• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئے بلدیاتی قانون کے ذریعے تمام اختیارات لے لئے گئے، سیاسی رہنما

کراچی(ٹی وی رپورٹ)جیو نیوز کے پروگرام ”جرگہ“ میں میزبان سلیم صافی سے بات چیت کرتے ہوئےسیاسی رہنمائوں نے کہا ہے کہ لئے گئے ہیں، امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ نیا بلدیاتی نظام کیخلاف ہم عدالت بھی جائیں گے، رہنما ایم کیو ایم پاکستان سینیٹر فیصل سبز واری نے کہا کہ اکثریت کی بنیاد پر دیہی سندھ والے شہری سندھ کی قسمتوں کا فیصلہ کرتےہیں، چیئرمین پاک سرزمین پارٹی سیدمصطفی کمال نے کہا کہ یہ جمہوریت پر بدنما داغ ہے، 2013سے اب تک کی جانیوالی تمام ترامیم واپس لی جائیں، رہنماپیپلز پارٹی سعید غنی نے کہا کہ کوئی اپوزیشن کی جماعت اسمبلی کو ڈکٹیٹ تو نہیں کرسکتی۔ پروگرام کے آغاز میں میزبان سلیم صافی نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مذہبی لیڈر دوسروں پر توشریعت نافذ کرتا ہے لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتا۔اسی طرح سیاسی جماعتوں کے لیڈر جمہوریت کا مطالبہ تو کرتے ہیں لیکن خوداپنی پارٹیوں کے اندرجمہوریت لاتے ہیں اور نہ اختیارات نیچے منتقل کرتے ہیں۔یہاں سب سیاسی جماعتیں صوبائی خود مختاری کا تو دعویٰ کررہی تھیں لیکن جب سیاسی حکومتیں آئیں تو ان میں سے کسی نے بھی اضلاع کی سطح پر اختیارات منتقل نہیں کئے۔سندھ میں اتنی تاخیر کے بعد جب اب ایک نیاقانون لایا گیا ہے بلدیاتی اداروں سے متعلق تو اس پر اپوزیشن کی جماعتیں اور بالخصوص شہری سندھ کی جماعتیں سراپا احتجاج ہیں۔ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کی مداخلت کے بعد سندھ اور کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات منعقد کرائے جارہے ہیں۔اس کے لئے انہوں نے وہ قانون پاس کرنے کی کوشش کی ہے کہ جس میں کچھ بچا ہی نہیں ہے۔آئین کی آرٹیکل40A کے مطابق بلدیات کو جو اختیارات ملنا چاہئیں وہ تو اختیارات کی منتقلی ہوتا ہے آئین کے اتنے براہ راست آرڈر کے باوجود ایک اسمبلی اس کے خلاف بل کررہی ہے۔ 2012-13ء میں جب ایم کیو ایم صوبے اور وفاق میں پیپلز پارٹی کی اتحادی تھی اس وقت یہ دو قوانین بنے تھے۔ اب بلدیہ سے اسپتال، ڈسپنسریوں تک کے اختیارات واپس لے لئے گئے ہیں۔ پیدائش اور اموات کے سرٹیفکیٹ جاری کرنا یونین کونسلوں کا بنیادی کام ہوتا ہے وہ تک سندھ حکومت نے ہتھیا لیا ہے اوریہ سب ان کا ایجنڈا ہے۔ اگر ایم کیو ایم مردم شماری ٹھیک کرانے میں کامیاب ہوجاتی تو صوبے کا ایک بہت بڑا مسئلہ حل ہوسکتا تھا۔12تاریخ کو ہم ایک بہت بڑا کراچی بچاؤ مارچ کررہے ہیں پھر ہم گھیراؤ کریں گے اور عدالت بھی جائیں گے۔ ہم ایم کیو ایم پر اس سلسلے میں بالکل اعتبار نہیں کرسکتے اور اس کے علاوہ پی ٹی آئی کا کراچی سے کیا لینا ہے۔ رہنما ایم کیو ایم پاکستان سینیٹر فیصل سبز واری نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کا اور کے پی اور پنجاب کا سلسلہ تھوڑا سا مختلف ہے۔صوبہ سندھ کا مختلف اس لئے ہے کہ یہاں کی جو حکمران جماعت ہے وہ بہت دیہی سندھ سے بڑی اکثریت لیتی ہے مگر شہری سندھ کبھی بھی ان کی راج دہانی نہیں رہا۔مگر وہ دیہی سندھ کی اکثریت کی بنیاد پر شہری سندھ کی قسمتوں کا فیصلہ کررہے ہوتے ہیں۔ظلم یہ ہے ٹیکس وصولی کراچی سے یہ300ارب وصول کررہے ہیں جس میں وفاق کو ایک روپیہ بھی نہیں دیتے مقامی ٹیکس سے یہاں خرچ نہیں کر رہے۔ اس پر ستم بالائے ستم یہ ہے کہ صوبہ سندھ کی تعلیم کا کیا حال ہے یہ کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کو بھی تباہ کرنے کے درپے ہیں اس کو بھی لے جارہے ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ یہاں کے صحت کے بھی جو تھوڑے بہت ادارے رہ گئے تھے ان کو بھی اپنے ساتھ لے جارہے ہیں۔ این ایف سی ایوارڈ میں جو840ارب روپے اس سال صوبہ سندھ کو مل رہے ہیں اس میں سب سے زیادہ شیئر کراچی کا ہے۔90فیصد صوبائی ریونیو کراچی شہر سے جمع ہورہا ہے وفاق کا60فیصد سے زائد کراچی سے جمع ہورہا ہے۔ یعنی میرے پیسے آپ مجھ سے لے کر واپس مجھے نہیں دینا چاہتے، کہتے ہیں کہ یہ آپ کے پیسے ہیں ۔دھیلا جمع نہیں کیا اور جہاں سے جمع ہوا وہاں خرچ نہیں کرنا چاہتے اور اس کے بعد وہاں کے لوگوں کو پانی کی لائن،سیوریج کا پلان، بلڈنگ کنٹرول کسی چیز کا اختیار نہیں دیتے۔ شہر تباہ کردیا ہے یہاں کے وزیراعلیٰ نے 13سال میں صرف زبان چلائی ہے 13برس میں13 بوندیں پانی نہیں دیا ہے۔صرف نسلہ ٹاور کا مسئلہ نہیں ہے گوجر نالہ،اورنگی نالہ ، محمود آباد ان ساری جگہوں کے مسئلے ہیں۔ چیئرمین پاک سرزمین پارٹی سیدمصطفی کمال نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ سندھ حکومت کے نئے بلدیاتی نظام پر بنیادی اعتراض یہ ہے کہ یہ نظام ہی نہیں ہے یہ جمہوریت پر ا ٓئین پراور اخلاقیات پر ایک بدنما داغ ہے۔پہلے انہوں نے 2013ء میں بہت سارے اختیارات اوروسائل لے لئے تھے وزیراعلیٰ2013ء سے مقامی حکومت کے پانی اور گٹر لائنوں کے بھی انچارج تھے ماسٹر پلان کے انچارج تھے اور ڈپارٹمنٹس کے انچارج تھے۔سٹی گورنمنٹ کی پراپرٹیز پر بھی انہوں نے قبضے کرلئے آمدنی کے جتنے ذرائع تھے ان پر بھی قابض ہوگئے۔ ان کا اس پر بھی دل نہیں بھرا تو انہوں نے میئر بنانے کا طریقہ کار پر بھی تبدیل کردیا اب میئر بننے کے لئے کونسل کا ممبر ہونا ضروری نہیں ہے اور میئر خفیہ رائے شماری سے منتخب کیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی جو13ال سے حکومت کررہی ہے کل یہاں پر کوئی غیر جمہوری طاقت آتی اور اس کو ختم کرتی ہے تو کراچی والے کیوں نہ مٹھائی بانٹیں، کیوں جمہوریت کے جانے پر جشن نہ منائیں۔ اس ملک کی جمہوریت کو اس ملک کے سو کالڈ جمہوری لوگوں سے خطرہ ہے آپ کل کے دہشت گرد آج پیدا کررہے ہیں۔آج جب پیپلز پارٹی دہشت گرد بنا رہی ہے کوئی اس کو روکنے والا نہیں ہے ۔2013ء سے کی جانے والی اب تک کی تمام ترامیم کو واپس لیا جائے 2001ء کے بلدیاتی نظام میں مزید ترامیم کرکے مزید بااختیار بنایا جائے ۔جس طرح این ایف سی ایوارڈ دیا جاتا ہے اسی طرح پی ایف سی ایوارڈ بھی جاری کیا جائے۔جس طرح آئین میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے اختیارات درج ہیں اسی طرح میئر کے ڈپارٹمنٹس بھی درج کئے جائیں۔مقامی حکومتوں کے انتخابات منعقد ہونے کے بعد عام انتخابات کا شیڈول جاری کیا جائے۔ رہنماپیپلز پارٹی سعید غنی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں لوکل گورنمنٹ قانون بنایا گیا تھااس وقت صوبائی اسمبلیوں کا کوئی وجود نہیں تھاتو انہوں نے خود سے فیصلہ کیااور صوبائی بہت سارے محکمے devolve کرکے انہیں دے دیئے۔ وہ نظام دس سال تک تمام صوبوں میں چلا۔ بدقسمتی سے ہماری جتنی بھی سیاسی جماعتیں ہیں وہ اس نظام کے ساتھ موازنہ کرتی ہیں جو بغیر صوبائی اسمبلیوں کی مشاورت سے بنا تھا۔آج کے ڈی اے، واٹر بورڈ،کے ایم سی کا برا حال ہے تو ہمیں دیکھنا چاہئے کہ کیوں ہوا ہے۔وہ قانون تمام صوبوں نے ختم کردیا ہے۔ آج صوبائی حکومتیں موجود ہیں اور قانون بنانے کا اختیار صوبائی اسمبلیوں کے پاس ہے سب کو یہ حق ہے کہ وہ اس پر اعتراض اٹھائیں اور خاکہ پیش کریں کہ اس طرح کا بلدیاتی نظام ہونا چاہئے۔ لیکن کوئی اپوزیشن کی جماعت اسمبلی کو ڈکٹیٹ تو نہیں کرسکتی مجھے یہ حق تو نہیں پہنچتا کہ میں کے پی کے یا پنجاب کو جاکر کہوں یہ قانون بنایئے اعتراض میں اٹھا سکتا ہوں۔اگر یہ میئر کا انتخاب اوپن بیلٹ پر کرنا چاہتے تو ہمارے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ہم میئر کے انتخاب کے طریقہ کارکو نظر ثانی کرسکتے ہیں جو ادارے ہم نے لے لئے ہیں اگر یہ اس کو واپس لینا چاہتے ہیں ہم اس پر بھی بات کرسکتے ہیں۔ہم تو پولیس کے نظام میں بھی ان کو اختیار دینا چاہتے ہیں۔ ہم140A کی خلاف ورزی نہیں کررہے ہیں ہم انہیں تمام اختیارات دے رہے ہیں۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہمارے پاس لامحدود اختیارات ہوں مادر پدر آزاد ہوجائیں تو مادر پدر آزاد نہ وفاقی حکومت ہے نہ صوبائی حکومت ہے اور نہ بلدیاتی حکومت ہوسکتی ہے۔کراچی میں جو دو چار اسپتال کے ایم سی کے پاس ہیں وہاں پر بہت سارے مسائل ہیں وہ نہیں چل پارہے ہیں ۔ ہم نے نیک نیتی پر اسے لیا کہ بڑے اسپتال ہیں حکومت سندھ اس میں فنڈنگ کرے گی اور کراچی کے شہریوں کو صحت کی بہتر سہولتیں میسر آجائیں گی۔

اہم خبریں سے مزید