• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چند برس قبل لندن سے شائع ہونے والے ایک جریدے میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ موسموںکی تبدیلی پوری دُنیا میں انسانی صحت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ آنے والےبرسوں میں اس کا بہت سے علاقوں پر اثر ہوگا اور کروڑوں انسانوں کی صحت اور زندگی کو خطرہ لاحق ہوگا۔ اس کی وجہ سے سمندروںکی سطح بڑھ جائے گی، طوفان اور سیلاب آئیں گے، بیماریاں پھیلیں گی اور قدرتی وسائل میں کمی آجائےگی۔ 

اِن عوامل کی وجہ سے بہت سے علاقے تباہ ہو جائیں گے۔امریکا میں کی جانے والی ایک سائنسی تحقیق کی رپورٹ کے مطابق اس بات کے واضح شواہد ملے ہیں کہ ماحول دشمن انسانی سرگرمیوں سے ماحولیاتی تبدیلیاں واقع ہورہی ہیں۔’’فیڈرل کلائیمیٹ چینج‘ ‘نامی سائنسی منصوبےکے مطابق پچاس برسوںسے وقوع پذیرہونے والی موسمیاتی و ماحولیاتی تبدیلیاں صرف قدرتی عمل کا نتیجہ نہیں ہیں۔

مذکورہ رپورٹ کے مطابق زمین کی سطح اور نچلی فضا کا درجۂ حرارت بڑھ گیا ہے، تاہم سائنس دانوں کے مطابق اس تحقیق کے مزید تجزیے کے لیے بہترڈیٹا کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ زمین کی سطح کا درجۂ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے لیکن اس کے مقابلے میں زمین کی نچلی فضا کا درجہ ٔحرارت اس شرح سے نہیں بڑھ رہا۔ اور یہ حقیقت ماحولیاتی طبیعیات کے اصولوں یا قدرتی عمل کے برعکس ہے۔

ماہرین کے مطابق زمین کی نچلی فضا کے درجہ حرارت کا مشاہدہ نہایت پے چیدہ عمل ہے، جس میں غلطی کی کافی گنجائش ہوسکتی ہے۔ پہلے زمانے میں لوگ آسمان کی کیفیات دیکھ کر موسم کے بارے میں اندازے لگاتے تھے۔ لیکن آج ماہرینِ موسمیات کے پاس مختلف قسم کے حساس و پےچیدہ آلات موجود ہیں۔

1854ءمیں ایک فرانسیسی بحری جنگی جہاز اور کئی تجارتی جہاز شدید طوفان کی لپیٹ میں آکر تباہ ہو گئے تھے۔ موسمیاتی ریکارڈ کی جانچ پڑتال سے پتاچلاکہ اس تباہی سے دو دن پہلے یہ طوفان یورپ کے شمال مغرب سے جنوب مشرق تک کے علاقے کو تہس‌نہس کر چکا تھا۔ اگر طوفان کی حرکات کا تعیّن کرنے کا کوئی نظام موجود ہوتا تو جہازوں کو اس بارے میں پہلے سے مطلع کیا جاسکتا تھا۔ 

لہٰذا، تب سے فرانس میں طوفان سے لوگوں کو پہلے سے آگاہ کرنے کی قومی خدمات کا آغاز کیاگیا اور یوں جدید علمِ موسمیات کی ابتدا ہوئی،تاہم سائنس دانوں کو دیگر مقامات سے موسمی معلومات حاصل کرنے کےلیے فوری رابطے کے نظام کی ضرورت تھی۔کچھ عرصے قبل سموئیل مورس کا ایجاد کردہ الیکٹرک ٹیلی گراف (تاربرقی) اس کام کے لیے نہایت مؤثر ثابت ہوا۔ اس کی مدد سے پیرس آبزرویٹری کے لئے 1863 ءمیں جدید طرزکے پہلے موسمی نقشے کو شایع کرنا ممکن ہوااور 1872 ءتک برطانیہ کا محکمۂ موسمیات بھی ایسے نقشے تیار کرنے لگا۔

ماہرین ِموسمیات کو جتنی زیادہ معلومات موصول ہوتی رہیں، اسی قدر وہ موسم کی پے چیدگی سے واقف ہوتے چلے گئے اور نئےنئے ترسیمی آلات بنائے گئے، تاکہ موسمی نقشے اضافی معلومات مہیا کر سکیں۔ آج کل پوری دُنیا کے سیکڑوں موسمیاتی اسٹیشنز ریڈیائی موسم پیما غبارے فضا میں چھوڑتے ہیں جو موسمی حالات کے بارے میں معلومات زمین پر بھیجتے ہیں۔ اس مقصد کے لیےریڈار بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ ماہرین موسمیات ریڈیائی لہریں بادلوں کی جانب بھیجتے ہیں، جو ان میں موجود پانی کے قطروں اور برف سے منعکس ہو کر واپس آتی ہیں اور یوں طوفانوں کی شدت اورسمت کا تعیّن کرنا ممکن ہوتا ہے۔

درست موسمیاتی پیش گوئی کےضمن میں1960 ءمیں سائنس دانوں کو بہت بڑی کام یابی حاصل ہوئی تھی جب پہلا موسمی سیارہ ٹی وی کیمرے کے ساتھ خلا میں چھوڑا گیا۔آج اس سے کہیں زیادہ جدید بہت سے موسمی سیارے زمین کے چاروں طرف گردش کر رہے ہیں۔

آج ہمارے لیے یہ جاننا تو قدرے آسان ہے کہ اس وقت موسم کیسا ہے، مگر اگلے گھنٹے، اگلے دن یا اگلے ہفتے میں موسم کیسا ہوگا، اس کی پیش گوئی کرنا ذرا مشکل کام ہے۔پہلی عالمی جنگ کے بعد، برطانوی ماہرِموسمیات لوئیس رچرڈسن نے خیال پیش کیا تھا کہ موسم طبعیاتی قوانین کے تابع ہے، اس لیے وہ ریاضیات کی مدد سے موسم کی پیش گوئی کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے وضح کردہ فارمولے اتنے پے چیدہ اور اعدادوشمار کا سلسلہ اس قدر وسیع اور وقت طلب تھا کہ انہیں استعمال کرکے پیش گوئی کرنے والوں کے کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ہی موسم گزر جاتا تھا۔ بعد میں ماہرین نے ہر چھ گھنٹے پر موسمی اعدادو شمار جمع کرنے کاطریقہ استعمال کیا۔فرانسیسی ماہر ِموسمیات رانے شابو کے مطابق درست پیش گوئی کے لیے زیادہ سے زیادہ ہر تیس منٹ بعد پیمائش کی جانی چاہئے۔ تاہم کمپیوٹر کی ایجاد سے اب بڑےبڑے اعداد وشمار کا تیزی سے حساب کرنا ممکن ہو گیا۔

ماہرینِ موسمیات نے زمین کی سطح کو گرڈ میں تقسیم کر دیا ہے۔اس وقت برطانوی محکمۂ موسمیات جو عالمی نقشہ استعمال کر رہا ہے، اُس پر گرڈ پوائنٹس کا درمیانی فاصلہ تقریباً 80کلومیٹر کے فاصلے کی نمائندگی کرتا ہے۔

دی ورلڈ بُک انسائیکلوپیڈیا کے مطابق، کمپیوٹر جو فارمولے استعمال کرتے ہیں، وہ محض موسم کی مختلف حالتوں کی بابت سطحی معلومات ہوتی ہیں۔لہٰذا اس میں کسی حد تک مہارت کا عمل دخل بھی ضروری ہے۔ اس ضمن میں موسمیاتی پیش گوئی کرنے والے کا کردار اہم ہے۔ وہ اس بات کا تعیّن کرنے کے لئے تجزیہ کرتا ہے کہ حاصل ہونے والی معلومات کی اہمیت کیا ہے۔اس سے وہ زیادہ صحیح پیش گوئی کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔

مثلاً جب بحرِشمالی کی ٹھنڈی ہوائیں یورپی خطے میں داخل ہوتی ہیں تو اکثر ہلکے سے بادل چھا جاتے ہیں۔ یہ بادل برّاعظم یورپ میں بارش کی علامت ہو سکتے ہیں یا پھر سورج کی تپش کی وجہ سے درجۂ حرارت میں ایک ڈگری کے فرق سے بھی بخارات بن کر اُڑ سکتے ہیں۔ پیش گوئی کرنے والے کی معلومات اور ایسی صورت حال سے متعلق اُس کا سابقہ تجربہ اُسے مستند صلاح دینے کے قابل بناتا ہے۔ علم و فن کا یہ امتزاج درست پیش گوئیاں کرنے کے لیے لازمی ہے۔

برطانوی محکمۂ موسمیات24گھنٹے کی پیش گوئی کے 86فی صد درست ہونے کا دعویٰ کرتا ہے،جب کہ یورپین سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹس سے حاصل ہونے والے ریکارڈز80 فی صدتک درست ہوتے ہیں، لہٰذا1970 کی دہائی کے اوائل میں کی جانے والی دوروزہ پیش گوئیوں کے مقابلے میں یہ زیادہ قابلِ اعتماد ہیں۔

موسمی نظام بہت پے چیدہ ہوتے ہیں۔ سو فی صد درست پیش گوئی کرنے کے لئے موجودہ تمام پیمائشیں لیناناممکن ہے۔ وسیع سمندر میں موسم کا حال معلوم کرنے والا کوئی اسٹیشن نہیں ہے، جہاں سے معلومات بہ ذریعہ سیٹلائٹ زمینی اسٹیشنز کو بھیجی جا سکیں۔ علاوہ ازیں، سائنس داں موسم تشکیل دینے والے تمام قدرتی عوامل کو تاحال پوری طرح سمجھ نہیں پائے ہیں،تاہم موسم کے بارے میں پیش گوئی کرنے کے نظام مسلسل بہتربنائے جارہے ہیں۔

مثال کے طور پر کچھ عرصہ پہلے تک موسمیاتی پیش گوئی کا انحصار زیادہ تر فضائی مشاہدے پر ہوتا تھا۔ لیکن کرہ ارض کا 71فی صد حصہ سمندر پر مشتمل ہے۔ اس لیے سطح سمندر پر تیرنے والے آلات کے نظام کی مدد سےگلوبل اوشین آبزروِنگ سسٹم پانی کے درجۂ حرارت میں ہلکے سے اضافے کی بابت بھی معلومات فراہم کرتا ہے، جو دُوردراز کے علاقوں کے موسم میں تبدیلی پیدا کرنے کا سبب ہوتا ہے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید