• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پروفیسر محمد فاروق دانش

اس بات سے انکارنہیں کیا جاسکتا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ علم شعوروآگاہی کے حصول کا اہم ذریعہ ہے لیکن اسے محض ملازمت کے حصول کازینہ سمجھ لیا گیا ہے ۔اس کی وجہ سے طلبہ کا یہ وتیرہ بن گیا ہے کہ وہ امتحان دینے کے لیے محض اتنی ہی تیاری کرتے ہیں جتنا کہ استاد نے پڑھادیا۔ رٹا بھی اسی قدرلگایا جتنا اساتذہ نے اہم بتا کر نشان لگوا دیے یا پھر پانچ سالہ امتحانی پرچوں کا جائزہ لے کر رٹ لیا جاتا ہے۔اس بات سے کون واقف نہیں کہ آج کے طالب علموں کا مقصد علم حاصل کرنے سے زیادہ بہتر نمبر حاصل کر کے مطلوبہ’’ جی پی اے‘‘ حاصل کرنا ہے۔ طلبہ کی قابلیت بھی اسی بنیاد پر جانچی جاتی ہے، کافی تگ وددو کے بعد امتحان میں کام یابی اور پھر کہیں جا کر نوکری ملتی ہے۔

اگر صورت حال کابہ غور جائزہ لیا جائےتو رٹا لگانے میں مہارت حاصل کرنے کا سہرا تعلیمی بورڈزکے سربھی جاتا ہے۔ اب دیکھیے کہ وہ کئی برسوں سےنصاب ہونے کے باوجود مخصوص اسباق سے امتحانی سوالات ترتیب دیتے ہیں، جس کے باعث طلبہ کم محن میں زیادہ منافع حاصل کرنے کی تگ و دو میں مصروف عمل رہتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ بعض تعلیمی اداروں میں امتحانات میں آنے والانصاب پڑھایا تک نہیں جاتا، یہ عمل اساتذہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

اب اگر کوئی طا لب ِعلم وہ مضامین بھی خصوصی توجہ سے پڑھے جس کے امتحان میں پوچھے جانے کا امکان بہت کم ہے تو انھیں اہم حصوں کی تیاری کا مناسب وقت ہی نہیں ملتا۔ یہ سلسلہ چھوٹی جماعتوں سے لے کر جامعات کی سطح تک جاری و ساری ہے۔یوں پڑھائی سے زیادہ بہترنمبر لینے کی دوڑ جاری رہتی ہے، یہی وجہ ہے کہ طلبہ کی قابلیت محدود سے محدود ترہوتی جا رہی ہے۔

تعلیمی زبوں حالی کی بات کی جائے ، تو یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ اکثر طلبہ جامعہ کی سطح تک پہنچ کر بھی اپنا فارم بھرنے ، ذاتی درخواست لکھنے یا سی۔وی بنانے سے بھی قاصرہیں۔یہ ان کا قصور نہیں ، جب انھیں اس صنف سے بہرہ مند ہی نہیں کیاجاتا، صرف کتابوں سے رٹی گئی چیزوں کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے، تو وہ کیا کریں۔ رٹا لگانے کی بنیاد اسکول میں ہی رکھ دی جاتی ہے۔ 

طلبہ سے پوچھا جائے کہ، وہ جو پڑھ رہے ہیں اس کو سمجھ بھی رہے ہیں، تواکثر جواب نفی میں ملتا ہے۔ اساتذہ خود نوٹس تیار کرکے فراہم کرتےہیں جس کے بعدطلبہ کتابوں کا مطالعہ کرنے کی زحمت ہی نہیں کرتے۔ اسکول سے کالج اور پھر کالج سے جامعہ پہنچتے پہنچتے طلبہ کی یہ عادت اس قدر پختہ ہوچکی ہوتی ہے کہ ان کےلیے ایک مضمون لکھنا بھی محال ہوتا ہے اور وہ طلبہ جو میٹرک میں اچھے نمبرز حاصل کرتے ہیں ،انٹر میں اکثرکئی کئی پرچوں میں ناکام ہوجاتےہیں، جس کے سبب کسی اچھی جامعہ میں داخلہ ملنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کا ندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس کی وجہ نصابی کتاب کے مخصوص حصوں کا مطالعہ ہے۔

بیش تر طلبہ جامعات میں بھی اساتذہ کے لیکچرز اور چند ایک کتابوں سےآگے نہیں بڑھتے ۔اگر استاد کوئی اسائنمنٹ دے تو ’’کاپی پیسٹ‘‘ کی بھرمار کر دیتے ہیں۔ اکثر پی۔ایچ۔ڈی اسکالرز پر "سرقہ نویسی "کے الزامات لگتے رہے ہیں یا پھر ڈگری ہی مشکوک قرار دے دی جاتی ہے جو ہمارا سر شرم سےجھکانے کے لیے کافی ہے۔ دوسری جانب یہ سوچ جڑ پکڑ گئ ہے کہ اگر اچھی ملازمت حاصل کرنا ہے تو مہنگی سے مہنگی جامعہ میں داخلہ لینا لازمی ہے۔ اگر یہ کہیں کہ جتنی اچھی رقم ،اتنی اچھی ڈگری اور اتنی ہی اچھی نوکری تو غلط نہ ہوگا۔ افسوس آج ڈگری محض تعلیمی اداروں کے اخراجات کی رسید بن کر رہ گئی ہے۔

مشہور مقولہ ہے کہ :

’’جس قوم میں تعلیم محض نوکری کے لیے حاصل کی جائے وہاں عالم اور لیڈر نہیں ،نوکر پیدا ہوتے ہیں۔‘‘

اساتذہ اور طلبہ ،سب کو اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ اساتذہ طلبہ کو اس طرح تعلیم دیں کہ ان کا پڑھنے کاشوق بڑھے، وہ تعلیم کو بوجھ نہ سمجھیں۔

موجودہ امتحانی تناظر میں نتائج کو دیکھا جائے تو پاکستان کے کئی شہروں میں نمبروں کا سونامی آیا ہوا ہے۔ سو فیصد نمبر پانے والوں کی مجموعی تعداد ہزاروں میں ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سب طلباء کو تقریباََ ایک ہی سطح پر لا کھڑا کر دیا ہے، یوںمساوات کی نئی مثال قائم کر دی ہے۔ ماضی میں شاید ہی کسی طالب علم نے سوفی صد نمبر حاصل کیے ہوں۔ لیکن اب90 فی صد والے بھی ہزاروں میں ہیں۔ سو فی صد نمبر حاصل کرنے والے بھی، مستقبل میں اس کے اثرات پالیسی سازوں پر تو نہیں پڑیں گے، البتہ طلبہ ضرور پڑے گا۔

اگر کووڈ کی وباء کے باعث بغیر امتحان کے طلباء کو پاس کردیا گیا لیکن صورتِ حال صحیح ہونے کے بعد تو تعلیم کو مذاق نہ بنایا جائے۔

ایک ذہن طالب علم صرف ایک مضمون میں اچھا نہیں ہوتا بل کہ مختلف مضامین میں اس کی کارکردگی مثالی ہوتی ہے۔ وہ طلبہ جو پوزیشنیں لیتے ہیں ان کے حاصل کردہ نمبروں کا ڈیٹا اس بات کا گواہ ہے۔ بہرحال! کووڈ کے حوالے سے اگر طلبہ کو رعایتیں دینا مقصود تھا تو انھیں بہتر مستقبل کی سہولیات فراہم کی جاتیں۔ ان کے گرد ایسی تعلیمی فضا تخلیق کرنے کی پیش بندی کی جاتی جو ان کی صلاحیتیں نکھارسکتی۔ نمبروں کی بھرمار سے انھیں محض نفسیاتی الجھنوں میں مبتلا کیا گیا ہے۔ نمبروں کے ڈھیر تو لگ گئے ہیں لیکن وہ ان کا کریں گے کیا۔ 

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ طلبہ کے چہروں پر پورے نمبر حاصل کرنے کے باوجود خوشی نہیں۔ قصور طلبہ کا نہیں کیونکہ انھوں نے ہمیشہ ویسا پڑھا جیسا پڑھایا گیا، وہی سیکھا جیسا سکھایا گیا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب سو فی صد نمبر دینے کی روایت ڈال ہی دی گئی تو اب ایکسٹرا صلاحیت رکھنے والے نوجوانوں کو سو سے آگے کیا دیا جائے گا۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے جس پرغور کرنا ہوگا۔بے حکمتی اور بے تدبیری سے نئی نسل کے تعلیمی مستقبل کو اتنے شدید اور گہرے صدمےسے دوچار کیا گیا ہے کہ اس کے اثرات کئی سالوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

متوجہ ہوں!

قارئین کرام آپ نے صفحہ ’’نوجوان‘‘ پڑھا آپ کو کیسا لگا؟ ہمیں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔ اگر آپ بھی نوجوانوں سے متعلق موضوعات پر لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں۔ ہم نوک پلک درست کرکے شائع کریں گے۔

ہمارا پتا ہے:

انچارج صفحہ ’’نوجوان‘‘ روزنامہ جنگ، میگزین سیکشن،

اخبار منزل،آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی۔

تازہ ترین