• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

باہر بیٹھ کر ہمارے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، وزیر اعظم


وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ باہر بیٹھ کر ہمارے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، باہر بیٹھ کر کہتے ہیں پاکستان خطرناک ملک ہے۔

اسلام آباد میں پرامن اور خوشحال جنوبی ایشیاء کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ تھنک ٹینکس نہ ہو تو باہر کے آئیڈیاز لینے سے اس کے غلام بن جاتے ہیں، ملک میں اس طرح کے تھنک ٹینکس کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1960ء کی دہائی میں معیاری منصوبہ بندی کمیشن ہوتا تھا، نائن الیون کے بعد امریکی تھنک ٹینکس پاکستان پر تبصرہ کرتے تھے، امریکی تھنک ٹینکس پاکستان سے متعلق زیادہ نہیں جانتے تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب بھی جنگوں سے مسئلے حل کیے گئے، اندازے غلط ہوتے ہیں، غلط اندازوں کی وجہ سے جنگ چلتی جاتی ہے، آخری وقت تک کوشش کرنی چاہیے کہ مسئلہ ڈائیلاگ سے حل کریں۔

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ میں نے مودی کو کال بھی کی لیکن احساس ہوا وہ اسے ہماری کمزوری سمجھ رہا تھا، آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی سے ہمارا مقابلہ تھا، بھارت میں آر ایس ایس کا نظریہ پائیدار نہیں، آر ایس ایس نے بھارت میں تقسیم کا نظریہ دیا ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کے ہوتے ہوئے بھارت کو بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں، بھارت میں جو ہو رہا ہے وہ کشمیر ہی نہیں بھارت کیلئے بھی برا ہے، بھارت میں 50 سے 60 کروڑ افراد کو دوسرے درجے کے شہری کہا جاتا ہے، بھارت کشمیر کو ظلم سے دبا رہا ہے، کشمیر کا مسئلہ صرف ڈائیلاگ سے حل ہوگا۔

کانفرنس سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ مستقبل کیلئے افغانستان میں امن ضروری ہے، وسط ایشیا سے رابطوں کیلئے افغانستان میں امن کی شدید ضرورت ہے، افغانستان کو انسانی بحران سے بچانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایشو 4 کروڑ افغان باشندوں کا ہے، پوری کوشش ہے دنیا کو آگاہ کریں، پچھلی بار ہم سرد جنگ کا حصہ بنے جس سے بڑا نقصان ہوا، ہمیں کسی بلاک کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمالیہ کے گلیشئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، بھارت بھی ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر ہورہا ہے، مل کر مسئلہ حل کرنا چاہیے۔

شاہ محمود قریشی نے پرامن اور خوشحال جنوبی ایشیا کے موضوع پر کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں خوشحالی کیلئے علاقائی روابط کا فروغ ضروری ہے، مستقبل میں خطے میں جدید ٹیکنالوجی کی حکمرانی ہوگی، افغانستان میں 4 دہائیوں سے جنگ کی صورتحال ہے۔

قومی خبریں سے مزید