• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانوی وزیراعظم کا پارٹی میں بغاوت کے باجود استعفیٰ دینے سے انکار

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر(فائل فوٹو)۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر(فائل فوٹو)۔

برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی مخالفت اور شدید دباؤ کے باوجود واضح کر دیا ہے کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے۔ کابینہ اجلاس سے خطاب میں انہوں نے بلدیاتی انتخاب میں پارٹی شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کی قیمت ملک اور عوام کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

لندن سے برطانوی میڈیا کے مطابق منگل کے روز کابینہ اجلاس کے دوران کیئر اسٹارمر نے دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم کے عہدے سے مستعفی نہیں ہوں گے اور حکومت اپنی آئینی مدت تک کام جاری رکھے گی۔

کیئر اسٹارمر نے مزید کہا کہ ملک ہم سے توقع کرتا ہے کہ ہم حکومت چلانے پر توجہ دیں اور یہی کام میں کر رہا ہوں اور بطور کابینہ ہمیں بھی یہی کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹے حکومت کیلئے غیر مستحکم ثابت ہوئے ہیں اور اس کی معاشی قیمت ملک اور عوام کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ لیبر پارٹی میں قیادت کو چیلنج کرنے کا ایک باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے، تاہم اب تک اس عمل کا آغاز نہیں کیا گیا۔ 

سیاسی مبصرین کے مطابق اسٹارمر کے اس بیان کو پارٹی کے اندر موجود مخالف دھڑے کیلئے ایک واضح پیغام اور کھلا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے، کیوں کہ اس اجلاس تک لیبر پارٹی کے کئی ارکان پارلیمنٹ ان سے قیادت چھوڑنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

واضح رہے کہ بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کی خراب کارکردگی کے بعد کیئر اسٹارمر کی قیادت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ بعض سینئر وزرا بھی ان سے مستقبل کے حوالے سے واضح لائحہ عمل مانگ چکے ہیں۔

برطانوی میڈیا نے اس کابینہ اجلاس کو ان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے اہم قرار دیا ہے۔ منگل کے روز ایک جونیئر وزیر نے استعفیٰ دے دیا جبکہ چند وزارتی معاونین بھی مستعفی ہوچکے ہیں۔

لیبر پارٹی کے 80 کے قریب ارکانِ پارلیمنٹ اور کابینہ کے اہم ترین وزراء بھی وزیراعظم سے مطالبہ اقتدار چھوڑنے کی واضح تاریخ کا مطالبہ کرچکے ہیں تاکہ پارٹی میں نئی قیادت کے انتخاب کا عمل شروع کیا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق ان وزراء میں وزیرِ داخلہ شبانہ محمود (جو پاکستانی نژاد برطانوی سیاست دان ہیں) اور وزیر خارجہ یویٹ کوپر سمیت کئی سینیئر کابینہ ارکان شامل ہیں جنہوں نے کیئر اسٹارمز کو مشورہ دیا ہے کہ وہ باعزت طریقے سے رخصتی کا ٹائم ٹیبل طے کر لیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے برطانیہ میں ہونے والے مقامی کونسل اور علاقائی انتخابات میں لیبر پارٹی کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پارٹی نے 30 کونسلز کا کنٹرول کھو دیا، جبکہ ویلز میں اسے بدترین شکست ہوئی۔ سینئر وزیر ڈیرن جونز کا کہنا ہے کہ کیئر اسٹارمر اپنے ساتھیوں سے مشورہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم جو بھی فیصلہ کریں گے، وہ ان کا اپنا اختیار ہوگا۔

اُدھر کیئر اسٹارمر نے پیر کے روز اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک تقریر میں وعدہ کیا تھا کہ وہ برطانیہ کو درپیش مسائل کے حل کیلئے زیادہ جرات اور تیزی سے اقدامات کریں گے، تاہم ان کی تقریر کے فوراً بعد مزید ارکان نے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا۔

انہوں نے خبر دار کیا کہ اگر محض دو سال بعد دوبارہ قیادت کی تبدیلی کی کوشش کی گئی تو عوام لیبر پارٹی کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ 

واضح رہے کہ کیئر اسٹارمر برطانیہ میں گزشتہ 5 برسوں میں چوتھے وزیراعظم ہیں، اور یہ بحران ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب بدھ کے روز شاہ چارلس کو پارلیمنٹ میں حکومت کا قانون سازی کا ایجنڈا پیش کرنا ہے۔

لیبر پارٹی کے قواعد کے مطابق، کسی بھی نئے امیدوار کو چیلنج کرنے کے لیے 20 فیصد ارکانِ پارلیمنٹ کی حمایت کے علاوہ نچلی سطح کی تنظیموں اور ٹریڈ یونینز کی تائید بھی لازمی ہے۔ لیبر پارٹی کی 125 سالہ تاریخ میں ارکانِ پارلیمنٹ نے کبھی کسی برسرِ اقتدار وزیراعظم کو اس طرح عہدے سے نہیں ہٹایا، جس کی وجہ سے یہ عمل کافی مشکل تصور کیا جاتا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق اگر کیئر اسٹارمر اپنا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ان کی جگہ لینے والوں میں وزیر صحت ویس اسٹریٹنگ، سابق نائب وزیر اعظم انجیلا رینر اور مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم وزارتِ عظمیٰ کے فیورٹ امیدوار ہوسکتے ہیں۔

برطانیہ و یورپ سے مزید