• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ نے کہا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں جمہوریت کمزور ہورہی ہے اور جمہوری اداروں پر لوگوں کا اعتماد بھی کمزور ہوتا جارہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لیٹویا کے شہر ریگا میں نیٹو کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل ' نیٹوز آؤٹ لک ٹو ورڈز 2030 اینڈ بیانڈ ' نامی سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ 

انہوں نے کہاکہ نیٹو کو جمہوریت، آزادی اور قانون کی حکمرانی کے دفاع کیلئے بنایا گیا تھا۔ یہ اقدار اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ ہم کون ہیں اور یہ خود بخود حاصل نہیں ہوگئیں۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ آج یہ اقدار دباؤ میں ہیں، ہمارے اتحاد کے باہر اور ہماری قوموں کے اندر سے بھی۔ آج ہم ایک سسٹمیٹک مقابلے کے دور میں جی رہے ہیں۔ 

انہوں نے الزام عائد کیا کہ روس اور چین قوانین پر مبنی بین الاقوامی نظام کو کمزور کر رہے ہیں۔ طاقت کا توازن بدل رہا ہے اور جمہوریت اور آزادی شدید دباؤ میں ہے۔ آمرانہ حکومتیں بین الاقوامی آرڈر کو پیچھے دھکیل رہی ہیں۔ وہ گورننس کے متبادل ماڈلز کو فروغ دے رہی ہیں۔ وہ ہمارے معاشروں کو کمزور کرنے کیلئے پروپیگنڈے، غلط معلومات اور بدنیتی پر مبنی سائبر ٹولز کا استعمال کرتے ہیں۔ 

جینز اسٹولٹنبرگ نے مزید کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے اپنے ملکوں میں ایسے انتہا پسند اور سیاسی گروہ موجود ہیں جو ہماری جمہوری اقدار کا احترام نہیں کرتے۔ اس لیے اس وقت اس بات کی سب سے زیادہ ضرورت ہے کہ ہم دکھائیں کہ ہمارا جمہوری ماڈل مضبوط ہے۔ ہم اپنے گھر اور باہر دونوں جگہ اپنی اقدار کا تحفظ کریں۔ 

سیکٹری جنرل نیٹو نے مزید کہا کہ کہ اس کے ساتھ ہی اس بات کی ضرورت بھی ہے کہ ہم اپنی فوجی طاقت کو مضبوط کریں۔

انہوں نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یورپ میں ہمیں گرم رکھنے اور توانائی کے بحران سے بچنے کیلئے گیس جبکہ اپنے اسمارٹ فونز اور کمپیوٹر استعمال کرنے کیلئے چین سے رئیر ارتھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ اپنے معاشروں کو مضبوط بنانے کیلئے ہمارے لوگوں اور اداروں کو بہتر طریقے سے مزاحمت کرنے اور حملوں کو پیچھے دھکیلنے کے قابل ہونا چاہیے۔ ہماری سپلائی چین زیادہ متنوع اور محفوظ ہو جبکہ ہمارا بنیادی ڈھانچہ زیادہ لچکدار ہونا چاہیے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید