• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صدر مملکت کی توثیق کے بعد پارلیمان مشترکہ اجلاس کے پاس شدہ تمام بل قانون بن گئے


صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے پاس شدہ 31 بلوں کی توثیق کردی۔

صدر مملکت کے کی منظوری کے بعد پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے پاس شدہ تمام 31 بل باضابطہ طور پر قانون بن گئے ہیں۔

حکومت نے اس حوالے سے اعلامیہ جاری کردیا ہے، جس کے مطابق 17 نومبر کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پاس ہوئے 31 بلوں کی صدر ملکت نے باضابطہ توثیق کردی ہے۔

اعلامیے کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت تمام بلوں کی توثیق کی ہے۔

صدر نے جن بلوں کی توثیق کی اُن میں پرائیویٹائزیشن کمیشن، پورٹ قاسم اتھارٹی، جسمانی تشدد کے خلاف بل اور عالمی عدالت انصاف کے بل شامل ہیں۔

اعلامیے کے مطابق ڈاکٹر عارف علوی کی توثیق کے بعد قانون بننے والے بلوں میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان بینکنگ سروسز کارپوریشن، کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ، کووڈ19، اینٹی ریپ بل بھی شامل ہیں۔

صدر مملکت نے اسلام آباد چیریٹی رجسٹریشن، رینٹ ریسٹرکشن، انسداد کرپشن ،فیڈرل پبلک سروس کمیشن، کمرشل اور انڈسٹریل قرضوں کے بلوں کی توثیق کی ہے۔

اعلامیے کے مطابق ڈاکٹر عارف علوی نے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن، اسلام آباد فوڈ سیفٹی، امیگریشن، پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز، گوادر پورٹ اتھارٹی ترمیمی، کمپنیز ترمیمی بلوں کی بھی منظوری دی ہے۔

صدر مملکت نے میری ٹائم سیکیورٹی ایجینسی ترمیمی بل، نیشنل شپنگ کارپوریشن ترمیمی بل، مالیاتی ادارے محفوظ ٹرانزیکشن ترمیمی بل، یونیورسٹی آف اسلام آباد، الکرم انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ، نیشنل کالج آف آرٹس انسٹیٹیوٹ بل کی بھی توثیق کی۔

اعلامیے کے مطابق ڈاکٹر عارف علوی نے حید آباد انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز بل اور جنریشن، ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن آف الیکٹرک پاور کی ریگولیشن کے ترمیمی بل کی توثیق دی ہے۔

قومی خبریں سے مزید