آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
صدر ویمن اینڈ فیملی کمیشن جماعت اسلامی پاکستان13اگست کی رات آغا جان کے تاریخی ڈرائنگ روم میں اُن کی کتابوں کی الماری کو ٹھیک کررہی تھی اور ذہن میں وہ سارے منظر فلم کی صورت میں چل رہے تھے جب اس جگہ پر اتحاد اُمّت کا عَلم بردار اور کسی اور زمانے کے خواب دیکھنے والا اپنے ساتھیوں سے رات رات بھر مشورے کرتا اور حکمتِ عملی کے لیے منصوبے بناتا رہتا۔ اخوان کے رہنماؤں ، ترکی کے اربکان اور اردگان ہوں ، سوڈان اور ایران کے رہبر ہوں یا افغان مجاہدین ، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے حکمران ہوں یا مخالفین کے گروہ ، سب کے ساتھ اُنہوں نے ذاتی محبت اور رفاقت کے تعلقات اُستوارکررکھے تھے ۔ ہم بچپن سے ہی اُن کی زبانی اخوان کی قربانیوں اور وفا کی داستانیں سنتے چلے آئے تھے ۔ انہوں نے جب اخوان کی خاتون راہنما زینب الغزالی کو اپنے گھر بلایا تھاتو اُن کی زبانی وحشت و اذیت کی داستان سن کر اور اُن کی پنڈلیوں پر وحشی کتوں کے بھنبھوڑنے کے زخم دیکھ کر ہم سب اپنے آنسو نہ روک سکے تھے ۔ اخوان کی عظیم الشان قربانیوں کے بعد مصر کے عوام نے جب انہیں اقتدار کے ایوانوں میں پہنچایا اور صدر مرسی کی حکومت قائم ہوئی تو استعماری طاقتوں نے اسرائیلی حکومت کی ایماء پر انہیں ایک پل چین نہیں لینے دیا۔ مگر یہ تو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ دنیا بھر

میں جمہوریت کا راگ الاپنے والے مسلمانوں کے لیے دہرے معیار رکھتے ہیں۔ ہمارے بیلٹ کا احترام کرنے کے بجائے ہمیں بُلٹ سے سبق سکھایا جاتاہے۔ اور یہ داغ داغ اُجالا اور شب گزیدہ سحر اس بات کی علامت ہے کہ فرعون کا کردارابھی زندہ ہے۔اتفاق سے حضرت موسیٰ  کے زمانے کے فرعون کانام راعمیس تھا اور آج کے فرعون کا نام اُسی کی مناسبت سے جنرل سیسی ہے۔ جس نے حضرت موسیٰ  کی راہ پر چلنے والوں پر وہ ظلم ڈھائے ہیں کہ فرعون کی روح بھی کانپ اُٹھی ہوگی۔
14اگست کی صبح جب وطن عزیز میں یوم آزادی کی صبح طلوع ہورہی تھی اہل مصر پر قیامت کا سورج طلوع ہو رہاتھا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اچانک قاہرہ کے رابعہ بصری کے میدان میں واقع احتجاجی کیمپ پر مصری فوج کے وحشیانہ مظالم سے بھر گئیں۔ اللہ سے خیر کی دعائیں طلب کر ہی رہی تھی کہ یکے بعد دیگرے ایسی دل دہلا دینے والے مناظر کی تصویریں موصول ہونے لگیں کہ ضبط کے بندھن ٹوٹ ٹو ٹ گئے۔
مجھے یوں لگا کہ میرے اکلوتے بیٹے محمد کو کسی نے ہاتھ پیر باندھ کر اور اُس کے جوان سینے کو گولیوں سے چھلنی کرکے میرے سامنے لا کر ڈال دیا ہے۔ مسجد کا فرش میرے بیسیوں محمدوں کی بندھی ہوئی جوان لاشوں کے خون سے رنگین ہوگیاہے۔ ایک تصویر میں میرا ایک محمد سفید کفن کی چادر اوڑھے لیٹا ہے اور اُس کی جوان بیوہ اُس کے سینے پر سر رکھے بِلک رہی ہے۔ میں کس کس محمد کو روؤں اور کس کس بیٹی اور بہن کو پرسہ دوں۔ میں روتے روتے نڈھال ہوگئی تو یکا یک ایک بولتی تصویر کو دیکھ کر مجھے یوں لگاکہ میری اکلوتی بیٹی رہام سر پر خوبصورت سکارف سجائے مجھ سے پوچھ رہی ہے کہ میں کیسی لگ رہی ہوں ؟؟میں نے اُس کے ماتھے پر بوسہ دیا تو تصویر بول اُٹھی میں آپ کی اسماء ہوں ۔ آپ کے اخوان کے راہنما محمد البلتاجی کی بیٹی جو اپنے کیمپ میں پُر امن طریقے سے اپنا جمہوری حق احتجاج استعمال کررہی تھی کہ ظالموں نے مجھے رابعہ کے میدان میں گولیوں سے بھون ڈالا۔ میرے والد نے فردوس بریں سے ایک خط لکھا ہے کہ مجھے تم پر فخر ہے کہ تم نے اپنے ملک میں جمہوریت کی خاطر اور ظلم کے خلاف مزاحمت میں ہزاروں شہداء کے سامنے میرا سر فخر سے بلند کیاہے۔ تمہیں میں نے تمہاری شہادت سے 2دن قبل خواب میں دیکھاکہ تم عروسی لباس پہنے ایک ملکوتی مسکراہٹ کے ساتھ مجھے دیکھ رہی ہو ۔ میں نے تم سے پوچھا آج تمہاری شادی کی رات ہے ؟ تم نے جواب دیا کہ ہاں میری دوپہر کو شادی ہے۔ مجھے معلوم ہواکہ اسماء دوپہر کو ہی شہادت کا لباسِ فاخرہ پہنے جنت کی طرف عازم سفر ہوئی اور مجھے اب اس خواب کی حقیقت بھی سمجھ آگئی ہے۔
محمد البلتاجی اپنی شہید بیٹی اسماء کو لکھتے ہیں کہ مجھے اس دنیا میں تمہارے پاس گزارنے کے لیے وقت نہیں ملا۔ آخری دفعہ رابعہ بصری کے میدان میں، میں نے تمہیں کہاکہ ان شاء اللہ جنّت میں فرصت کے لمحات عیش سے گزاریں گے۔ یہاں تو میں آپ کو وقت نہ دے سکا اور کیا معلوم تھاکہ اتنی جلدی تم رخصت ہو جاؤ گی ۔ مجھے سب سے زیادہ اذیت اس بات کی ہوئی ہے کہ میں تمہاری رخصتی میں شریک نہ ہوسکا اور تمہیں آخری بوسہ نہ دے سکا کیونکہ میں اپنی جماعت کی اطاعت سے مجبور تھا جنہوں نے حکم دیا کہ ابھی گرفتاری نہیں دینی نہ میں موت سے ڈرتاہوں اور نہ جیل کی اذیتوں سے مگر اطاعت سے مجبور ہوں اور تمہیں میں الوداع نہیں کہوں گا کیونکہ ہم جلد ہی اپنے رب کے حضور ملاقات کرنے والے ہیں ۔ جہاں وہ ہمیں اپنی رحمت کے سائے میں رکھے گا یہ اُس کا وعدہ ہے اور وہ اپنے وعدوں کے خلاف نہیں کرتا۔
رابعہ بصری کا میدان گواہ ہے کہ اخوات المسلمات نے قرون اولیٰ کی صحابیات کی زندہ مثالیں قائم کی ہیں۔ اُن کا قصور صرف یہ تھاکہ وہ اسلامی تحریکات سے وابستہ تھیں ۔ سورة البروج کی آیات کی تلاوت کرتے ہوئے مجھے یوں لگاکہ اللہ نے انہی کے بارے میں یہ آیات نازل کی ہیں ۔ ”یہ لوگ ان مسلمانوں پر اس لیے یہ ظلم ڈھا رہے تھے کہ وہ اللہ غالب اور لائق حمد و ثناء کی ذات پر ایمان لائے تھے۔“(سورة البروج:۵۸۔۱تا۸)
رابعہ بصری کے میدان میں رمضان کی بابرکت ساعتوں میں جب خواتین پر ذمہ داریاں ذرا زیادہ ہوجاتی ہیں ۔ ہماری اخوات جمہوریت کی خاطر اور اپنے بنیادی حقوق کی حفاظت کی خاطر میدان میں پُر امن طور پر موجود رہیں۔یہ عجیب اتفاق ہے کہ عالمی یوم حجاب 4ستمبر کو منایا جاتاہے اور اخوان کے کارکنان پر ظلم و ستم کا بازار مصر کے رابعہ عدویہ کے میدان میں گرم کیاگیا ۔ عربی میں رابعہ 4کو کہتے ہیں اور اخوان کی لازوال قربانیوں کی علامت کے طور پر ہاتھ کی چار انگلیوں کے نشان کو پوری دنیا میں اُجاگر کیاگیا ۔ ترک وزیراعظم طیب رجب اُردگان نے ان 4انگلیوں کی علامت کو اپنی تقریروں میں نمایاں کیا اور اب ہم 4انگلیوں کے اس نشان کو 4ستمبر کے عالمی یوم حجاب کی علامت کے طور پر اپنی اخوات المسلمات کی نذر کرتے ہیں۔
ایک اور بیٹی حبیبہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی خاطر وہاں موجود تھی ۔ اُس کی امی نے انٹرنیٹ پر اُس سے آخری گفتگو نشر کی ہے کہ وہ اس کے ساتھ باتیں کرتے کرتے راہی ملک عدم ہوگئی۔ وہ آخری گفتگو پڑھتے ہوئے مجھے جامعہ حفصہ  کی بچیاں یاد آگئیں جو اسی طرح سے ظلم اور بربریت سے ہم سے جدا ہوگئیں اور ان کی آہوں نے ہمارے ملک کا سارا سکون غارت کرکے رکھ دیا ہے۔ اس سارے معاملے کا دردناک پہلو یہ ہے کہ مغرب کے دوہرے معیار تو سامنے آہی گئے ہیں مگر اپنے شاہوں ،حکمرانوں اور میڈیا کے سیکولر عناصر کا کردار بھی طشت ازبام ہوگیاہے کہ جب پوری دنیا اس ظلم کے خلاف آوازیں بلند کررہی ہے ۔ ہمارے یہ کا رفرما قرآن کی زبان میں گونگے، بہرے اور اندھے بن گئے ہیں۔
ملالہ اور مختاراں مائی کے لیے زمین آسمان ایک کرنے والے ، ثانیہ مرزا کی ایک ایک اداکی خبر بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کرنے والے آج واقعی گونگے بہرے بن گئے ہیں ۔ میں نے کہاکہ اسماء اور حبیبہ کاش تم ملالہ ہوتیں تو تمہارے لیے بھی اپنے اور پرائے حکمران دیدہ دل فراش کررہے ہوتے یا تم مختاراں مائی ہوتی تو سول سوسائٹی اور این جی اوز کے کلب تمہارے نام پر سوداگری کی دکان کھول بیٹھتے ۔ تم دانشوروں کے کالموں کا عنوان ہوتیں ۔ بیرون ملک تمہارے نام پر ایوارڈ دیئے جاتے ۔ میری بیٹی فوراً بولی نہیں امی ملالہ اور مختاراں مائی مغرب کاانتخاب اور اسماء اور حبیبہ ہمارے رب کا انتخاب ہیں۔ کاش ہم سب اسماء اور حبیبہ بن جائیں جنہوں نے عمر مختار کے اس قول کو سچ کر دکھایا کہ ہم کبھی نہیں ہارتے یا ہم فتح یا ب ہوتے ہیں یا مر جاتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں