• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صبر و استقامت کے پیکر بندگانِ خدا کیلئے رحمت و مغفرت کی بشارت

ڈاکٹر سیّد عطا ء اللہ شاہ بخاری

ارشاد باری تعالیٰ ہے:(ترجمہ)اور ضرور آزمائیں گے ہم تمہیں کسی قدر خوف اور بھوک سے اور (مبتلا کرکے) نقصان میں مال وجان کے اور آمدنیوں کے اور خوش خبری دو صبر کرنے والوں کو، وہ (صبر کرنے والے)کہ جب پہنچتی ہے اْنہیں کوئی مصیبت تو کہتے ہیں بے شک، ہم اللہ ہی کے ہیں اور بے شک، ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے،(دراصل)یہی وہ لوگ ہیں کہ ان پر ہیں عنایتیں ان کے رب کی اور رحمتیں بھی اور یہی لوگ ہیں جو ہدایت یافتہ ہیں۔(سورۃ البقرہ، ۱۵۵تا۱۵۷)

ان آیات ِ مبارکہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو متنبہ فرمایا ہے کہ اسے مختلف چیزوں کےذریعے ضرور بالضرور آزمایا جائے گا اور جو ان آزمائشوں پر صبر کرتے ہوئے پورا اتریں گے، انہیں رحمت و مغفرت کی بشارت دی گئی ہے۔

احادیث مبارکہ کے مطابق تکلیفوں پر صبر ثواب میں اضافے کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا بھی ذریعہ ہے۔

جامع ترمذی میں رسول اکرمﷺ کا یہ ارشاد مروی ہے کہ’’ اجر و ثواب میں اضافہ مصیبتوں کے ساتھ ہے اور فرمایا کہ اللہ جب کسی قوم سے محبت کرتاہے تو انہیں کسی نہ کسی مصیبت میں مبتلا کردیتا ہے اور جو راضی رہتا ہے، اس کے لیے اللہ کی رضا ہے اور جو ناراض ہوجاتا ہے، اس کے لیے اللہ کی ناراضی ہے‘‘۔

مصیبت پر صبر کرنے کے حوالے سے کنز العمال میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ’’ تحقیق لوح محفوظ میں پہلی چیز جو کہ اللہ تعالیٰ نے لکھی ہے، وہ یہ ہے، بسم اللہ الرحمن الرحیم اوربے شک، میں ہی معبود ہوں، میرے سواکوئی حاجت روا نہیں ،میرا کوئی شریک نہیں، جس نے میرے فیصلے کو مان لیا اور میری دی ہوئی مصیبت پر صبر کیا اور میرے حکم پر راضی رہا ،میں اسے اپنے یہاں صدیق لکھ دیتا ہوں اور اسے قیامت کے دن صدیقوں میں اٹھاؤں گا‘‘۔

یہ رسول رحمت ﷺکی اُمت پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سابقہ اُمتوں کے شہیدوں کی طرح اُمتِ محمدیہ میں درجہِ شہادت پانے والوں کو صِرف اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے قتل ہونے والوں تک ہی محدود نہیں رکھا، بلکہ دوسروں کو بھی اِس درجہ پر فائز فرمایا ہے۔

مسند احمد میں راشد بن حبیش ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ حضرت عبادہ بن صامت ؓ کی عیادت (بیمار پرسی) کے لیے تشریف لائے تو اِرشاد فرمایاـ: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ میری اُمت کے شہید کون کون ہیں ؟حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ :اللہ کی راہ میں مصیبت پر صبر کرنے اور اجر و ثواب کا یقین رکھنے والے۔ اس پر رسول اکرم ﷺ نے اِرشاد فرمایا :اِس طرح تو میری امت کے شہید بہت کم ہوں گے۔پھر آپﷺ نے فرمایاـ: جلنے کی وجہ سے مرنے والا بھی شہید ہے۔

پوری حدیث اس طرح ہے:(1)اللہ عز وجل کی راہ میں قتل ہونا شہادت ہے ۔(2)طاعون (کی موت ) شہادت ہے ۔ (3) ڈوبنا (یعنی پانی میں ڈوبنے سے موت واقع ہونا ) شہادت ہے ۔(4) پیٹ (کی بیماری سے موت واقع ہونا) شہادت ہے۔ (5) ولادت کے بعد نفاس کی حالت میں مرنے والی کو اس کی وہ اولاد (جس کی ولادت ہوئی اور اِس ولادت کی وجہ سے وہ مر گئی) اپنی کٹی ہوئی ناف سے جنّت میں کھینچ کرلے جاتی ہے ۔ (6)جلنا (یعنی جلنے کی وجہ سے موت واقع ہونا)شہادت ہے اور(7)سل (یعنی پھیپھڑوں کی بیماری کی وجہ سے موت واقع ہونا شہادت ہے۔

بہرحال جو لوگ آزمائشوں اور تکلیفوں پر صبر کرتے ہوئے انا للہ وانا الیہ راجعون کے کلمات زبان سے ادا کرتے ہیں، ان کے لئے رحمت و مغفرت کا وعدہ ہے۔