• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو عدالتی حکم پر ملکی سیاست کے لیے ’نا اہل قرار دئیے جانے اور احتساب عدالت سے 10سال سے زیادہ کی قید سنائے جانے کے باوجود ان کو لوگوں کے دلوں سے نہیں نکا لا جا سکا۔ 

غیر جانبدارانہ و منصفانہ انتخابات ہوں تو آج بھی مسلم لیگ (ن) اکثریتی جماعت کے طور پر کامیاب ہو گی، یہی وجہ ہے کہ نواز شریف ان قوتوں کے ’’اعصاب ‘‘ پر سوار ہیں جنہوں نے عمران خان کے اقتدار کی ’’سیج ‘‘ سجانے کے لیے انہیں ملکی سیاست سے نکال باہر کرنے کا بندوبست کیا۔

نواز شریف نے پچھلے دو سال سے زیادہ عرصہ سے لندن میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں آئے روز ان کی وطن واپسی کی افواہیں گردش کرتی رہتی ہیں جس سے اقتدار کے ایوانوں میں اضطراب کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ 

حکومتی ترجمانوں کی’’ فوج ظفر موج ‘‘ کے شدید ردِعمل سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان افواہوں نے بنی گالہ کے ’’مکین ‘‘ کو کس قدر پریشان کر رکھا ہے۔ 

پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے ارکان کا اکٹھ ہو یا وفاقی کابینہ اجلا س، موضوعِ گفتگو نواز شریف ہی ہوتے ہیں۔ پورا اجلاس اس بحث کی نذر ہو جاتا ہے کہ کیا واقعی نواز شریف کی ڈیل ہو گئی ہے؟ کیا نواز شریف پاکستان آ رہے ہیں ؟

بعض لیگی رہنما بھی اکثر و بیشتر در فطنی چھوڑ دیتے ہیں کہ ’’ نواز شریف نے اپنا سامان باندھ لیا ہے اور وہ پاکستان آنے والے ہیں ‘‘۔ لندن سے آنے والی خبروں میں نواز شریف سے ’’غیر سیاسی شخصیات ‘‘ کی ملاقاتوں کی تصدیق نے اقتدار کے منصب پر فائز اعلیٰ شخصیت کی پریشانی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ 

یہ بات کہی جا رہی ہے کہ ’’ عمران خان کے سر سے دست شفقت ہٹا لیا گیا ہے ‘‘، اس مفروضے میں کس حد تک صداقت ہے فی الحال اس بارے میں کوئی بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی۔پچھلے چنددنوں سے وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدار ت منعقد ہونے والے ترجمانوں کے اجلاسوں میںنواز شریف کو ’’کائونٹر ‘‘ کرنےکی حکمتِ عملی ہی تیار کی جا رہی ہے۔

وزیراعظم نے اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا ہے کہ’’ نواز شریف کی سزا ختم کرنے کے لیے راستے تلاش کئے جا رہے ہیں، ایک سزا یافتہ شخص کس طرح ملکی سیاست میں دوبارہ آسکتا ہے‘‘ ۔ عمران خان کی پریشانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ واقعی کسی سطح پر کچھ ہو رہا ہے جس کا انہیں علم ہے اور وہ اپنی بے بسی کا برملا اظہار کر رہے ہیں۔

سرکاری ترجمان بار بار کسی بھی قسم کی ڈیل ہونے کی خبروں کی تردید کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف آئےتو ایئر پورٹ پر اڈیالہ جیل کی قیدیوں کی وین ان کی منتظر ہو گی تو اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے۔

جب سے 2022 کا سورج طلوع ہوا ہے، نواز شریف کی وطن واپسی کی افواہوں نے شدت اختیار کر لی ہے لیکن حکومت اور نہ ہی اپوزیشن (مسلم لیگ ن) نواز شریف کی واپسی کے بارے میں حتمی طور پر کوئی بات کہنے کی پوزیشن میںہیں، سب مفروضوں کی بنیاد پر بات کر رہے ہیں بلکہ یہ کہا جائے کہ ’’لنگر گپ ‘‘ چل رہی ہے تو یہ درست ہوگا۔ 

اپوزیشن کی تمام تر سیاست کا دارو مدار نواز شریف کی واپسی پر ہے اور اپوزیشن حکومت کو نواز شریف کی واپسی کی تاریخیں دے کر ڈرا دھمکا رہی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ فی الحال نواز شریف وطن واپس نہ آرہے ہوں لیکن جس تسلسل سے حکومتی ترجمان بیانات دے رہے ہیں، اس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ نواز شریف کی واپسی ہے اگر یہ مسئلہ حل ہو جائے تو ملک کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ 

حکومتِ پاکستان نواز شریف کو زبردستی پاکستان واپس لانے کے لیے برطانوی حکومت سے بڑے جتن کر چکی ہے لیکن تاحال اسے کامیابی حاصل نہیں ہوئی یہی وجہ ہے کہ شیخ رشید احمد نے ایک برملا اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ان کی حکومت کے لیے نواز شریف کو واپس لانا ممکن نہیں اب تو انہوں نے حاتم طائی کی قبر پر لات مار تے ہوئے نواز شریف کو لندن سے اسلام آباد کا یک طرفہ ٹکٹ دینے کی پیش کش کر دی ہے موجودہ حکومت نے نواز شریف اور مریم نواز سے ایک اور مذاق کیا ہے اور انہیں ’’صحت انصاف کارڈ‘‘ کا اہل قرار دیا ہے۔ 

حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کہ صحت کارڈ کا آغاز نواز شریف کے دور میں ہی ہوا تھا عمران خان کی سوئی ایک جگہ ہی اٹکی ہوئی ہے کہ نواز شریف، آصف علی زرداری سمیت پوری اپوزیشن چورہے۔ وزیر اعظم ایک قدم پیچھے ہٹ کر سیاسی کھیل کھیلنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کوئی بات نہیں بن پا رہی۔ 

نواز شریف اڈیالہ جیل میں ہوں یا آکسفورڈ اسٹریٹ کے ایون فیلڈ میں، وہ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کے اعصاب پر سوار ہیں۔ سر دست عمران خان شہباز شریف کو اپنے لیے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں کیونکہ ان کے اندر اسٹیبلشمنٹ سے معاملہ طے کرنے کی پوری صلاحیت موجود ہے اور اسٹیبلشمنٹ بھی ان کے لیے ہر وقت ہاتھ کھول کر کھڑی ہے لہٰذا حکومت شہباز شریف کی تیسری بار ’’جیل یاترا‘‘ کا سامان پیدا کر رہی ہے۔ 

حکومت کو اس روز سے کھٹکا لگا ہوا ہے جس رو زسے میاں شہباز شریف کی راولپنڈی میں ایک ’’غیرسیاسی شخصیت‘‘ سے ملاقات ہوئی ہے اور اس کے بعد لندن میں نواز شریف سے ’’غیر سیاسی شخصیات‘‘ کی ملاقاتوں نے حکومتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے ۔ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ نواز شریف ہے جب تک ان کو جیل نہیں بھجوا دیا جاتا اس وقت تک ملک کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

تازہ ترین