• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی شریعت کورٹ میں سود کے متعلق کیس 2002ء سے زیر التوا

اسلام آباد (انصار عباسی) وفاقی شریعت کورٹ نے 1992ء میں سود (ربا) کے کیس کا فیصلہ سنا دیا تھا لیکن اس کے بعد یہی کیس 2002ء سے اسی عدالت میں زیر التوا ہے جس کی زیادہ تر وجہ یکے بعد دیگر آنے والے حکومتوں کی ہچکچاہٹ ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ 2020-21ء کے دوران سود کی ادائیگی کا حصہ پاکستان کی مجموعی آمدنی کا 80؍ فیصد ہو چکا ہے۔ یہ کیس 24؍ جون 2002ء سے زیر التوا ہے جب یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کی جانب سے دائر کردہ سول شریعت ریویو پٹیشن نمبر 1/2000 کو سماعت کیلئے منظور کر لیا گیا تھا۔

وفاقی شریعت کورٹ کی جانب سے 14؍ نومبر 1991ء کو سنائے گئے فیصلوں میں سود کو غیر اسلامی قرار دیدیا گیا تھا اور 23؍ دسمبر 1999ء کو سپریم کورٹ میں اپیلیٹ شریعت بینچ نے فیڈرل شریعت کورٹ کے 1992ء کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے مشرف کے دور میں ان فیصلوں کو کالعدم قرار دیدیا۔ ربا کا کیس فیڈرل شریعت کورٹ کو واپس بھیج دیا گیا تاکہ اس پر چند نکات پر مزید بحث کی جا سکے۔

اس حوالے سے چار اہم نکات کی نشاندہی کی گئی تھی: ۱) وفاقی شریعت کورٹ کا دائرہ اختیار (جیورسڈکشن)، ۲) فیصلے پر عملدرآمد سے پیدا ہونے والے عملی مسائل، جن کا اظہار وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنے حلف نامے میں کیا تھا، ۳) ربا کی تعریف و تشریح پر مشاہدات اور ساتھ ہی ربا کے قانونی اور اخلاقی پہلوئوں کو علیحدہ کرنا، مہنگائی اور جدید دور میں کی جانے والی انڈیکسیشن، ۴) دسمبر 1999 میں سنائے گئے فیصلے کے بعد نظر آنے والی غلطیاں۔

وفاقی شریعت کورٹ میں اُن دو دہائیوں کے دوران کئی ججز آئے لیکن ربا کیس کا فیصلہ نہیں ہو پایا اور ججوں کی اکثریت نے کیس کا فیصلہ سنانے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔

جو ذرائع اس کیس سے وابستہ ہیں اُن کا کہنا ہے کہ فیڈرل شریعت کورٹ نے تمام متعلقہ فریقین سے ربا کیس پر ماہرانہ رائے مانگی تھی تاکہ اس کی تشریح اور ربا کی روک تھام پر تجاویز لی جا سکیں۔

کئی فریقین نے پہلے تشکیل دیے گئے سابقہ بینچ کے روبرو اپنے اپنے جواب جمع کرائے۔ بینچ نے جیورسڈکشن کے حوالے سے فیصلے کو حتمی شکل دینے کے بعد اس معاملے پر دلائل کیلئے سیشن رکھنے کا فیصلہ کیا۔

اُس وقت کے اٹارنی جنرل انور منصور خان نے اپنے دلائل میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وفاقی شریعت کورٹ کے پاس دائرۂ اختیار ہے۔

متوازی بنیادوں پر 2020ء میں وفاقی شریعت کورٹ نے سود کے خاتمے کیلئے حکومت پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے سات سوالات اُٹھائے تھے۔ یہ سوالات ایسے اسلامی ممالک کیلئے تھے جو اسلامی بینکاری اور اسلامی مالیاتی نظام کو فروغ دے رہے تھے اور ساتھ ہی اس بارے میں بھی تھے کہ یہ نظام کیسے کام کرتے ہیں۔

وفاقی شریعت کورٹ نے حکومت پاکستان سے یہ بھی سوال کیا تھا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے اسلامی بینکاری کے فروغ کیلئے کیا اقدامات کیے تھے۔

عدالت نے کنایتاً یہ بھی پوچھا تھا کہ ربا کے خاتمے کا اسٹیٹس کیا ہے اور یہ بھی پوچھا تھا کہ اس معاملے میں حکومت نے مستقبل کیلئے کیا فریم ورک اور ٹائیم لائن تیار کی ہے؟ وفاقی شریعت کورٹ نے یہ سوال بھی کیا تھا کہ اسلامی اصولوں کے تحت فنانسنگ کے حوالے سے قرضہ دینے والے بین الاقوامی اداروں کا کیا رد عمل ہے۔ عدالت نے یہ بھی سوال کیا تھا کہ کمیشن فار ٹرانسفارمیشن آف فنانشل سسٹم (سی ٹی ایف ایس) پر عملدرآمد کیا ہوا۔

اس کمیشن کیلئے وزارت خزانہ اور وزارت قانون نے دو ٹاسک مقرر کیے تھے۔ عدالت نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے شریعہ بورڈ سے سود سے پاک بینک ٹرانزیکشن کے حوالے سے رائے بھی طلب کی تھی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے وکلاء اور ڈپٹی اٹارنی جنرل آف پاکستان کی درخواستوں پر عدالت نے ربا کیس میں کئی مرتبہ سماعت ملتوی کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 30؍ ستمبر 2021ء تک حکومت اور اسٹیٹ بینک نے سات سوالوں کا جواب داخل نہیں کرایا تھا۔

30؍ ستمبر 2021ء کو ہونے والی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے ایک مرتبہ پھر عدالت سے درخواست کی کہ سات سوالوں کا جواب دینے کیلئے وقت دیا جائے۔

آرڈر شیٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ذرائع نے کہا کہ چارٹرڈ اکائونٹنٹ شہزاد شوکت کے سوا کسی نے بھی پوچھے گئے سوالوں کا جواب نہیں دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ کیس کے فیصلے میں جماعت اسلامی خاص دلچسپی لے رہی ہے اور گزشتہ چند سماعتوں کے دوران جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بھی سماعت میں شرکت کی۔

تازہ ترین سماعت اور جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر پروفیسر ابراہیم کی جانب سے سماعتوں میں توسیع پر اٹھائے گئے اعتراض پر عدالت کے چیف جسٹس نے جواب دیا کہ وہ اٹارنی جنرل کو وقت دے رہے ہیں کیونکہ مستقبل میں وہ یہ دعویٰ نہ کر سکیں کہ انہیں سوالوں کا جواب تیار کرنے کیلئے مناسب وقت نہیں دیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک سال ہونے کو آیا، اسٹیٹ بینک اور وفاقی حکومت نے سات سوالوں پر اپنا جواب جمع نہیں کرایا۔

تاہم، انہوں نے فیڈرل شریعت کورٹ کی جیورسڈکشن پر بحث جواب الجواب ضرور جمع کرایا ہے اور اس میں شامل رائے حکومت کے سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان کی رائے سے مختلف ہے۔

اہم خبریں سے مزید