• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنجاب، بلدیاتی انتخابات EVM پر، وزیراعلیٰ نے لوکل باڈیز ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دیدی، الیکشن کمیشن کا فیصلے سے اختلاف


لاہور(نمائندہ جنگ ‘ایجنسیاں)پنجاب حکومت نے بلدیاتی انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر کروانے کا بڑا فیصلہ کرلیا ہے‘ ای وی ایم پر انتخابات کو لوکل باڈیز ایکٹ میں شامل کیا جائے گا۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے کہاہے کہ انتخابی طریقہ کار طے کرنا پالیسی معاملہ ہے جس کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس ہے ۔

ادھر مسلم لیگ(ق) اور تحریک انصاف کے درمیان بلدیاتی مسودہ قانون پر پنجاب کے بعد وفاق کی سطح پر بھی مذاکرات میں شدید ڈیڈ لاک پیدا ہوگیاہے جبکہ وزیراعلی عثمان بزدار کی زیر صدارت اہم اجلاس میں نئے بلدیاتی ایکٹ کے حوالے سے مسلم لیگ(ق) کے ساتھ مشاورت پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے لوکل باڈیز ایکٹ میں ترمیم کی منظور ی دے دی ہے جس کے تحت پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ای وی ایم پر ہوں گے‘وفاق ای وی ایم پر انتخابات کا قانون بنا چکا ہے پنجاب میں بھی ای وی ایم کو الیکشن ایکٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق قانون سازی کیلئے پنجاب حکومت کو دسمبر کے پہلےہفتے تک کی آخری مہلت دے دی ہے۔الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت سے نیا ترمیمی بلدیاتی مسودہ طلب کرلیا ہے ۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ پنجاب حکومت دسمبر کے پہلے ہفتے تک بلدیاتی مسودہ جمع کروائے، نئے ترمیمی مسودے کے مطابق نئی حلقہ بندیاں قائم کرنی ہیں، اگر پنجاب حکومت بلدیاتی مسودہ جمع نہیں کرواتی تو الیکشن پرانی حلقہ بندیوں کے تحت ہونگے۔

اُدھر الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال سے متعلق تین مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جن کی رپورٹ مرتب کرنے کے لیے ٹائم فریم بھی مقرر ہے۔ کمیٹیوں کی سفارشات کےمطابق پانچ رکنی کمیشن اپنی رائے سے حکومت کو آگاہ کرے گا۔

صوبائی الیکشن حکام کا کہنا ہے کہ ای وی ایم پر الیکشن جیسے پالیسی امور الیکشن کمیشن آف پاکستان طے کرتا ہے۔دریں اثناء مسلم لیگ(ق)اورتحریک انصاف کے درمیان بلدیاتی مسودہ قانون پر پنجاب کے بعد وفاق کی سطح پر بھی مذاکرات میں شدید ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا‘ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اور اتحادی جماعت ق لیگ کا بلدیاتی مسودہ قانون کے معاملے پر ویڈیو لنک پر مشترکہ اجلاس ہوا۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ق) نئے بلدیاتی نظام میں دیہی علاقوں کی زیادہ نمائندگی کے لیے ڈٹ گئی۔ق لیگ کی قیادت نے واضح طور پر کہا کہ ایسے مسودہ قانون کی حمایت نہیں کریں گے، جس سے دیہی علاقوں کی حق تلفی ہو۔انہوں نے کہا کہ نئے بلدیاتی نظام میں سیمی اربن کو زیادہ اور دیہی علاقوں کو کم نمائندگی قبول نہیں۔

ادھروزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیر صدارت وزیراعلی آفس میں اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں نئے بلدیاتی ایکٹ کے حوالے سے مسلم لیگ(ق) کے ساتھ مشاورت پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلی عثمان بزدار نے مسلم لیگ (ق) کے ساتھ مشاورت کے عمل میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

وزیراعلی عثمان بزدار نے اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ نیا بلدیاتی ایکٹ عرق ریزی اور مشاورت سے تیار کیا گیا ہے۔نیابلد یاتی نظام عوام کو نچلی سطح پر حقیقی معنوں میں بااختیار بنائے گا۔ 

اہم خبریں سے مزید