• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جرمنی کی ڈائری /سیّد اقبال حیدر
جرمنی کے اعلیٰ اور طلباء دوست تعلیمی نظام کی گونج ہندوپاک ہی نہیں دنیا بھر بالخصوص ترقی پزیر ممالک میں آج شدت سے سنائی دے رہی ہے، جس کے نتیجے میں اعلیٰ تعلیم کے خواہش مند طلبا جرمنی میں حصول علم کی تمنا لئے جوق در جوق آ رہے ہیں، کورونا وبا کے دوران بھی یہ سلسلہ جاری رہا،ہمارے ممالک میں پہلے وڈیروں اور جاگیرداروں ہی کے بچے مغربی ممالک میں حصول علم کے لئے آتے تھے مگر جرمنی کی علم دوست یونیورسٹیوں نے اپنے کم خرچ تعلیمی نظام سے متوسط طبقے اور غریب گھرانے کے طلبا کے لئے بھی اعلیٰ تعلیم کے راستے کھول دیئے ہیں جن سے ہمارے نوجوان بھر پور استفادہ کر رہے ہیں، جرمنی میں صرف پاکستان سے آنے والے نوجوانوں کی تعداد لگ بھگ 8ہزار ہے جو بیچلر،ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کر رہے ہیں ،جرمنی میں کبھی بھی تعلیم کے بھاری معاوضے اور بھاری فیسوں کا تصور نہ تھا،یہاں تعلیم کمرشل سروس نہیں بلکہ پبلک سروس سمجھ کر دی جاتی ہے، ان ہی سنہری اصولوں کے تحت جرمنی کا نظام تعلیم کامیابی سے چل رہا ہے اور نظام تعلیم کی یہی خوبی جرمنی کو یورپ ہی نہیں دنیا بھر میں ممتاز کر دیتی ہے،ایشیا ہی نہیں برطانیہ اور امریکہ جیسے ممالک میں نظامِ تعلیم کمرشل ہو گیا ہے ،یونیورسٹیاں طلبا سے بھاری رقوم وصول کر رہی ہیں کیونکہ ان کا نظام تعلیم اسے پبلک سروس نہیں، بلکہ کمرشل سمجھتا ہے برطانیہ کے تعلیمی نظام میں توفیسوں میں طبقاتی تفریق بھی پائی جاتی ہے، برطانوی طلبا، یورپین کیمونٹی کے طلبا اور نان یورپین کمیونٹی کے طلباء کی فیسوں میں بڑا تضاد ہے، جرمنی کی یونیورسٹیوں کی مقبولیت کا سبب اعلیٰ تعلیمی معیار، اسکول سے لیکر یونیورسٹی تک مفت معیاری تعلیم کی سہولت ہے جو یورپ ،امریکہ اور دوسرے ممالک میں نظر نہیں آتی،جرمنی کی 16ریاستوں میں 15میں ابھی تک اسکول کی ابتدائی تعلیم سے لیکر یونیورسٹی کی اعلیٰ تعلیم PHD تک مفت ہے اور یہ سہولت مقامی جرمن طلباء ہی نہیں دنیا کے ہر کونے سے آنے والے طلباء کو حاصل ہے۔ پورے ملک میں صرف ایک ریاست’’ باڈ ووٹنگ برگ‘‘ میں کچھ معمولی فیس چارج کی جاتی ہے مگر وہاں بھی یہ شرط بیچلرز اور ماسٹرز کے لئے ہے PHD پروگرام وہاں بھی فری ہے، اس کی کوئی ٹیوشن فیس نہیں لی جاتی، جرمنی کی باقی15 ریاستوں میں تعلیمی اخراجات حکومت سبسٹدی کی شکل میں ادا کر کے طلباء کو مالی بوجھ سے آزاد کر دیتی ہے، جرمنی غیرملکی طلباء کو صرف مفت تعلیم ہی نہیں دیتا بلکہ دورانِ تعلیم پڑھائی کے ساتھ ساتھ کام کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے تاکہ بچوں کی تعلیم والدین پر بوجھ نہ ہو اور اس سہولت کا ذکر اُن کے اسٹوڈنٹ ویزے میں درج ہوتا ہے، فارغ التحصیل طلباء کو 12سے 18ماہ کا وقت دیا جاتا ہے کہ وہ جرمنی میں ملازمت ڈھونڈ سکیں، جن خوش قسمت طلبا کو ملازمت مل جاتی ہے وہ جرمنی میں مستقل قیام کر لیتے ہیں اور مقامی قانون کے مطابق وہ افراد مستقل ویزہ اور پھرجرمن شہریت کے اہل ہوتے ہیں ۔آج جرمنی میں سیکڑوں طلبا موجود ہیں جو تعلیم حاصل کرنے آئے اور آج جرمن شہریوں کی طرح باعزت روزگار کے باعث پُرسکون زندگی گزار رہے ہیں، غیر ملکی طلبا جرمنی کی کسی یونیورسٹی میں داخلہ ملنے اور تعلیم شروع کرنے تک اگر کسی مالی گارنٹی اور بینک اکائونٹ کھولنے کی کوئی شرط موجود ہے تو وہ یونیورسٹی نہیں بلکہ اس ملک میں جرمن ایمبیسی کی طرف سے ہے، اس لئے کہ طالبعلم جرمنی آنے اور تعلیم شروع کرنے تک تنگ دستی کا شکار نہ ہو اور صرف یہ گارنٹی کی حد تک ہے، جرمنی میں دوران تعلیم طلباء اپنی بنیادی تعلیم کے ساتھ ساتھ مختلف فری لینگویج ہی نہیں دیگر کورس بھی مفت کر سکتے ہیں ،تعلیم کے ساتھ ساتھ ملازمت کی سہولت دوران تعلیم یونیورسٹی میں موجود ’’شاپس‘‘ سے طلبا کو سبسڈی کے تحت ’’مینزا‘‘ میں کم قیمت کی فوڈ شاپنگ کی سہولت بھی ہوتی ہے،طلبا کو شہر ہی نہیں بلکہ پورے صوبے کی فری ٹرانسپورٹ کی سہولت ہوتی ہے، تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت اور مستقل قیام کے مواقع بھی ہوتے ہیں۔ نئے آنے والے طلبا بعض اوقات گھر، عزیز واقارب سے دور ہونے کے کے سبب اداسی اور ڈیپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں ان کے سینئر ساتھیوں اور جرمنی میں آباد ایشین کمیونٹی کا فرض ہے کہ ان کی حوصلہ افزائی کے لئے ان کے ساتھ قریبی رابطے استوار کریں، انہیں مذہبی مراکز سے متعارف کرائیں، عید اور دیگر خوشیوں کے مواقع پر انہیں نہ بھولیں کیونکہ یہی نوجوان ہمارے ممالک کا مستقبل ہیں، اس تحریر کی مدد سے میں پاکستان میں محکمہ تعلیم کے ذمہ داران، دانشوروں،میڈیا کے افراد اور علمائے کرام سے ملتمس ہوں کہ وہ جرمنی کے علم دوست کم خرچ تعلیمی نظام کی طرف نوجوانوں کی توجہ دلائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان اس سے استفادہ حاصل کر سکیں۔
تازہ ترین