• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


ماہرینِ صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان میں اومی کرون کے کیسز کی وجہ سے فروری 2022ء میں کورونا وائرس کی وباء کی پانچویں لہر آ سکتی ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کی جنوبی افریقی قسم اومی کرون کے 75 کیسز سامنے آنے پر ماہرینِ صحت نے کورونا وائرس کی وبا کی پانچویں لہر کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔

ماہرینِ صحت کے مطابق کورونا وائرس کے 3 سے 4 ہزار نئے کیسز یومیہ سامنے آ سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق وزارتِ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اومی کرون کے کیسز جس تیزی سے سامنے آ رہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگلے 2 ہفتے میں ملک بھر سے اومی کرون کے کیسز رپورٹ ہونے لگیں گے۔

اس طرح اگلے برس فروری کے وسط میں کورونا کے 3 سے 4 ہزار نئے کیسز یومیہ سامنے آ سکتے ہیں۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ ویکسین لگوانے والے اومی کرون کے باعث شدید بیماری سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

قومی ادارۂ صحت کے مطابق پاکستان میں بھی سامنے آنے والے اومی کرون کے 75 کیسز میں سے 33 کیسز کراچی، 17 اسلام آباد، 13 لاہور اور 12 بیرونِ ملک سے آنے والے مسافروں سے رپورٹ ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ نامیاتی سائنسدان ڈاکٹر عطاء الرحمٰن نے پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اومی کرون کے اثرات کورونا ڈیلٹا سے بھی زیادہ ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ اس کے کیسز 2 دنوں میں 3 گنا ہو جائیں گے، خدشہ ہے کہ اس وائرس سے ہمارے اسپتال بھر نہ جائیں۔

ڈاکٹر عطاء الرحمٰن کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی پر عمل درآمد کرا کے صورتِ حال پر قابو پا سکتی ہے۔

ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 39 ہزار 739 ٹیسٹ کیے گئے، مزید 348 کیسز مثبت آ گئے، اس سے مزید 6 افراد انتقال کر گئے، کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 0 اعشاریہ 87 فیصد ہو گئی ہے۔

قومی خبریں سے مزید