صبور فاطمہ
ماحول کے لغوی معنی گرد وپیش، اِردگرد کے ہیں، یعنی ہر وہ چیز جو کسی جان دار کے ارد گرد ہو اور اپنا اثر رکھتی ہو، اُسے ماحول کہتے ہیں۔ مجموعی طور پر ہم زمین، فضا اور پانی کو ماحول کہتے ہیں، جن میں تمام حیاتیاتی، طبیعاتی اور کیمیائی اجزاء و عناصر شامل ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جو کچھ اس دنیا میں ہے، اُسے ماحول ہی کہا جاتا ہے۔
بعض مفکّرین نے ماحولیاتی آلودگی کو محض ہوا، پانی، مٹّی اور زمینی آلودگی تک محدود کردیا ہے اور معاشرتی، اخلاقی، سیاسی، تعلیمی اور معاشی آلودگی کو ماحولیاتی آلودگی میں شامل نہیں کیا۔ لیکن اگر بہ نظرِ غائر ماحول اور ماحولیات کا جائزہ لیا جائے، تو یہ آلودگی محض ہوا، پانی اور مٹی تک محدود نہیں، بلکہ اس میں ہر طرح کی آلودگی شامل ہے۔
اس لحاظ سے ہمارے اردگرد موجود ہوا، پانی، زمین، چرند پرند، آسمان، درخت، گھاس، پھولوں کی خوش بُو، سورج کی روشنی، دُھوپ کی تمازت، چاند اور اُس کی کرنیں، مٹّی اور اُس کی خصوصیات، اِردگرد بسنے والے لوگ اور خود ہم اور ہمارا وجود ہمارا ماحول ہیں۔ اپنے ماحول سےمتعلق علم حاصل کرنا کہ اِسے بہتر سے بہتر کیسے بنایا جائے اور مُضر، خطرناک چیزوں سے اِس کا تحفّظ کیسے کیا جائے، یہ علم ’’ماحولیات کا علم“ کہلاتا ہے۔ اسی طرح سمندر اور آبی مخلوقات کی بقا و تحفّظ کا علم ’’میرین سائنس“ کہلاتا ہے اور ماحولیات کے ان علوم سے آگاہی ہی نتیجے میں انسان اپنے شعور و آگہی کے سبب اردگرد کے ماحول کو خوش گوار اورصحت مندبناسکتا ہے۔
یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ اسلام ماحولیات کے تحفّظ پر بہت زور دیتاہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء کسی نہ کسی طور بنی نوع انسان کے فائدے ہی کے لیے پیدا کی ہیں، لہٰذا یہ لازم ہے کہ اُن کا مناسب استعمال ہو اور اُنہیں تباہی سے بچایاجائے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ”اور ہم نے ہر شے کی تخلیق پانی سے کی ہے۔“ (سورۃ الانبیاء) ایک اورمقام پر فرمایا گیا ”بے شک، فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان تو خود اپنے ربّ ہی کا ناشُکرا ہے۔“ (سورۃ الاسراء) فرمایا گیا ”جو (مال) اللہ نے تمہیں عطا کیا ہے، اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکرکرو اور دنیا میں سے بھی اپنا حصّہ فراموش نہ کرو، احسان کرو، جس طرح اللہ نے تمہارے ساتھ احسان کیاہے اور زمین میں فساد برپاکرنے کی کوشش نہ کرو، بے شک، اللہ تعالیٰ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا۔“ (سورۃ القصص)۔ ایک اور ارشادِ ربّانی ہے ”زمین میں چلنے والے کسی جانور اور اُڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو، یہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع ہیں۔ ہم نے اُن کی تقدیر کے نوشتے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ پھر یہ سب اپنے رب کی طرف سمیٹے جاتے ہیں۔“ (سورۃ الانعام)۔
ہمیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اس دنیا میں ہر انسان کی دو حیثیتیں ہیں، اوّل مقامِ عبدیت، یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندگی کا تعلق اور دوم، انسان کا خلیفۃ اللہ ہونا، یعنی نیابتِ الٰہی۔ انسان کا کائنات کے ساتھ خلیفۃ اللہ ہونے کا جو تعلق ہے، اُس کا ذکر سورۃ البقرہ میں بھی ہے۔ اوّلین تعلق اور مقام پر فائز ہونے کی حیثیت سے ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام دنیا پر نافذ کرے۔ دوسرے تعلق کی حیثیت سے انسان کی ذمّے داری تسخیرِ کائنات کی ہے۔
یعنی ہر انسان میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ اپنی ذہانت، محنت، تحقیق اور فکر کے بَل پر کائنات میں موجود اشیاء کو اپنے استعمال میں لاسکتا ہے اور اُن کا رُخ انسانیت کی فلاح کی جانب موڑسکتا ہے۔ اس بات کی تائید کے لیے قرآنِ مجید میں متعدد آیات موجود ہیں۔ نیز،اگر قرآن مجید میں موجود 114 سورتوں کے عنوانات پر غور کریں، تو 25 سے زائد سورتوں کے نام ہمارے اِردگرد یعنی ہمارے ماحول میں پائی جانے والی اشیاء کے ناموں پر ہیں۔ مثلاً، سورۃ البقرۃ (گائے)، سورۃ الانعام (جانور/چوپائے)، سورۃ الرّعد (بادل کی گرج)، سورۃ النّحل (شہد کی مکّھی)، سورۃ النّمل (چیونٹی)، سورۃالعنکبوت (مکڑی)، سورۃالزّخرف (سونا)، سورۃالنّجم (ستارہ)، سورۃالقمر (چاند)، سورۃالحدید (لوہا)، سورۃ الشّمس (سورج)، سورۃ التّین (انجیر)، سورۃ العادیات (سرپٹ دوڑنے والے گھوڑے)، سورۃ الفیل (ہاتھی)، سورۃ الطّور (کوہِ طور) اورسورۃ النّاس (انسان)۔
اس کے علاوہ اور نام بھی ہیں، یہاں چند سورتوں کے ذکر سے مقصود یہ ہے کہ اسلام اور ماحول کے مابین تعلق کے حوالے سے غور وفکر کیا جائے۔ پھر قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی پسندیدگی کا اظہار ان صفات کے لوگوں کے ساتھ کیا ہے، جو خُوب توبہ کریں اورخود کو پاک و صاف رکھیں۔ یعنی وہ ماحولیاتی آلودگی کے تدارک و سدّباب کے ساتھ ساتھ ماحول دشمن منفی رویّوں سے بھی اجتناب کریں۔
قرآنِ مجید میں ہمیں لباس کی صفائی کے حوالے سے واضح احکام ملتے ہیں۔ اسی حوالے سے حدیثِ مبارکہؐ ہے ’’طہارت و پاکیزگی ایمان کا حصّہ ہے۔“ تویہاں صفائی کامطلب انفرادی یا ذاتی نہیں، بلکہ اجتماعی سطح پر اپنے ماحول کی صفائی اور پاکیزگی ہے۔
اگر ہم غور کریں، تو اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانی ضروریات اور تقاضوں کو پورا کرنے کے انتظامات اور لوازمات موجود ہیں۔ اللہ رب العزّت نے جہاں ہمیں سبزہ، درخت، پانی، ہوا جیسی نعمتیں بخشی ہیں، وہیں چرند پرند، حشرات الارض کو بھی پیدا کیا، جو اپنے اپنے دائروں میں رہتے ہوئے اپنا کام کرتے ہیں، فضا میں موجود مُضر اور فاسد مادّوں کو اپنی خوراک میں شامل کرکے ماحول کی صفائی میں اپنا حصّہ ڈالتے ہیں۔
بلاشبہ، اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو بہت خوب صورت، متوازن اور انسانی طبیعت کے مطابق بنایا ہے اور اس کی تائید قرآن مجید سے بھی ہوتی ہے۔ اسی حوالے سے ہمیں یہ حدیث بھی ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ خُوب صُورت ہے اور خُوب صُورتی کو پسند فرماتا ہے۔ اس حُسن پسندی کا اندازہ ہمیں اللہ کی قدرت دیکھ بھی کر ہوتا ہے۔تب ہی دینِ اسلام کوفطرت ،خُوب صُورتی، پاکیزگی اور توازن کا مجموعہ کہا جاتا ہے۔
ماحول کو صاف رکھنے میں درخت بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ درخت لگانا سنّتِ رسول ﷺ ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں شجر کاری کاحکم ہے، یہاں تک فرمایا گیا کہ ’’قیامت کی گھڑی آجائے اور ہاتھ میں پودا یا بیج ہو، تو اسے اُگانے کے لیے زمین میں ضرور ڈالاجائے۔“ دینِ اسلام میں درخت لگانا صدقۂ جاریہ ہے کہ ایک درخت سے کئی جان داروں کی زندگیاں وابستہ ہوتی ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو گھروں کی صفائی کا حکم دیا، کیوں کہ یہودی اپنے گھروں کے آگے کوڑا پھینکتے تھے۔
آپ ﷺ نے ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل یا قضائے حاجت سے بھی منع فرمایا۔ اسی طرح ایک اورحدیثِ مبارکہؐ میں جاری دریا کے پانی کےاسراف سے بھی منع فرمایاگیا۔ آپ ﷺ کی انہی سنّتوں پر خلفائے راشدینؓ نے بھی عمل کیا۔ حضرت ابوبکر صدّیق رضی اللہ عنہ لشکر کو رخصت کرتے وقت نصیحت فرماتے تھے کہ’’ کسی پھل دار درخت کونہ کاٹا جائے۔“ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دَور میں جب فتوحات کا سلسلہ دراز ہوا اور شہروں کی آبادکاری کے لیے منصوبہ بندی کی گئی، تو شہرِ کوفہ کی تعمیر کے لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف سے یہ ہدایت جاری کی گئی کہ ’’سڑکیں چالیس گز کی ہوں، اس سے کم درجے کی تیس گز کی اور کم از کم بیس گز چوڑی ہوں، گلیاں سات گز کی ہوں، اس سے کم نہ ہوں۔“ (اس اقدام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ماحول میں ہوا کا گزر رہے۔
گھٹن، حبس نہ ہو)۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے زرعی زمین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نہریں کھدوائیں، اور مسجدِ نبوی ﷺ میں پختہ فرش کا اہتمام کیا، تاکہ نمازیوں کے ہاتھ، پاؤں اور کپڑوں پرمٹّی نہ لگے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے دَورِ خلافت میں مدینہ طیّبہ میں خیبر کی سمت سے آنے والے سیلاب سے بچاؤ کے لیے بند تعمیر کرواکر سیلاب کا رُخ دوسری جانب موڑدیا تھا، جس سے مدینے کی آبادی محفوظ ہوگئی، جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیت المال کے تحفّظ، اور اس کے وسائل عوام کی فلاح پر خرچ کرنے کی اعلیٰ مثالیں قائم کیں۔
یہ ہیں دینِ اسلام کی ماحولیات سے متعلق تعلیمات، جو ماحول دوست بھی ہیں اور اسلام میں ماحولیات کے تحفّظ کی اہمیت بھی اُجاگر کرتی نظر آتی ہیں، دوسری جانب ان سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ماحول دشمن اقدام اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک اور سدّباب کے لیے ماحول دوست اقدامات کیے جائیں۔ آبی وسائل کو محفوظ بنایا جائے، ماحول کی حفاظت کی جائےبلکہ اس ضمن میں ہرممکن اقدام بروئے کار لایا جائے۔
تحفّظِ ماحول کی جدید اصطلاح اگرچہ چند دہائی قبل وجود میں آئی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آغاز اسلام ہی سے صحت مند ماحول اور اس کےتحفظ سے متعلق مکمّل رہ نمائی ملتی ہے، جو ہمارے دین کا حصّہ ہے۔ جسے ہرگز فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ (مضمون نگار، جامعہ کراچی سے وابستہ ریسرچ اسکالرہیں)