• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانوی میڈیا میں اسلام اور مسلمانوں کیخلاف تعصب کی نشاندہی

لندن (مرتضیٰ علی شاہ) ایک تحقیقاتی رپورٹ میں برطانوی پریس کوریج میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف وسیع پیمانے پر تعصب کی نشان دہی کی گئی ہے۔ 60 فیصد آن لائن میڈیا آرٹیکلز اور 47 فیصد ٹی وی کلپس میں اسلام سے متعلق منفی مواد موجود تھا۔ تفصیلات کے مطابق، برطانوی میڈیا کی 2018-2020 کے دوران کوریج سے متعلق ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اسلام اورمسلمانوں سے متعلق تقریباً 60 فیصد آن لائن میڈیا آرٹیکلز اور 47 فیصد ٹی وی کلپس میں منفی پہلو یا منفی رویہ اجاگر کیا گیا ہے۔ مرکز برائے میڈیا مانیٹرنگ رپورٹ جسے دی سنڈے ٹائمز اور ڈیلی مررز کے ایڈیٹرز کی تائید حاصل ہے۔ رپورٹ میں 48 ہزار آن لائن آرٹیکلز اور 5500 براڈ کاسٹ کلپس کا تجزیہ کیا گیا جس کے بعد اس نتیجے پر پہنچا گیا کہ اسلام اور مسلمانوں سے متعلق منفی کوریج کی گئی ہے۔ مطالعہ میں 10 کیس اسٹڈیز بھی دیکھی گئیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہم اشاعتوں میں مسلمانوں پر بہتان تراشی کی گئی، انہیں بدنام کیا گیا یا انہیں غلط انداز میں پیش کیا گیا ان میں 9 کیسز میں ہرجانہ ادا کرنے کے ساتھ معافی بھی مانگی گئی۔ برطانیہ کے مرکز برائے میڈیا مانیٹرنگ کی مسلم کونسل نے 34 میڈیا آئوٹ لیٹس کی نگرانی کی اور ان کی آن لائن ویب سائٹس اور 38 ٹی وی چینلوں کا اکتوبر 2018 سے ستمبر، 2019 تک تجزیہ کیا۔ رپورٹ کے شرکاء میں دی مرر کے ایلیسن فلپس، دی سنڈے ٹائمز کی ایما ٹکر، بی بی سی کے مارک ایسٹن، دی گارڈین کی نسرین ملک، اسکائی کے انضمام راشد، جب کہ اساتذہ میں برائن کیتھ کارٹ، پروفیسر جان ہولم ووڈ اور وج اقبال شامل تھے۔ عمومی طور پر دائیں بازو کے آئوٹ لیٹس اسلام پر بائیں بازو کے آئوٹ لیٹس کے مقابلے میں زیادہ تنقید کرتے ہیں۔ دی اسپیکٹیٹر میں مسلمانوں سے متعلق آرٹیکلز کا سب سے زیادہ تناسب 37 فیصد تھا جنہیں مسلمان مخالف قرار دیا گیا۔ جب کہ دی نیو اسٹیٹس مین میں سب سے زیادہ 16 فیصد آرٹیکلز مسلمانوں کی حمایت میں تھے۔ اس حوالے سے دی سنڈے ٹائمز کی ایما ٹکر کا کہنا تھا کہ میں اس رپورٹ کو خوش آئند سمجھتی ہوں مجھے اس میں پریس پر تنقید کا مکمل علم ہے اور اس میں میرا ذاتی پیپر بھی شامل ہے۔ دی مرر کے ایڈیٹر ان چیف ایلیسن فلپس کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بطور صحافی ہم اپنے آپ سے کتنے سوالات کرتے ہیں، جب کہ اسلام اور مسلمانوں سے متعلق ہم کیا پیش کررہے ہیں۔ رپورٹ میں مسلمانوں سے برتائو میں کسی حد تک بہتری کی نشان دہی کی گئی ہے اور اس میں بی بی سی کی ایغور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے، اسی طرح دی سن نے عاصمہ شیخ کو ہیرو آف دی ویک قرار دیا اور دی ٹیلی گراف نے این ایچ ایس کی حمایت کرنے والی معروف مسلم خواتین کو فرنٹ صفحہ پر جگہ دی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک آرٹیکل میں بنیادی توجہ دہشت گردی/شدت پسندی کو دی گئی ہے۔جب کہ دائیں بازو کی اور مذہبی اشاعتوں میں مسلمانوں کے عقائد اور رویے کی منفی تشہیر کی گئی ہے جو کہ تعصب پر مبنی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیشنل براڈکاسٹرز کے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تعصب کی شرح خطے کے دیگر براڈکاسٹرز کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ خبریں فراہم کرنے والے سرفہرست تین ادارے اے ایف پی، رائٹرز اور دی ایسوسی ایٹڈ پریس ممکنہ طور پر مسلمانوں کے خلاف منفی آرٹیکلز شائع کرتی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے تشخص کا خاکہ نیوز رپورٹنگ کے ذریعے ترتیب دیتے ہیں۔ ایم سی بی کے مرکز برائے میڈیا مانیٹرنگ کی ڈائریکٹر رضوانہ حمید کا کہنا تھا کہ اس حالیہ رپورٹ کا مقصد کسی اخبار یا براڈکاسٹر پر الزام لگانا نہیں ہے اور نہ ہی کسی صحافی یا رپورٹر پر الزام عائد کرنا ہے۔

دنیا بھر سے سے مزید