• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’دی اومی کرون ویرینٹ‘ نامی فلم کا وائرل پوسٹر فوٹوشاپ ہے

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)سوشل میڈیا پر ’دی اومی کرون ویرینٹ‘ نامی فلم کا پوسٹر وائرل ہورہا ہے جس کی ٹیگ لائن میں لکھا ہوا ہے کہ ’دا ڈے دا ارتھ واز ٹرنڈ انٹو آ سیمیٹری‘ اس کا مطلب ہے کہ ’وہ دن جب زمین، قبرستان میں تبدیل ہوگئی تھی‘۔ساتھ ہی یہ کہا جارہا ہے کہ یہ فلم 1963 میں ریلیز ہوئی تھی اور اس کی کہانی کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ کے گرد گھومتی ہے۔بھارتی ڈائریکٹر رام گوپال ورما نے بھی اس وائرل پوسٹر کو شیئر کیا اور کیپشن میں لکھا کہ ’یقین کریں یا بے ہوش ہوجائیں، یہ فلم 1963 میں آئی تھی، ٹیگ لائن چیک کریں‘۔اس کے بعد سوشل میڈیا پر اومی کرون ویرینٹ کا ہیش ٹیگ بھی ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔تاہم سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا یہ پوسٹر اصل نہیں ہے بلکہ 1974میں ریلیز ہونے والی فلم ’فیز 4‘ کا ایڈیٹڈ ورژن ہے۔آئرلینڈ کی ڈائریکٹر اور رائٹر بیکی چیٹل نے محض مزاحیہ انداز میں بنایا تھا، انہوں نے گزشتہ ماہ 28 نومبر کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے 3 پوسٹرز شیئر کیے تھے اور کہا تھا کہ’میں نے دی اومی کرون ویرینٹ کو 70 کی دہائی میں بننے والی فلموں کے پوسٹرز میں فوٹوشاپ کردیا ہے‘۔مگر یہ پوسٹر وائرل ہونے اور وسیع پیمانے پر گمراہ کن معلومات پھیلنے کے بعد بیکی چیٹل نے یکم دسمبر کو ایک اور ٹویٹ کی اور وضاحت دی کہ ’ یہ بات میرے علم میں لائی گئی ہے کہ میرا ایک پوسٹر کورونا وائرس سے متعلق کسی من گھڑت کہانی ثبوت کے طور پر ہسپانوی ٹوئٹر پر گردش کردیا ہے‘۔انہوں نے واضح کیا کہ ’اومی کرون ویرینٹ‘ کا نام انہیں 1970 کی دہائی کی کسی سائنش فکشن فلم کے نام جیسا لگا اور اسی لیے انہوں نے تفریح کی غرض سے یہ پوسٹررز بنادیے تھے۔بیکی چیٹل نے لوگوں سے درخواست کی کہ وہ ان کے ’مذاق‘ کو سنجیدہ نہ لیں۔

دل لگی سے مزید