• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سری لنکا نے پاکستانی مؤقف اور کارروائی کی تحسین کی، وزیر خارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ میرا سری لنکا کے وزیر خارجہ سے رابطہ ہوا ہے، سری لنکا نے پاکستانی مؤقف اور بروقت کارروائی کی تحسین کی، واقعے کی انکوائری کیلئے 48 گھنٹوں کی مہلت دی گئی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وزیراعظم سیالکوٹ معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں، فیکٹری منیجر کی فیملی کیساتھ رابطے میں ہیں، فیملی کی مکمل تفتیش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب او آئی سی سمٹ کی سربراہی کر رہا ہے، افغانستان او آئی سی کا فاؤنڈنگ ممبر ہے اس کیلئے ہمیں کچھ کرنا ہے، سعودی عرب ہمارے ساتھ اس معاملے پر آن بورڈ ہے، ان حالات میں افغانستان کو اکیلا چھوڑنا ایک تاریخی غلطی ہوگی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ فوری توجہ نہیں دی گئی تو افغانستان کی نصف آبادی غذائی قلت کا شکار ہوسکتی ہے، بروقت توجہ نہ دی تو انسانی المیہ جنم لے گا، افغانستان کے اثاثے منجمد رہے تو معاشی بحران بھی آسکتا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا کہ یو این کی متعلقہ ایجنسی افغانستان کے معاملے پر ہماری معاون ہوسکتی ہے۔ جرمنی، جاپان، کینیڈا اور آسٹریلیا کو بھی افغانستان کے معاملے پر دعوت دے رہے ہیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خواہش ہے کہ جب او آئی سی کا نمائندہ اجلاس ہو تو افغانستان کا ہائی لیول وفد بھی آئے، اقوام متحدہ اور ورلڈ بینک کے نمائندوں کو بھی دعوت دی گئی ہے، افغان مسئلہ پر عالمی اتفاق رائے پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی وزیر خارجہ نے تمام معاملے میں ذاتی دلچسپی لی ہے جن کا شکریہ ادا کرتے ہیں، افغان مسئلے پر ایران اور تاجکستان بھی فکر مند ہے، ماضی میں سارا ملبہ اور ذمہ داری پاکستان پر ڈالی جاتی تھی، اب پاکستان نے بھارت کا ایسا کوئی حربہ کامیاب نہیں ہونے دیا۔

قومی خبریں سے مزید