• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں دوسرا اور عام شہریوں کے لئے پہلا اسکول سی ایم ایس ہائی اسکول کیپٹن پریڈی کی کوششوں سے 1854میں قائم ہوا۔ ابتدا میں اس کا نام ’’فری اسکول‘‘ اور بعد میں چرچ میشنری سوسائٹی اسکول رکھا گیا۔ اس اسکول کا ذریعہ تعلیم انگریزی تھا۔ باباے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے بھی اس اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بلدیہ کراچی نے اس اسکول کی تعمیر کے لئے زمین بطور عطیہ اور کچھ رقم بھی دی۔

تعمیر کے ایک سال بعد اس وقت کے کلکٹر کراچی کیپٹن پریڈی کی تجویز پر اس کا انتظام ایک مقامی کمپنی کو دیا گیا۔ 1854میں شائع ہونے والی میونسپلٹی کی پہلی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ اس اسکول میں فارسی پڑھنے کی فیس چار آنے اور سندھی پڑھنے کی فیس ایک آنہ ہے، مگر 1854ہی میں سندھی تعلیم مفت کردی گئی تھی۔ 

انگریز سندھ میں سندھی کو عام کرنا چاہتے تھے۔ اس کی وجہ ان کی سندھی دوستی نہیں بلکہ وسیع تر مقاصد تھے۔ انگریز برصغیر کے مسلمانوں کو زبانوں، مسلک، علاقوں اور مختلف فرقوں میں تقسیم کرنا چاہتے تھے تاکہ ملت میں اتحاد اور یک جہتی نہ رہے۔ وہ بڑی حد تک اپنی اس حکمت عملی میں کام یا بھی رہے۔ پورے برصغیر کے مسلمانوں کا ذریعے تعلیم فارسی زبان تھا۔ انگریزوںنے علاقائی زبانوں کو ترقی دی تاکہ مسلمانوں کی یک جہتی ختم ہو۔ اسی لئے انہوں نے سندھی سمیت مختلف زبانوں کا رسم الخط عام کیا۔ 1854میں تمام سول حکام کے لئے سندھی زبان پاس کرنا سندھی بول چال کا امتحان پاس کرنا لازمی قرار پایا۔ لہٰذا تمام حکام کے لئے 18ماہ کے اندر اندر سندھی امتحان میں کام یاب ہونے کے احکام صادر کئے گئے۔

کراچی گرامر اسکول، کراچی کا تیسرا اسکول ہے۔ یہ اسکول بھی 1854میں صد ر بازار میں رہائش پذیر پروٹسٹنٹ عیسائیوں کے لئےقائم کیا گیا۔ اسے چلانے کے لئے بلدیہ کراچی ہر ماہ 80روپے اور حکومت 100روپے دیتی تھی، 1870میں بلدیہ کراچی نے 40 ہزار روپے کی لاگت سے صدر میں اس اسکول کی عالی شان عمارت تعمیر کی۔ 1875میں یہ اسکول اس عمارت میں منتقل ہوا اور 27فروری 1877کو اس کا افتتاح ہوا۔ آج بھی کراچی گرامر اسکول شہر کے بڑے اسکولوں میں شامل ہے۔