• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سانحہ سیالکوٹ نے شدت پسندی و مذہبی انتہاپسندی پر پھر خطرے کی گھنٹی بجادی

اسلام آباد ( طاہر خلیل،عاطف شیرازی) 2014میں پشاور میں سانحہ اے پی ایس کےبعد ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے اتفاق رائے سے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی تھی اور فیصلہ کیا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات پر وفاق اور صوبوں میں ایک ساتھ ترجیحی بنیادوں پر عمل کیا جائیگا ، لمحہ فکریہ ہے کہ 7برس گزرنے کے باوجود مذہبی انتہا پسندی اور شدت پسندی کے خاتمے کیلئے نیشنل ایکشن پلان کے 20 میں سے 9 نکات پر عمل نہ ہو سکا

پیرکو پارلیمانی قومی سلامتی کمیتی میں بھی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے بات ہوئی اور وزیرانسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کو اعتراف کرنا پڑا کہ نیشنل ایکشن پلان کے بعض نکات پر ایکشن نہ ہونے کی وجوہات کا جائزہ لیں گے اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے

ایکشن پلان کے تحت دینی مدارس کی رجسٹریشن ،نفرت انگیز تقریروں و مواد کی تشہیر ،فرقہ وارانہ تعصبات اور نظریات روکنے ،مدارس کی بینکوں کے ذریعے فنڈنگ ،ا نٹر نیٹ اور سوشل کے غلط استعمال کو روکنے کے فیصلہ کن اقدامات کی بات کی گئی تھی

ان میں سے بعض نکات پر جزوی عمل ہوا یا بالکل نہیں کیا گیا ، اس حوالے سےبیشتر کام صوبوں نے کرنا تھا اور مرکز میں نیکٹا کے ذریعے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی نگرانی کرنا تھی، نیکٹا بھی اب زیادہ فعال نہیں رہا ،سانحہ سیالکوٹ نے وطن عزیز میں شدت پسندی اور مذہبی انتہا پسندی کے بڑھتے رجحانات پر ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی

حالیہ برسوں میں مذہب کے نام پر عدم برداشت و رواداری اور ریاست میں اقلیتوں کو برابری کی بنیاد پر آئینی حقوق کی فراہمی کے اہم امور سوالیہ نشان بنے رہے ،قوم کی تربیت کیلئے نیشنل ایکشن پلان نے پارلیمان کیساتھ ،داخلہ ، خارجہ ، تعلیم ، مذہبی ہم آہنگی

اطلاعات و نشریات ، آئی ٹی ،قانون و انصاف وپارلیمانی امور ،حقوق انسانی ،دفاع سمیت 11 وفاقی وزارتوں اور انکے ذیلی اداروں ،انٹیلیجنس ایجنسیوں کو اہم ٹاسک دیئے تھے ، حالیہ برسوں میں پارلیمنٹ کے سامنے کوئی ایسی رپورٹ زیر بحث نہیں آئی جس میں بتایا گیا ہو کہ نیشنل ایکشن پلان کے اہداف پر کس حد تک عمل کرنے میں کامیاب رہے

اس دوران مذہبی رواداری کے فقدان کے کئی مظاہروں نے پاکستان کا تشخص مجروح کیا ، سپریم کورٹ نے اقلیتوں کے حقوق کی بازیابی کیلئے 3 از خود نوٹس لئے ، اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 1980 سے 1986 کے ضیا دور میں توہین مذہب کے واقعات 14 سے بڑھ کر 1500 سے زیادہ ہو گئے ان واقعات میں 128 افراد بے قابو’ ہجومی انصاف ‘کا شکار ہوئے اور انہیں ہجوم نے قانون کے کٹہرے میں لانے کا موقع ہی نہیں دیا،پاکستان میں حقوق انسانی کیلئے کام کرنیوالی غیر سرکاری تنظیموں نے مذہبی تعصبات کی فروغ پذیر اور شدت پسندانہ رویوں کو پاکستان کی داخلی سلامتی کیلئے الارمنگ اور سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے

بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق 1987 سے 2021 کے درمیان پاکستان میں توہین مذہب قوانین کے تحت 1865 افراد پر فرد جرم عائد کی گئی، صورت احوال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہجومی انصاف کے تباہ کن رجحانات سے تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہیں رہے

2017 میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں مشال خان کو تشدد کر کے قتل کر دیا ، نومبر 2020 میں قائد آباد خوشاب میں سیکورٹی گارڈ نے توہین مذہب کے الزام میں بینک منیجر کو قتل کر دیا

مشال خان کیس کے 57 میں سے 25 ملزم سزا پا چکے اور بعض سزا مکمل کر کے رہا ہو چکے ، رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک بھر میں تقریبا ً 80 افراد قید میں ہیں جن پر ہجومی انصاف کے ذریعے موقع پر تشدد سے ہلاکتوں اور لاشوں کی بے حرمتی کے الزامات ہیں

23 دسمبر کو سیالکوٹ میں سری لنکن باشندے پر تشدد ہلاکت اور لاش نذر آتش کرنے کے واقعہ سے قبل 15 اگست 2010 میں سیالکوٹ میں ہی ہجومی انصاف کا واقعہ ہو ااور چوری کے الزام میں دو نو عمر حافظ قرآن بھائیوں کو ہجومی انصاف کے ذریعے ایک چوک میں سر عام تشدد کر کے قتل کر دیا ، 9 ملزم پکڑے گئے اور 8 اپریل 2016 کو 7 ملزموں کو سزائے موت دیدی گئی، پاکستان کی عدالتوں میں اس وقت توہین مذہب کے 600 کیسز زیر التوا پڑے ہیں

یورپی یونین اور امریکا نے متعلقہ قانون بدلنے کا مطالبہ کر رکھا ہے ، کوٹ رادھا کشن میں نومبر 2014 میں توہین مذہب پر میاں بیوی شمع اور شہزاد کو ہجومی انصاف کے ذریعے تشدد سے قتل کر کے لاشیں جلا دی گئیں 660 افراد کیخلاف مقدمہ درج ہوا ملزم سزا کے انتظار میں ہیں،کمزور پراسیکوشن اور عدالتوں کو تھر یٹس کی بناء پر سنگین جرائم میں ملوث بیشتر ملزم حتمی سزایاب نہیں ہو سکے

نیشنل ایکشن پلان کے ذریعے شدت پسندانہ رجحانات روکنے اور صبر و تحمل، برداشت رواداری کے فروغ کیلئے دینی مدارس کو قومی دھارے میں لانے کے اہم اقدامات فوری توجہ کا طالب ہیں ۔

اہم خبریں سے مزید