• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسکرین ٹائم کی زیادتی سے بچوں کا ذہنی طور پر متاثر ہونا

کووِڈ-19نے صحت اور معیشت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے معمولات زندگی کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ وبائی مرض کی وجہ سے لگنے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کی اکثریت نے گھر پر وقت گزارا، جس کی وجہ سے ان کا آن لائن کام کرنے، بچوں کا آن لائن کلاسز لینے اور فارغ اوقات میں ٹی وی دیکھنے، موبائل استعمال کرنے اور ویڈیو گیمز کھیلنے میں وقت گزرا۔ ان معمولات کی وجہ سے لوگوں کا اسکرین ٹائم بہت بڑھ گیا تھا اور یہ عادت ایسی پختہ ہوئی کہ لوگ اب بھی موقع ملتے ہی اسکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارتے ہیں۔

ویسے تو زائد اسکرین ٹائم ہر عمر کے افراد کے لیے ٹھیک نہیں ہے لیکن بچوں کے معاملے میں یہ عادت طویل مدت میں پریشانی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق دو گھنٹے سے کم وقت اسکرین کے سامنے گزارنے والے بچے ذہنی طور پر زیادہ مستعد رہتےہیں اور دوسرے بچوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر تعلیمی کارکردگی دکھاتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بھی پتا چلا کہ ایسے بچے کھانے پینے میں اچھے ہوتے ہیں، وہ مناسب نیند لیتے اور جسمانی طور پر زیادہ متحرک رہتے ہیں۔

ماہرین کی جانب سے تجویز دی جاتی ہے کہ بچے کی ذہنی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ان کے اسکرین ٹائم کو 2 گھنٹے تک محدود کریں اور تفریح کی غرض سے کچھ وقت کے لیے انھیں ٹی وی، موبائل یا دیگر گیجٹس استعمال کرنے دیں۔ تاہم، دو سال سے کم عمر بچوں کا اسکرین ٹائم آدھے گھنٹے سے زیادہ نہ ہو۔ اس حوالے سے گائیڈ لائنز مرتب کرنے کے لیے 8سے11سال کی عمر کے ساڑھے چار ہزار امریکی بچوں پر ایک تحقیق کی گئی، جس میں محققین نے دریافت کیا کہ 37 فیصد بچوں کے پاس تفریحی سرگرمیوں کے لیے اسکرین کا وقت دو گھنٹے یا اس سے کم ہے۔

51 فیصد بچے رات کو 9سے 11 گھنٹے بلاتعطل نیند لیتے ہیں جبکہ 18فیصد بچوں کا اسکرین ٹائم ایک گھنٹے سے بھی کم ہے اور وہ اعتدال کے ساتھ بھر پور جسمانی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ تحقیق میں شامل صرف 5فیصد بچوں نے تینوں سفارشات پر عمل کیا۔ دو گھنٹے سے زائد اسکرین دیکھنے والے 29فیصد بچے درج بالا تینوں زمروں میں نہیں آتے تھے۔ تحقیق سے یہ ثابت ہوا کہ کم اسکرین ٹائم استعمال کرنے والے بچوں کی یادداشت ، توجہ اور ذہنی کارکردگی بہتر رہتی ہے۔

اسکرین ٹائم کا نیند کو متاثر کرنا

یونیورسٹی آف وسکونسن میڈیسن میں انسانی ترقی اور خاندانی علوم میں پی ایچ ڈی کرنے والے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیتھر کرکورین جو اس مطالعے میں شامل نہیں تھے ،انہوں نے کہا کہ اس تحقیق کی ایک طاقت یہ ہے کہ محققین نے بچوں کی ذہنی و جسمانی قابلیت کو والدین کے ذریعے جانچنے کے بجائے براہ راست اس کا تعین کیا۔ 

اگرچہ نتائج سے صرف ان عوامل کے مابین کچھ وابستگی ظاہر ہوتی ہے ، لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ درحقیقت اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ اس بارے میں ان کا مزید کہنا تھا، ’’ہم جانتے ہیں کہ سونے سے پہلے اسکرین ٹائم آپ کی نیند کے معیار کو متاثر کرتا ہے ، لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ مختصر مدت کیلئے سونے والے زیادہ اسکرین ٹائم میں مشغول رہتے ہیں‘‘۔

ایک اور تحقیق میں اسکرین ٹائم، نیند اور جسمانی سرگرمیوں سمیت بچوں کے کھانے پینے کی عادات ومعمولات جاننے کیلئے10سے 11 سال کے 4ہزار بچوں کا مطالعہ کیا گیا۔ اس مطالعے میں شامل جن بچوں نے اسکرین ٹائم اور نیند کی سفارشات کو پورا کیا، ان کی جانب سے ایک سال بعد لیے جانے والے ایک معیاری تحریری امتحان میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا۔

بالخصوص انھوں نے ریاضی، پڑھنے اور لکھنے میں بہتر طرز زندگی کو اپنا یا۔ اس مطالعہ کے مصنف البرٹا یونیورسٹی میں صحت عامہ کے پروفیسر اور پی ایچ ڈی، پال ویجلرز ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے طرزِ زندگی کا بچوں کی تعلیمی کارکردگی پر اچھا اثر پڑتا ہے۔ یہ مطالعہ صرف ٹی وی اسکرین سے متعلق تھا، لیکن ٹیبلیٹ اور موبائل پر وقت گزارنے کے مقابلے میں ویسے بھی ٹی وی دیکھنے کا دورانیہ کم ہوتا ہے۔

اسکرین کیلئے صحت مند عادات

ماہرِ اطفال ڈاکٹر چوپٹ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں، ’’مطالعہ یہ نہیں کہتا کہ اسکرینز استعمال ہی نہ کی جائیں بلکہ ایسے طریقے یاحل بھی موجود ہیں، جن سے بچوں کی نیند کے نظام الاوقات پر اثر نہیں پڑتا۔ دراصل، اسکرینزکے ذریعہ خارج ہونے والی نیلی روشنی جسم کی حیاتیاتی گھڑی کو متاثرکر سکتی اور نیند میں خلل ڈال سکتی ہے۔ لہٰذا، بچے (اور والدین) جب سونے کے لیے لیٹنے سے کم از کم ایک گھنٹہ قبل اپنی تمام اسکرین والی ڈیوائسز بند کردیں۔ اس کے علاوہ، رات ہوتے ہی نیلی روشنی والے موبائل فونز کا کم سے کم استعمال کرکے اس کے منفی اثر سے بچنے کی کوشش کریں‘‘۔

امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹریکس کے شائع کردہ ایک جرنل میں اس سلسلے میں کچھ تجاویز دی گئی ہیں، جن کے مطابق 5سال یا اس سے کم عمر بچوں کیلئے اسکرین کا وقت دو گھنٹے سے بھی کم وقت تک محدود رکھا جائے۔ تاہم، اس سے بڑی عمر کے بچوں اور نوعمر افراد کو تھوڑی چھوٹ دی جاسکتی ہے کیونکہ انھیں اپنے اسکول کے کام ، ہوم ورک، ریسرچ یا اسائمنٹ کی تیاری کیلئے زیادہ وقت تک کمپیوٹر، لیپ ٹاپ یا ٹیبلیٹ استعمال کرنا ہوتا ہے۔ مگر ساتھ ہی تفریحی سرگرمیوں جیسے کہ فلمیں، ویڈیوز اور گیمز وغیرہ کے لیے ان کا اسکرین ٹائم کم کیا جائے۔ 

رہنما خطوط میں کہا گیا ہے کہ یہ لازمی نہیں کہ والدین کو اسکرین ٹائم کے ہر منٹ کے لیے بچوں کے ساتھ موجود ہونا چاہیے بلکہ اس کے لیے بچوں کو سمجھایا جائے تاکہ وہ خود بھی اس بات کا خیال رکھیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ صرف والدین کی ہی ذمہ داری نہیں کہ وہ بچوں کو اسکرین کے استعمال، کھانے پینے، جسمانی سرگرمی اور نیند کے لئے صحت مند عادات سیکھنے میں مدد کریں بلکہ اسکولوں ، اساتذہ ، اور کمیونٹیز کو بھی اس میں حصہ لینا چاہیے۔