• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیابھر کے بچوں کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے شدید خطرات لاحق ہوگئے

نیویارک ( نیوز ڈیسک) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بہبوداطفال (یونیسیف) کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں کوئی بھی بچہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے محفوظ نہیں رہا۔اقوام متحدہ کے ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے دنیا بھر کے بچوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر تقریبا ایک ارب بچوں کی صحت اور زندگیوں کو ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے شدید خطرات کا سامنا ہے، جس کے نتیجہ میں ان کی زندگیاں بھی ختم ہو سکتی ہیں۔ ان بچوں کو کمزور صحت کے ساتھ ساتھ تعلیم سے محرومی، زندگی کے عدم تحفظ اور غیر معمولی موسمی حالات کا بھی سامنا ہے۔یونیسیف نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ پہلی بار بچوں کو موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے لاحق ہونے والے خطرات واضح طور پر سامنے آئے ہیں اور ماہرین کو ان کی شدت کا احساس ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے کئی افریقی ممالک میں خشک سالی میں اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق مختلف موسموں کے بدلتے انداز سے کئی ملکوں کے بچے مہلک بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں اور ان بیماریوں کی لپیٹ میں آنے سے ان کی زندگیاں بھی ختم ہو سکتی ہیں، جو قابل افسوس امر ہے۔یونیسیف کے حکام نے رپورٹ میں شامل حقائق کو انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیاں کسی بڑے صدمے کے برابر ہیں ،جب کہ رپورٹ میں ان حقائق کو بچوں کے حقوق کے دائرے کو محدود کر دیا گیاہے۔ ماہرین نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ ماحولیاتی بحران کے خاتمہ کے لیے عالمی سطح پر فوری اقدامات ضروری ہیں۔رپورٹ کے مطابق ان تبدیلیوں سے کئی ممالک کے بچے سانس لینے کے لیے صاف ہوا اور پینے کے صاف پانی سے بتدریج محروم ہوتے جا رہے ہیں۔خبررساں اداروں کے مطابق دنیا بھر میں سب سے زیادہ تباہی آلودگی سے آرہی اور اکثر بچے اسی آلودگی کی وجہ سے نظام تنفس کے امراض میں مبتلا ہورہے ہیں۔ اسی تناظر میں نئی دہلی حکومت فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کے لیے تیار ہوگئی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی فضائی آلودگی کیس کی سماعت کے دوران نئی دہلی حکومت نے سپریم کورٹ میں میں جواب جمع کرا دیا۔ نئی دہلی حکومت نے کہا کہ فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کے لیے تیار ہیں جب کہ لاک ڈاؤن جیسے اقدامات پڑوسی ریاستوں کو بھی کرنے چاہییں۔بھارتی چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آلودگی میں کمی چاہتے ہیں، ہم یہاں ہر قدم پر آپ کو ہدایات دینے نہیں بیٹھے، ٹریفک اور انڈسٹریز کو کس طرح کنٹرول کرنا ہے، یہ آپ کا مسئلہ ہے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ٹرانسپورٹ، انڈسٹریز کا فضائی آلودگی میں بڑا حصہ ہے، نئی دہلی حکومت اور مرکز فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لائحہ عمل سے جلد از جلد آگاہ کرے۔ سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ ریاستیں نئی دہلی یا اس کے قریب رہنے والے ملازمین کو گھروں سے کام کرانے پر غور کریں۔
یورپ سے سے مزید