• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رفیع اللہ میاں

ماں بننا قدرت کا ایک قیمتی تحفہ ہے۔ تاہم، کئی عوامل ہیں جو زچہ کی صحت کی تنزلی اور بچے کی پیدائش سے وابستہ پیچیدگیوں کا سبب بنتے ہیں۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ خرابی کا یہ سلسلہ دنیا میں آنے والے نئے مہمان کی صحت اور اس کی زندگی کی توانائیوں اور امکانات پر اثر انداز ہوتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’قبل از پیدائش، پیدائش اور بعد از پیدائش کی دیکھ بھال‘ صحت کے شعبے کا ایک اہم موضوع ہے۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ احتیاط اور غذائی ضروریات کی بہم رسانی بلوغت ہی سے شروع ہونی چاہیے کیونکہ نو عمری کے دور میں لڑکیوں کے اندر جسمانی اور ذہنی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور اسی سبب انھیں زیادہ اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے ہی حمل ٹھہرتا ہے، لڑکی کی غذائی ضروریات کا معاملہ اور اہم ہو جاتا ہے۔

تولیدی صحت کا مطلب یہ نہیں کہ بیماری یا کوئی کمزوری موجود نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ مکمل جسمانی، ذہنی اور سماجی خوشحالی تک پھیلا ہوا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر معاشرے میں خاندانی منصوبہ بندی جیسی بنیادی سماجی ضرورت سے ایک بڑی آبادی نہ صرف غافل رہی بلکہ اس اہم ضرورت کو منفی معنوں میں بھی لیا گیا۔ حمل سے قبل، حمل کے دوران اور وضع حمل کے بعد کی دیکھ بھال کا موضوع بھی اسی شعور کے سوال سے جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان تولیدی صحت کے خطرے کے انڈیکس میں ترقی پذیر ممالک میں بھی سب سے پیچھے ہے۔ 

پاکستان ایک طرف خواتین کی صحت اور تعلیم میں سب سے کم ریکارڈ رکھتا ہے، دوسری طرف خواتین کی بارآوری کی شرح 4.07 ہے اور آبادی میں اضافے کی شرح 1.9 ہے، جو بنگلا دیش، بھارت اور سری لنکا سمیت دیگر ایشیائی ممالک کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے (نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پاپولیشن اسٹڈیز)۔ ہر38پاکستانی خواتین میں ایک عورت حمل سے منسلک مسائل کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتی ہے، سری لنکا میں یہ شرح 230 خواتین میں سے ایک ہے۔ حاملہ خواتین کی نصف تعداد خون کی کمی کا شکار ہوتی ہے، دوران زچگی موت کی شرح ایک لاکھ پیدائشوں میں 186 ہے ۔

پاکستان میٹرنل مورٹیلٹی سروے 2019ء (این آئی پی ایس) کے مطابق سندھ میں دوران زچگی اموات کی شرح پنجاب اور خیبر پختونخوا سے زیادہ ہے، یعنی ایک لاکھ پیدائشوں میں 224 ہے۔ پاکستانی خواتین میں تولیدی صحت کے حوالے سے مسائل کی شرح اتنی زیادہ کیوں ہے؟ دراصل خواتین کی غیر معمولی غربت، سماج میں ان کی بطور عورت کم حیثیت اور پھر اپنے تولیدی کردار کی اہمیت سے ان کی ناواقفیت، وہ بنیادی اسباب ہیں جو ان کو صحت کے بڑے خطرات سے دوچار کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ غیر ضروری مصائب اور بہت سی ایسی اموات اور معذوریوں کا سامنا کرتی ہیں جن سے بچا جا سکتا ہے۔

خواتین عموماً بچپن اور نو عمری ہی میں وٹامنز کی کمی کا شکار ہو جاتی ہیں، جس سے بعد میں سنگین مسائل جنم لیتے ہیں، جیسا کہ انیمیا یعنی خون کی کمی اور آئیوڈین کی کمی، جس سے اکثر ماں یا بچے یا دونوں کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ چھوٹی عمر کی لڑکیاں بھی کم عمری کی شادی کی وجہ سے حمل کے دوران سخت خطرے سے دوچار ہوتی ہیں، بالخصوص دوران زچگی موت کا خطرہ سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔ یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 30 ہزار خواتین حمل کی پیچیدگیوں کی وجہ سے موت کے منہ میں اور اس سے دس گنا زیادہ عورتیں زندگی بھر کے لیے حمل سے متعلق معذوری کا شکار ہو جاتی ہیں۔ 

اس حوالے سے شہری کے مقابلے میں دیہی عورتوں کی صحت کی صورتحال اسپتالوں اور ڈاکٹرز کی کمی کے باعث زیادہ خراب ہے۔ زچگی کے مسائل کی وجہ سے پاکستان میں تقریباً 25 فی صد بچے کم وزن کے پیدا ہوتے ہیں اور دس فی صد بچے زندگی کی پہلی سال گرہ تک بھی نہیں پہنچ پاتے۔ ناقص غذائیت پاکستان میں صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ ہے، جو خاص طور سے عورتوں اور لڑکیوں کو متاثر کرتا ہے، یہی وجہ ہے 55 فی صد سے زیادہ لڑکیاں ایک تا چار سال کی عمر میں موت کا شکار ہوجاتی ہیں۔

اس صورتحال میں قبل از پیدائش کی معیاری دیکھ بھال کی اہمیت بہت زیادہ ہو جاتی ہے اور اس کے ذریعے پیچیدگیوں اور دیگر خطرات کا وقت سے پہلے پتا لگا کر زچگی کے دوران اموات کی شرح میں کمی لائی جا سکتی ہے، ان خطرات میں اگر ایک طرف خون کی کمی کا مسئلہ ہے، تو دوسری طرف جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریاں بھی شامل ہیں۔ کلینکس یا اسپتال جانے والی حاملہ خواتین کو حمل کے دوران عموماً ٹیٹنس (تشنج) کے ٹیکے لگائے جاتے ہیں، جن کی وجہ سے نوزائیدہ بچوں میں تشنج کی وجہ سے اموات کی شرح کافی کم ہو جاتی ہے۔ محفوظ پیدائش کے لیے اہم ترین بات یہ ہے کہ پیدائش کے وقت تجربہ کار ڈاکٹر کی موجودگی ضرور ہو، جو زچگی کی کسی بھی پیچیدگی کو فوراً سمجھ کر اس سے نمٹ سکے۔

اگر ماں کو غذائی کمی کا سامنا ہے، تو خطرہ ہے کہ بچہ وقت سے پہلے پیدا ہوگا یا اس کا وزن پیدائش کے وقت بہت کم ہوگا، جس سے اسے موت سمیت کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جس طرح پیدائش سے قبل کی دیکھ بھال ضروری ہے، اسی طرح پیدائش کے بعد بھی نہ صرف بچے کو بلکہ ماں کو بھی زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے، ورنہ دونوں کو نہ صرف بعد کی زندگی میں صحت کے سنگین مسائل بلکہ موت کا خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ قبل از پیدائش کی دیکھ بھال سے حمل کے دوران ممکنہ خطرات کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے، اور محفوظ اور صحت مند وضع حمل کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

پیدائش سے قبل کی دیکھ بھال کا آغاز حمل ٹھہرنے سے تین ماہ قبل ہونا چاہیے اور صحت مند عادات اپنانی چاہئیں، جیسا کہ سگریٹ نوشی ترک کرنا، روزانہ فولک ایسڈ سپلیمنٹ کا استعمال، غذا سے متعلق اپنے ڈاکٹر سے مشورہ، گھر یا کام کی جگہ پر تمام قسم کی زہریلی اشیا سے دوری۔ حمل ٹھہرنے کے بعد ہر اسٹیج پر پابندی سے ڈاکٹر کے پاس وزٹ بہت ضروری ہے کیونکہ وہ عام چیک اپ کے ساتھ کچھ ٹیسٹ بھی کرواتا ہے۔ وہ آپ کے بلڈ پریشر کی نگرانی کرتا، وزن بڑھنے پر نگاہ رکھتا، بڑھتے ہوئے جسم اور دل کی دھڑکن کو مانیٹر کرتا، اور آپ کو خصوصی خوراک اور ورزش کے بارے میں مشورے دیتا ہے۔

اگرچہ حمل کے نویں مہینے کی دیکھ بھال بہت اہمیت رکھتی ہے لیکن وضع حمل کے بعد کی دیکھ بھال بھی بہت ضروری ہے، اس کا دورانیہ عموماً چھ سے آٹھ ہفتے ہوتا ہے جو بچے کی پیدائش کے فوراً بعد ہی سے شروع ہو جاتا ہے۔ اس دورانیے میں ماں متعدد جسمانی اور جذباتی تبدیلیوں سے گزرتی ہے، اور نوزائیدہ بچے کی دیکھ بھال کے طریقے سیکھتی اور سمجھتی ہے۔ بعد از پیدائش کی دیکھ بھال میں مناسب آرام اور غذا کی بڑی اہمیت ہے۔ ایک اچھی اور صحت مند ماں ایک اچھے اور صحت معاشرے کو جنم دیتی ہے۔ دوسری طرف ماہرین بار بار یہ کہتے ہیں کہ خواتین کی تعلیم ہی اس صورت حال کی شدت میں کمی لا سکتی ہے۔