• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حرف بہ حرف … رخسانہ رخشی،لندن
عمارات کا شہر آباد کرنے سے پہلے شہرخامشاں و خموشاں کو ذہن میں رکھ لینا نہایت ہی ضروری ہے، یہ جگہ آپ کو دنیا کی نہایت اہم حقیقت سے روشناس کراتی ہے کہ ایک آدمی نے دنیا کو اپنی مستقل آماج گاہ بناکر وہاں عیش و عشرت کی زندگی گزار کے آج گوشئہ تنہائی کو کفن پہن کر آباد کردیا اندھیر گور کو اور یہ ہی گور اب اس کی مستقل آماجگاہ ہے جسے اب اسے اپنے وجود کے ساتھ رہنا ہے۔حضور پاکؐ نے کبھی قبرستان جانے سے منع فرمایا مگر بعد میں اس کی ا جازت دی تھی کہ قبروں پر جایا کرو۔ عبرت کی جگہ ہے، یہ آخرت کی یاد دہانی کراتی ہے۔ آج دنیا کے ہر حصے میں عمارات کا جنون سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک عمارت شان و شوکت کے ساتھ کھڑی ملے گی۔ دنیاوی ترقی اب پرشکوہ بلند و بالا قسم کی عمارات کو ہی سمجھا جارہا ہے۔ غالباً اور یقیناً ہم تمام دنیا کی تمام قومیں اپنے اخلاقی تنزلی، زبوں حالی اور غرباء کی حالت سنوارنے کے لئے اس قدر کام نہیں کررہے جتنا کام ہم عمارات بنانے اور کہیں گرانے پر کررہے ہیں۔ آپ دیکھ لیجئے کہ شہر کے شہر بسے بسائے اور اپنی اپنی تاریخی حیثیت میں شان و شوکت رکھنے والے ممالک کیسے سپر طاقتوں کے عذاب و عتاب کا نشانہ بن کر نیست و نابود ہوئے۔ کسی بھی ترقی یافتہ سپر طاقت ملک نے تیسری دنیا کے عام لوگوں کے بارے میں سوچا اور اس بنا پر حملہ کیا کہ تم اپنے ملک کے عام شہری کی حالت بہتر نہیں کرسکتے تو ہم یہاں سرمایہ کاری کرکے یہ بیڑہ اپنے سر اٹھاتے ہیں۔ یہ سپر طاقتیں حالات کیا سنواریں گی، انہوں نے تو کئی بنے بنائے ملک ہی تباہ کردیئے۔ عمارات تباہ کیں۔ عوام کے جان اور مال و سامان نہ صرف تباہ کیے بلکہ انہیں کئی سال پیچھے دھکیل دیا۔بہت سے ممالک کو بارود کی بستی میں منتقل کردیا!۔خیر کسی عرب ملک نے بھی کسی پسماندہ مسلم ملک و قوم کی بھلائی کا کبھی نہیں سوچا۔ ویسے یہ ممالک بلند و بالا برج خلیفہ جیسی عمارات بنا رہے ہیں۔ جس کی اونچائی828میٹر ہے اور162منزلیں ہیں۔ دنیا کی اونچی ترین عمارت کے لیے سوچ بھی اونچی ہوتی ہے ان لوگوں کی مگر دینی لحاظ سے ان کی سوچ کو اونچا نہیں کہہ سکتے، ایک تو یہ کہ ہمسایہ ممالک غربت کی نچلی ترین سطح پر زندگی بے رونق اور پھیکی گزار رہے ہیں اور یہ لوگ عمارات اور شہروں کی وسعت و بلندی کا سوچ رہے ہیں کہ کیسے ہم جدید سے جدید تر ہوکر جیئں۔ قبریں تو جدید نہ کرسکیں گے کہ ان کا رواج اسلام آنے کے بعد سے اب تک شرعی اور حکم ربی کے مطابق ہے۔بات شہروں اور بلڈنگز کی ہورہی ہے تو کہنا پڑے گا کہ جتنے بھی عرب امارات کے بادشاہ ہوتے ہیں سب ہی کو عظیم سے عظیم تر عمارات کا شوق رہا ہے۔ چاہے وہ برج خلیفہ کے سلطان ہوں، جو برج خلیفہ جیسی عمارت کا شوق رکھیں یا پھر ’’کنگڈم ٹاور‘‘ جیسی عمارت بنوائیں مگر دنیا سے ان عمارات کی ایک اینٹ بھی لے کر جاکر قبر پر نہیں سجا سکتے۔سعودی ولی عہدنے ایک ایسے شہر کے بارے میں سوچا کہ جو یورپ کے کرتا دھرتا بھی نہ سوچ سکے کہ ایسا شہر تعمیر کیا جائے جس کی تعمیری بناوٹ کے اعلان میں شہزادہ فہد نے کہا تھا کہ اس میں کوئی شاہراہ نہیں بنے گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ2030ء تک اڑنے والی گاڑیاں ہوں اگر تفریحاً کسی نے ڈرائیونگ کرنا ہے تو ٹھیک ورنہ ٹرانسپورٹیشن کے لیے نہیں۔ اس شہر میں ایک مصنوعی چاند کی تجویز بھی رکھی تھی۔اس شہر کی بناوٹ کوئی دیو مالائی قصہ لگتا ہے کہ حقیقاً ایسا ممکن ہو کہ روبوٹس کی تعداد یہاں انسانوں کی تعداد سے زیادہ ہوگی اور وہ گھر کے کام کیا کریں گے۔ حیرت تو وہاں ہوئی یہ سن کر جب جینٹک تدوین کے منصوبے پر عمل ہوگا۔ سننے میں آیا کہ جاپان کا سافٹ بینک ’’زندگی سے موت تک کے ایک نئے طرز زندگی‘‘ کو تشکیل دے گا جس کے لیے جینز میں تبدیلی لاکر انسانی مضبوطی اور ذہانت کو بڑھایا جائے گا۔اس شہر کی بناوٹ اور حیرت انگیز قسم کی ٹیکنالوجی اور جدید تر منصوبے نے عقل ہی دنگ کردی کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں اڑتی گاڑیوں کا تصور نہیں، اڑن طشتری ہی کہانیوں میں پاگل کیے رکھتی تھی اور کہاں یہ سب ہمیں حیرتوں کے سمندر میں ڈبو کر رہے گا۔فن تعمیر سے متعلق قرآن مجید میں ہے کہ ’’خدا تعالیٰ نے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو سکون کی جگہ بنایا اور اس نے تمہارے لیے چوپایوں کی کھالوں سے گھر بنائے کہ جنہیں تمام سفر اور قیام میں ہلکا پھلکا پاتے ہو۔‘‘ (النحل) فن تعمیر کا عالی شان ہونا اسلام میں ممنوع ہے۔ جہاں یہ فرمایا جا تاہو کہ ضرورت سے زیادہ بستر نہ بنائے جائیں تو وہاں عمارات اور جدید ترین شہر بسانے کی گنجائش کہاں نکل سکتی ہے۔ نیز یہ کہ تاج محل ہو، اہرام مصر ہو، اس طرح کی تعمیر پر بھی اسلام میں سخت ممانعت ہے۔ حضور پاکؐ کا فرمان ہے کہ ہر عمارت اس کے بنانے والے پر وبال ہے، سوائے اس عمارت کے کہ جس کو بنائے بغیر کوئی چارہ نہ ہو، گزارہ نہ ہو۔ شاید شہزادے نے دینی تعلیم میں یہ نکتہ نہیں پڑھا۔ تب ہی تو کہا گیا کہ قبرستان دنیا کی حقیقت کا محرم اور جائے عبرت ہے۔ مستقل رہنے والی جگہ شہر خموشاں مٹی سے بنتا ہے، کہیں بھی پکی اینٹ کی اجازت نہیں تو جو چیز شرع میں جائز نہیں تو اس سے باز رہنا چاہیے۔ ہم جسے اسلام کا گڑھ اور امت مسلمہ کا قبلہ و کعبہ اور جس شہر کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور مدینہ و مکہ کو اپنی نجات کا سرچشمہ اور ثواب کے طور پر جنہیں ہم پاک شہر تصور کرتے ہیں تو خدا سے دعا ہے کہ وہ شہر آپؐ ہی کے دور کی طرح پاکیزہ رہیں۔ لوگ بھی جدت پرستی کو چھوڑ کر اسلام کی راہ اپنائیں۔