• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معیشت اور معاشی اشاریے مثبت سمت میں ہیں: وزیرِ اعظم عمران خان


وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کی معیشت اور معاشی اشاریے مثبت سمت کی جانب گامزن ہیں، چین کی قیادت اور کاروباری برادری نے پاکستانی معیشت کی کارکردگی کو سراہا ہے۔

سابق سفارتکاروں، تھنک ٹینک کے نمائندوں اور سینئر صحافیوں سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ دنیا کا سیاسی نقشہ تیزی سے بدل رہا ہے، سوائے امریکا کے سب سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے منجمد اکاؤنٹ بحال کیے جائیں۔

ایک سوال کے جواب میں وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد بہت سے مسائل کا سامنا ہے، سندھ اور پنجاب میں گندم الگ الگ قیمت پر فروخت ہو رہی ہے، ملک میں گندم کی قیمت ایک ہی ہونا چاہیے، اشیاء کی قیمتیں یکساں ہونی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ چین کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا، آج دنیا بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، ہماری معیشت درست سمت میں ہے، چینی قیادت نے اعتماد کا اظہار کیا ہے، افغانستان کو انسانی بحران سے بچانے کے لیے سب متفق ہیں، حالات خراب ہوئے تو امریکا کو اور بھی مشکلات کا سامنا ہو گا۔

عمران خان نے کہا کہ ملک میں اشیاء کی قیمتیں یکساں ہونی چاہئیں، 18 ویں ترمیم کے بعد بہت سے مسائل کا سامنا ہے، چین میں جو ٹیم میرے ساتھ تھی وہ یہاں بیٹھی ہوئی ہے، دنیا میں بڑی تیزی سے تبدیلی آئی ہے، 2 سال پہلے چین گیا تھا، اب دنیا میں تیزی سے تبدیلی آئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ میں دورۂ چین سے متعلق آپ کی رائے لینا چاہتا ہوں، دورۂ چین کے بعد ہمارے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے، افغانستان پر سب کا اتفاقِ رائے ہو گیا ہے، سوائے امریکا کے سب سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے منجمد اکاؤنٹ بحال کیے جائیں، 2019ء کے بعد کورونا وائرس کی وباء آ گئی، چین میں سب کچھ بند ہو گیا تھا۔

ملک میں اشیاء کی قیمتیں یکساں ہونی چاہئیں، 18 ویں ترمیم کے بعد بہت سے مسائل کا سامنا ہے، سندھ اور پنجاب میں گندم الگ الگ قیمت پر فروخت ہو رہی ہے، ایک ملک میں گندم کی قیمت ایک ہی ہونا چاہیے، چین میں ایک فیصلہ ہو جاتا ہے تو سب جگہ عمل درآمد ہوتا ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فوادچوہدری نے کہا کہ سی پیک پر کام سست نہیں ہوا، ورکنگ گروپ 7 سے 11 ہو گئے ہیں۔

وفاقی وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ چین سے جو سرمایہ کار آئے گا اس کے ساتھ ایک شخص لگا دیا جائے گا، یہ نہیں ہوگا کہ چینی سرمایہ کار در در کی ٹھوکریں کھائے۔

قومی خبریں سے مزید