• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

جمہوریت کیلئے بی بی کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی

سندھ حکومت کے لیے مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں ملک میں موسم سرد جبکہ سیاسی درجہ حرارت میں گرمی بڑھ رہی ہے گڑھی خدا بخش میں بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت نام کی ہے، پاکستان میں نہ بولنے کی آزادی ہے، نہ جینے کی آزادی ہے نہ سانس لینے کی آزادی ہے پی پی چیئرمین نے کہا کہ آج عوام کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ 

پیپلزپارٹی ڈیل کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی، جو ڈیل کی سیاست کرتے ہیں ان کے شہیدوں کے قبرستان نہیں ہوتے، پیپلزپارٹی غیر جمہوری سیاست نہیں کرسکتی، ہمیں کسی ڈیل کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری ڈیل پاکستان کے عوام کے ساتھ ہے، پنجاب ہم پہنچنے والے ہیں، پارٹی رہنما اور کارکن تیاری پکڑیں، ہم لاہور میں اپنا بیس بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کےخاتمے کی کہانی اسی شہر سے ہوگی جہاں پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی،کٹھ پتلی کوجانا ہوگا۔ 

شہید بی بی نے جمہوریت کی خاطر اپنی جان بھی دے دی یقیناََ جمہوریت کی بقا کےلئے بی بی کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ گذشتہ ہفتے سندھ سیاسی سرگرمیوں کا مرکز رہا مہاجر قومی مومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد نے باغ جناح میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے الگ صوبے کی جدوجہد تیز کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکم مارچ سے صوبے کے حصول کے لیے دستخطی مہم شروع کی جائے گی، 23 مارچ کو عالمی مبصرین کی موجودگی میں صوبے کے قیام کے لیے ریفرنڈم ہوگا۔ 

خالد مقبول، عامر خان، فاروق ستار، انیس قائم خانی سمیت ہر مہاجر قوم کی خاطر ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں، مہاجر قوم کے پرچم کے لیے متحد ہوجائیں، ہم بانیان پاکستان کی اولادیں ہیں، ہمیں کسی حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں، ہم نے ملک بنایا ہے صوبہ بھی حاصل کرلیں گے، صوبے کے بغیر اس مہاجر قوم کے مسائل حل نہیں ہونگے، پوری قوم کو متحد ہونا پڑیگا، بنگلہ دیش میں موجود محصورین کو فوری واپس لایا جائے، نیا بلدیاتی ایکٹ کالا قانون ہے اسے واپس لیا جائے، بااختیار بلدیاتی نظام بنایا جائے، کوٹہ سٹم ختم کیا جائے اور نئی مردم شماری عالمی مبصرین کی نگرانی میں کرائی جائے، کراچی والوں پر بجلی کی اضافی بلنگ بند کی جائے۔ 

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو باغ جناح میں مہاجر قومی موومنٹ کے تحت جلسہ عام سے خطاب میں کیا، آفاق احمد کے جلسہ گاہ پہنچنے پر شرکاء نے کھڑے ہوکر اور نعرے لگاگر ان کا شاندار استقبال کیا گیا، جلسہ گاہ میں مہاجر پرچم لگائے گئے، اس موقع پر شاندار آتش بازی بھی کی گئی، آفاق احمد نے کہا کہ ہم نے اس سندھ میں لوگوں کی مہمان نوازی کی ۔ہم کبھی کسی کے شہر یا صوبے میں نہیں آئے ۔یہ پاکستان ہم نے بنایا تھا ہم اپنے پاکستان میں آئے ہیں ۔ہمیں حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔

کوٹہ سسٹم نے مہاجروں کو نوکریوں سے بھی محروم کردیا، میرا مطالبہ ہے کوٹہ سسٹم فوری طور پر ختم کیا جائے ۔لوکل گورنمنٹ کالا قانون ہے اسکا بہت شور ہے، بلدیاتی قانون کا جو بل پاس ہوا ہے، اسے پھاڑ کر پھینک دیا جائے۔ ایک عرصے سے مہاجر وں کو متحد کرنے کی کوششیں جاری ہیں اس ضمن میں آفاق احمد اور سابق گورنر عشترت العباد کے درمیان بھی رابطہ ہوا تھا تاہم لندن کی قیادت مہاجر کے نام پر سیاست کرنے والے کسی بھی دھڑے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ 

کے پی کے میں بلدیاتی الیکشن کے نتائج نے تمام سیاسی جماعتوں کے لیے خطرے کا الارام بجا دیا ہے سندھ کے شہری علاقوں میں سیاسی جماعتیں برتری کا دعوی تو کر سکتی ہے مگر زمینی حقایق ان دعووں کے برعکس ہے پی پی پی کو بھی سندھ کے شہری حلقوں سے ذیادہ کامیابی کی امید نہیں تھی اس لیے انہوں نے سندھ میں من چاہا بلدیاتی ترمیمی بل پاس کیا سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے باوجود سندھ میں ترمیمی بلدیاتی قانون نافذ العمل ہوگیاہے۔ سندھ اسمبلی نےلوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ گزٹ کردیا ہے۔، ترمیمی بلدیاتی قانون کےتحت کراچی میں ڈسڑکٹ کونسلز تحلیل ہوگئی ہیں اور کراچی میں ڈسڑکٹ میونسپل کارپوریشنز کے خاتمے کے بعد نئےٹاونز بنائےجائیں گے۔ 

سندھ میں ایک میٹروپولیٹن کارپوریشن 5میونسپل کارپوریشنز ہونگی۔ترمیمی بلدیاتی قانون کے مطابق میٹروپولیٹن کارپوریشن کی حلقہ بندی کےلئےآبادی 5ملین ہوگی۔حلقہ بندی کےلئےوارڈ کی آبادی 5ہزار، میونسپل کمیٹی کی آبادی 50ہزار سےتین لاکھ تک ہوگی۔ کراچی میں ٹاون کونسل کی آبادی ساڑھےسات لاکھ میونسپل کارپوریشنز کےلئےحد ساڑھےتین لاکھ ہوگی۔

ترمیمی بلدیاتی قانون کےتحت حیدرآباد میرپورخاص سکھر لاڑکانہ بےنظیرآباد میں ٹاون کونسلز بنائی جائیں گی۔ نئے قانون کے تحت عباسی شہید اسپتال کراچی ادارہ امراض قلب اسپنسرآئی اسپتال کے ایم سی سےسندھ حکومت کو منتقل ہونگے .ڈی ایم سیز اور ڈسڑکٹ کونسلز کےزیر انتظام اسکولزاسپتال مراکز صحت ڈسپنسریز بھی صوبائی حکومت کو منتقل ہوجائیں گے ۔قانون کے تحت میئر اور چیئرمینز کا انتخاب شو آف ہینڈ کے زریعے ہوگا۔ میئر ,چیئرمین کا الیکشن لڑنےکےلئےکونسل ممبر ہونالازم ہوگا ۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید