• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امارات میں خواتین، گھریلوملازمین کے بہترتحفظ کیلیے نئی قانون سازی


متحدہ عرب امارات (یو اے ای)  میں نئے اور تازہ ترین جرم اور سزا کے قانون میں توثیق کردی گئی، یہ قانون سازی خواتین اور گھریلو ملازمین کے بہتر تحفظ کے لئے ہے۔

نئی قانون سازی کے مطابق ماورائے ازدواجی تعلقات پر پابندی اور سزا کو کم کیا گیا ہے، قانون 2 جنوری 2022 سے مکمل طور پر نافذ کیا جائے گا۔

عصمت دری کے جرم پر عمر قید کی سزا مقرر

عصمت دری کے جرم پر عمر قید کی سزا مقرر کی گئی ہے، جس کے مطابق  متاثرہ فرد  کی عمر اگر 18 سال سے کم ہو، معذور یا مزاحمت نہ کرنے کے قابل ہو تو ملزم کو سزائے موت بھی ہوسکتی ہے۔

نئے قانون میں غیر اخلاقی حملے کا جرم قید یا 10 ہزار درہم تک کی سزا ہوگی۔



متحدہ عرب امارات میں غیر مسلموں کیلئے نئے قوانین کی منظوری

اس سے قبل رواں مہینے کے آغاز میں متحدہ عرب امارات میں غیر مسلموں کے لئے نئے قوانین کی منظوری دی گئی تھی ، قوانین کی منظوری یو اے ای کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید آل نہیان نے دی تھی۔

عرب میڈیا کے مطابق نئے خاندانی قوانین ریاست ابوظبی میں مقیم غیر مسلم تارکین پر لاگو ہوں گے، خاندانی قوانین 20 سے زائد دفعات پر مشتمل ہیں جو نجی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتے ہیں۔

نئے قانون کی ایک شق شادی بیاہ اور طلاق کے قوانین پر مشتمل ہے، دوسری شق شوہر اور بیوی کے حقوق اور واجبات کے متعلق ہے، دوسری شق طلاق کی صورت میں جائیداد کی تقسیم اور مالی معاملات سے متعلق ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق تیسری شق میں طلاق کے بعد بچوں کی کفالت کے معاملات شامل ہے، قانون کی چوتھی شق وصیت اور وراثت کے متعلق ہے، ریاست میں مقیم غیر مسلم کو اپنی پوری جائیداد یا حصہ کسی کو وصیت کرنے کا اختیار ہوگا۔

عرب میڈیا کے مطابق غیر مسلموں کے خاندانی قوانین کے لیے عدلیہ کے تحت الگ یونٹ قائم کیا گیا ہے، عدالتی کارروائی عربی اور انگریزی زبان میں ہوگی، نئےخاندانی قوانین دنیا میں رائج قوانین کے مطابق تیار کیے گئے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید