• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مسیحی کمیونٹی کل مانچسٹر میں مظاہرہ کرے گی

مانچسٹر(غلام مصطفی مغل ) برطانیہ کی مسیحی کمیونٹی پاکستان میں اقلیتی کمیونٹیز کی کم عمر لڑکیوں کے اغوا، تبدیلی مذہب کے خلاف10دسمبر بروز جمعہ ایک بجے دن مانچسٹر میں قونصلیٹ جنرل پاکستان کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرے گی جس میں مسیحی کمیونٹی کے علاوہ مسلمان کمیونٹی بھی شرکت کرے گی ،مظاہرے کے آرگنائزر شفیق الزمان کے مطابق پاکستان میں مسیحوں کو جھوٹے کیسز کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور مسیحیوں کو تیسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے،اس کے خلاف ہماری جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ہمیں انصاف نہیں مل جاتا، انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کوپرامن اور آئیڈیل ریاست بنانا چاہتے ہیں جب کہ قیام پاکستان میں مسیحی کمیونٹی کا اہم کردار ہے،پنجاب کوپاکستان میں شامل کرنے کےلئے تقسیم کے وقت اگر تین مسیحی ارکان پاکستان کے حق میں ووٹ نہ دیتے تو آج پاکستان دنیا میں وجود ہی نہ رکھتا، قائد اعظم محمد علی جناح نے مسیحی کمیونٹی کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ انہیں پاکستان میں مکمل آزادی دی جائے گی لیکن پاکستان بننے کے بعد آہستہ آہستہ مسیحوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا، پاکستان کے دفاع میں مسیحی شہداءکا بہت بڑا حصہ ہے لیکن آج نصاب میں سے مسیحی ہیروز کو خارج کیا جا رہا ہے ،ہم یہ چاہتے ہیں کہ کسی بھی توہین کے کیس کی تفتیش ہونی چاہئے اور یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام ہے کہ اگر کسی پر توہین ثابت ہوتی ہے تو اسے سزادی جائے تاہم پاکستان میں قانون اپنے ہاتھ میں لے کر ایسے لوگ بھی توہین کے جھوٹے ملزم کو مارنے چل پڑتے ہیں جن کو یہ علم ہی نہیں کہ توہین ہے کیا چیز، انہوں نے مطالبہ کیا کہ توہین مذہب کا دائرہ کار تمام مذاہب تک پھیلا جائے اور اسلام کے ساتھ دیگر مذاہب کی توہین کو بھی جرم قرار دیا جائے ، انہوں نے سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کی موت پر دکھ کا اظہار کیا اور اس کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس نے دنیا بھر کے پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکا دئیے ہیں ،ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں مسیحوں سمیت تمام اقلیتوں کو ان کے قانونی حقوق دئیے جائیں،مسیحوں کی عبادت گاہوں اور ان کے مذہب کو بھی وہی تکریم دی جائے جو کسی دوسرے مذہب کو دی جاتی ہے۔
یورپ سے سے مزید