چھوٹی اور درمیانے درجے کی (گھریلو)صنعتیں کسی بھی معیشت میں نہ صرف بیروزگاری کم کرنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ پاکستان جیسے زرعی و صنعتی ملک میں چمڑا، ٹیکسٹائلز، ہلکی و بھاری مشینری ، کھیلوں، برقی اور الیکٹرانکس کے سامان، ظروف سازی،لائیو اسٹاک، پولٹری اور ڈیری کے شعبوںمیںان کی شمولیت لازم و ملزوم ہے جس کے پیش نظر ماضی کی حکومتیں وقتاً فوقتاً مختلف پالیسیاں بروئے کار لاتی رہی ہیں۔ گذشتہ چند برس سے سخت گیری یا مختلف قباحتوں کی وجہ سے اس شعبے میںنئے آنے والوں کے رجحان میں کمی دیکھی جا رہی ہےجس کا اثر برآمدی صنعتوں پر بھی پڑا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے اپنے اقتدار کے چوتھے برس میںایک اسکیم وضع کی ہے جس کا اعلان وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کے ساتھ پریس کانفرنس میں صنعت و پیداوار کے وزیرخسرو بختیار نے بدھ کے روز اسلام آباد میں کیا ۔ ایس ایم ای پالیسی 2021 کے تحت چھوٹے اور درمیانے درجے کے نئے ( پیداواری)کاروبار کرنے والے افراد کو ایک کروڑ روپے تک کا بلا ضمانت قرضہ جاری کیا جا سکے گا ،ٹیکسوں میں 57سے 83فیصد تک چھوٹ ملے گی نیز انھیں این او سی کی بھی آزادی حاصل ہو گی۔ جبکہ خواتین کو ٹیکسوں میں 25فیصد خصوصی رعایت بھی اسکیم کا حصہ ہے۔ نئی پالیسی کے تحت گھریلو صنعتوں سے وابستہ افراد کومختلف شہروں میں 4200ایکڑ اراضی پر ساڑھے 19ہزار پلاٹ بنا کر آسان قسطوں پر دئیے جائیں گے۔ یہ ایک اچھی اسکیم ہے اور اسطرح کے منصوبے بہت سے ملکوں میں کامیابی سے ہمکنارچلے آرہے ہیں امید ہے کہ اس کی تیاری میں ماضی کی ان سخت گیر پالیسیوں کومدنظر رکھا گیا ہوگا جس کا ذکر متذکرہ پریس کانفرنس میں بھی کیا گیا ہے ۔ صنعتوں کے فروغ اور بیروزگاری کم کرنے کے لئے اس اسکیم کا کامیاب ہونا بہرحال ضروری ہے۔
اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998