بھارتی ریاست کرناٹک کے شہر بنگلورو میں ایک 19 سالہ طالبہ کو اس کے دوستوں نے نشہ آور چیز کھلا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق طالبہ نے الزام لگایا ہے کہ اسے نشہ آور چیز کھلا کر ایک نجی ولا میں دو افراد نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی تامل ناڈو کے شہر تیروپور کی رہائشی اور بی اے کی طالبہ ہے، وہ گزشتہ پانچ ماہ سے تعلیم کے سلسلے میں بنگلورو میں مقیم تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ لڑکی کی جنوری میں انسٹاگرام کے ذریعے ایک 21 سالہ لڑکے سے دوستی ہوئی تھی اور دونوں کے درمیان رابطہ رہا۔
14 فروری کی رات کالج اور دوست کے ساتھ ملاقات کے بعد اسے ایک پارٹی میں مدعو کیا گیا، جو شمالی بنگلورو کے ایک نجی ولا میں منعقد تھی۔
طالبہ کے مطابق پارٹی کے دوران اسے دوسرے ملزم 35 سالہ نکھیل سے ملوایا گیا۔ بعد ازاں دونوں افراد نے مبینہ طور پر اسے گولی کھانے پر مجبور کیا، جس کے بعد اسے چکر آنے لگے اور وہ بے ہوش ہوگئی۔ ہوش آنے پر اسے معلوم ہوا کہ اس کے ساتھ کمرے کے اندر زیادتی کی گئی ہے۔
متاثرہ لڑکی نے الزام لگایا کہ ملزمان نے واقعہ سے متعلق بتانے پر اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں اور بعد میں اسے ایک مال کے قریب چھوڑ دیا۔
طالبہ کا کہنا ہے کہ دھمکیوں اور خوف کے باعث اس نے فوری طور پر شکایت درج نہیں کروائی۔ بعد ازاں ذہنی صدمے کے باعث اس نے 17 فروری کو ایک مقامی اسپتال میں طبی معائنہ کروایا اور اپنے بھائی کو اطلاع دی جس کے مشورے پر پولیس سے رجوع کیا گیا۔
دوسری جانب ایک ملزم نے پولیس کو 21 فروری کو جوابی شکایت درج کروائی تھی جس میں الزام لگایا گیا کہ لڑکی اور ایک شخص جو خود کو مقامی نیوز چینل کا نمائندہ بتا رہا تھا، انہوں نے رقم کا مطالبہ کرتے ہوئے بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔
پولیس دونوں دعووں کی بیک وقت تحقیقات کر رہی ہے تاکہ واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔
پولیس نے جنسی زیادتی اور مجرمانہ دھمکی کے مقدمات درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔