کے بچّوں نے بذریعہ ویڈیوز مسجدِ اقصیٰ کے صحن سے فلسطینی، کشمیری ، شامی ، افغانی ، عراقی اور روہنگیا کے بچّوں کو اپنی محبتوں کے پیغام پہنچائے۔ 

وہ بڑے جذباتی مناظر تھے، جب بڑی تعداد میں بچّوں نے مختلف ممالک کے جھنڈے اُٹھا کر اسٹیج پر ترانے گائے۔ ہم نے پاکستانی جھنڈے تھامے بچّوں کے ساتھ اظہارِ محبت کیا، تو پاکستانی وفد بھی اپنے جھنڈے کو دیکھ کر دُور نہ رہ سکا اور ساتھ کھڑے ہو کر تصویریں بنوائیں۔یورپ کے مختلف ممالک سے آئی پاکستانی بہنیں ساجدہ ، غزالہ ، میمونہ ، شازیہ ، عائشہ غازی اور ترکی کی بہنیں نادیہ اور طاہرہ کانفرنس میں پاکستان کی بھرپور شرکت کا احساس دلاتی رہیں ۔ یقین جانیں، ایسے مواقع پر’’پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الااللہ‘‘ کا مطلب بہت ہی اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے، جب ہر مُلک کے لوگ پاکستانی نمایندوں کی پذیرائی کرتے اور انہیں خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔ کانفرنس کے دوران فلسطینی رہنما ،خالد مشعل کی اہلیہ ہمیں ڈھونڈتے ہوئے آئیں اور انتہائی پُرتپاک انداز سے ملیں، تو آغا جان یاد آگئے۔

ہمارے آغا جان نے ساری عمرجو محبتوں کے بیج بوئے، اب ہم اس قدر عزت و پذیرائی کی صُورت اس کا ثمر کھا رہے ہیں ۔ خیر، ہم نےخالد مشعل سے حلقۂ خواتین ،جماعتِ اسلامی کا تعارف کروایااور دردِ مشترک ، قدرِ مشترک کی بنیاد پر آگے کا سفر طے کرنے کی منصوبہ بندی کی اور مغرب کی نماز آیا صوفیہ کی تاریخی مسجد میں ادا کرنے کے لیے روانہ ہوگئے ۔ہم پچھلے 25 سال سے اس تاریخی عمارت کی زیارت کر رہے ہیں اور اس کے پیچھے قائم ایک چھوٹی سی مسجد میں نماز بھی ادا کر رہےہیں،لیکن اب جب کہ اس کی فضاؤں میں دوبارہ اذانیں گونجنے لگی ہیں ،تو یہاں سجدہ اداکرنے کا لُطف ہی کچھ اور تھا۔بعد ازاں، عشاء کی نماز نیلی مسجد میں ادا کی اور کھانا کھا کر ہوٹل کی راہ لی۔

اگلے دن کانفرنس میں ارطغرل کا ترانہ پڑھنے والے نوجوان نے محفل کو پُر جوش ترانوں سے رونق بخشی ۔ الجزیرہ کے ایک ماہرِ ابلاغیات نے اپنے مقاصد سوشل میڈیا کے ذریعے اُجاگر کرنے کی تربیتی ورک شاپ کروائی، جو ہمیں توبے حد مفید لگی۔ انہوں نے دجل ، فریب اور جھوٹ کی دنیا میں سچ کو ثابت کرنے کے طریقے بھی سکھائے اور سوشل میڈیا کے جھوٹ کا پردہ چاک کرنے کی آگہی بھی دی۔ فنڈ ریزنگ ڈنر میں اقصیٰ فنڈ جمع کیا گیا۔ مختلف تنظیموں نے اپنی اشیا فروخت کے لیے پیش کیں اور اس کی آمدنی اقصیٰ فنڈ میں جمع کروائی۔ فنڈ ریزنگ ڈِنر میں ہمیں میزبان ،عائشہ گل کی طرف سے مسجدِ اقصیٰ کے ماڈلز بھی پیش کیے گئے ۔ 

فلسطینی نمایندوں نے پاکستانی وفد سے خصوصی ملاقات کی اور شرکت پر شکریہ بھی ادا کیا۔کانفرنس کے اختتام پر بحری بجرے میںباسفورس ، شاخِ زریں اور مرمرہ کے پانیوں کی سیر کروائی گئی۔جہاں ہم نے پہلی مرتبہ پُرتکلّف ظہرانے کے ساتھ قونیہ سے آئے درویشوں کا صوفیانہ کلام سُنااور رقصِ درویش بھی دیکھا۔ دو درویش لمبی سفید عباؤں میں آنکھیں بند کیے،ذات کی گہرائیوں میں سکوت کے ساتھ دائروں میں گھوم رہے تھے۔یہ رقص ،رومی سےاظہارِ محبت کا طریقہ ہے ،جو ترکی کی تہذیب میں آٹھ سو سال سے جاری و ساری ہے ۔

مرمرہ کا ساحل ویسے بھی اپنی فسوں انگیز خُوب صُورتی سے مسحور کر دیتا ہے اور جب چاروں طرف خُوب صُورت پُر شکوہ عمارتیں،صاف نیلا پانی اور مساجدکے مینار نظر آتے ہیں، تو اس ماحول کا سحر کچھ زیادہ ہی وجد آفریں ہوجاتا ہے۔وہاں سے فارغ ہو کر تُرکی کے سابق وزیراعظم، استاد نجم الدّین اربکان کے دستِ راست ،اوزہان اصیل ترک کی رحلت پر سعادت پارٹی کے دفتر تعزیت کے لیے گئے۔ ان کی بہو،ناگہان اصیل ترک نے، جو کہ سعادت پارٹی کی استنبول کی صدر بھی ہیں،دفتر کا دَورہ بھی کروایا۔ ساتھ دیگر اُمور پر بھی تبادلۂ خیال ہوا۔

اگلے روز تُرکی کی اقتصادیات اور کلچر پر کام کرنے والی ایک این جی او ILKE کے دفتر میں ایک مباحثے میں شرکت کی، جس کا عنوان تُرک صدر، رجب طیب اردوان کا مشہور سلوگن ’’ Strong Families Build Strong Socieites"‘‘تھا۔بعد ازاں خُوب صُورت جام لجا مسجد میں نماز پڑھنے گئے۔رات میں تو یوں بھی استنبول کا حُسن جوبن پر ہوتا ہے۔ جِھل مِل کرتی دیدہ زیب عمارتیں، روشنیوں سے مزیّن ایشیااور یورپ کو ملانے والا معلّق پُل،پانی میں عمارتوں کا عکس اور میناروں سے بلند ہوتی اذانوں کی گونج…اُف!یہ مناظر واقعتاً اسلامی تہذیب کے شان دار عکّاس معلوم ہوتے ہیں۔استنبول کے بعد انقرہ میں’’ ملی گوروش‘‘کے، جو تُرکی کی ملّی تحریک سمجھی جاتی ہے،زیرِ اہتمام استاد نجم الدّین اربکان کے سمپوزیم میں شرکت کی، جو مختلف تِھنک ٹینکس، یونی وَرسٹیز اور سعادت پارٹی کے زیرِ اہتمام منعقد کیا گیا تھا۔

استاد کی بیٹی،ایلف اربکان نے اپنے دفتر میں استقبالیہ دیا۔بعد ازاں، ان کے بھائی، فاتح اربکان کی نئی پارٹی ’’ ینی رفاہ پارٹی‘‘ کے دفتر کا دَورہ کیا ،ان کے خارجہ اُمور کے ذمّے دار، ڈوگان بیکن سے ملاقات اور انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی۔ سعادت پارٹی کی شعبۂ خواتین کی صدر، آبرو اصیل تُرک نے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی اور ہم نےخواتین کی ذمّےداریوں ، نئے چیلنجز اور ان کے حل کے ساتھ مضبوط خاندان میں عورت کے اہم کردار پر بات کی۔ نیز، پاکستان اور ترکی کی خواتین کے باہمی رابطے کی ضرورت پربھی زور دیا۔ 

اس کے بعد انہوں نے انقرہ کی تاریخی عمارات اور تاریخی مساجد کا دَورہ کروایا۔کمال اتاترک کا مقبرہ اور اسکولزکے ننّھے بچّوں کوتُرکی کی تاریخ،شان دار روایات سکھانے کا عملی مظاہرہ دیکھا۔ سعادت پارٹی کے صدر،استاد تمل کرم اور غلو کو جب خبر ہوئی کہ ہم ان کے دفتر آئے ہوئے ہیں، تو وہ اپنی پیرانہ سالی کے باوجودملنے چلے آئے۔ آغاجان کا ذکر کیا کہ ’’ہم انٹرنیشنل فورمز پر آج تک ان کی کمی محسوس کرتے ہیں۔ وہ ہر محفل میں اپنے اخلاص و کردار کی وجہ سے نمایاں رہتے تھے۔ اللہ ان کی برکتیں آپ پر قائم و دائم رکھے، آمین۔‘‘

تُرکی کے اس دَورے میں ملی گوروش کی تمام جماعتوں سے بھر پور ملاقاتیں رہیں۔ اللہ سے دُعا ہے کہ ترکی میں اسلام پسندوں کو اتحاد و اتفاق نصیب ہو اور اسلام کی نشاۃِثانیہ کا جو خواب ،علاّمہ اقبال نے دیکھا تھا ،اس کی تعبیر کا وقت قریب ہو۔

سنڈے میگزین سے مزید