• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے نورمقدم قتل کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جج عطاء ربانی 24 فروری کو نورمقدم قتل کیس کا محفوظ کیا گیا فیصلہ سنائیں گے۔

آج عدالت میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو کمرۂ عدالت میں دیگر ملزمان کے ہمراہ پیش کیا گیا۔

ایڈیشنل سیشن جج عطاء ربانی کی عدالت میں نور مقدم قتل کیس کی سماعت کے دوران مدعی کے وکیل نثار اصغر نے عدالت کے سامنے حتمی دلائل دیے۔

گزشتہ سماعت میں تمام ملزمان کے وکلاء نے حتمی دلائل مکمل کر لیے تھے۔

مدعی کے وکیل نثار اصغر نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ 2 ملزمان کی جانب سے یہ بات کہی گئی کہ ہم نے عبوری ضمانت دائر کر دی ہے، ملزمان نے کہا کہ شوکت مقدم با اثر تھا اس لیے اس نے گرفتار کرایا، سیشن جج کامران بشارت مفتی نے 26 جولائی کو ملزمان کی درخواست مسترد کی۔

مدعی کے وکیل نثار اصغر ایڈووکیٹ نے کہا کہ ملزمان کے وکیل کے دلائل تھے کہ ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کی حد تک تفتیشی افسر کے پاس ثبوت نہیں، والدین خود مانتے ہیں کہ وہ کراچی سے آئے، تین بار تھانے گئے، والدین نے پولیس کو لائسنس دیا، پھر پولیس نے انہیں چھوڑ دیا، یہ وقوعہ عید کے دن ہو رہا ہے اور وہ بھی عیدالاضحیٰ کے دن جس میں 3 چھٹیاں ہوتی ہیں، مدعی شوکت مقدم عید کے باعث 22 جولائی کو آدھے گھنٹےکے لیے پولیس اسٹیشن آئے۔

مدعی کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ سی ڈی آر اور ڈی وی آر پولیس کے پاس تھیں اور کہا گیا کہ شوکت مقدم 10 بجے جائے وقوع پر نہیں تھے، شوکت مقدم 11 بج کر 45 منٹ پر جائے وقوع پر پہنچے تھے، شوکت مقدم نے کہا کہ قتل سے 10 بجے آگاہ کیا گیا اور 11 بج کر 45 منٹ پر پولیس نے بیان لکھا، گواہ پولیس کانسٹیبل اقصیٰ رانی کہتی ہے کہ 10 سوا 10 بجے جائے وقوع پر پہنچ گئی تھی، کرائم سین انچارج عمران کہتا ہے کہ میں 10 بج کر 30 منٹ پر جائے وقوع پہنچا، 10 بجے سے پہلے صرف 1 پولیس اہلکار بشارت رحمٰن جائے وقوع پر پہنچا تھا، تفتیشی افسر عبدالستار کا کہنا ہے کہ 9 بج کر 45 منٹ سے 10 بجے کے درمیان قتل کی اطلاع ملی۔

مدعی کے وکیل نثار اصغر ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ تھراپی ورکس کے ملازمین تو جائے وقوع پر موجود تھے اور تھانہ صرف ڈیڑھ کلو میٹر دور تھا، ملازمین نے تھراپی ورکس کے مالک طاہر ظہور کو قتل کا بتایا، اگر سب کچھ تھانے میں بیٹھ کر کیا گیا ہے تو ایف آئی آر میں مختلف تحریریں نہیں ہونی چاہیےتھیں، کہا گیا کہ مقتولہ نور مقدم اور ظاہر جعفر ریلیشن شپ میں تھے۔

انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ڈی وی آر سے کوئی ثابت کرے کہ جائے وقوع پر فلاں بندہ تھا جو پولیس پر دباؤ ڈال رہا تھا، سی ڈی آر سے متعلق کوئی رول ضابطہ مہریں اور اسٹیمپ نہیں، کہا گیا کہ ڈی وی آر کے 35 منٹ آگے ہونے کا کہیں بھی ذکر نہیں، کیس کی ڈائری میں تفتیشی افسر نے یہ بات لکھی ہوئی ہے۔

مدعی کے وکیل نثار اصغر کا اپنے دلائل میں کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی میں ظاہر جعفر زبردستی نور مقدم کو کمرے میں لے کر جاتا ہے، 2 بج کر 46 منٹ پر نور مقدم اور ظاہر جعفر دوبارہ باہر جاتے ہیں، 2 بج کر 52 منٹ پر واپس آتے ہیں، 2 بج کر 41 منٹ پر پہلی دفعہ نور مقدم باہر نکلی لیکن چوکیدار نے دروازہ بند کیا، 20 جولائی کو 7 بج کر 12 منٹ پر نور مقدم نے پہلی منزل سے چھلانگ لگائی، ہمارا کیس بیسمنٹ میں جاتا ہی نہیں، ان کا اگر جاتا ہے تو مجھے معلوم نہیں، 16 گھنٹے 31 منٹ کی ویڈیو ہے، اس کے اندر انہوں نے ڈرگ پارٹی کرا دی، جائے وقوع کے 8 کیمرے ہیں، سب چلا دیں۔

مقدمے کے مدعی شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نور مقدم قتل کیس میں ڈی وی آر، سی ڈی آر، فارنزک، ڈی این اے پر مبنی ٹھوس شواہد ہیں، نور مقدم قتل کیس میں تمام شواہد سائنسی بنیاد پر شامل کیے گئے ہیں، ملزمان کے خلاف پراسیکیوشن نے کیس ثابت کر دیا، عدالت ملزمان کو سخت سے سخت سزا دے۔

پراسیکیوٹر رانا حسن نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے وکلاء نے سی ڈی آر کو تسلیم کیا ہے، ملزم کے وکیل نے کل خود طاہر ظہور اور ذاکر جعفر کے درمیان میسج شیئر کیے، سی ڈی آر کے مطابق ظاہر جعفر اپنے والد اور والدہ کو کال کر کے اپ ڈیٹ کر رہا تھا، 7 بج کر 29 منٹ پر ظاہر جعفر نے والد کو 46 سیکنڈز کی کال کی اور قتل سے متعلق بتایا، بیٹے اور والد کے درمیان آخری کال کے بعد صرف طاہر ظہور اور ذاکر جعفر کے درمیان کال ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ تھراپی ورکس کا فرد زخمی ہوا، انہوں نے ڈیڈ باڈی دیکھی لیکن پولیس کو آگاہ نہیں کیا، کل عدالت میں میسیج تو دکھا دیا، ون فائیو کو کال بھی کر دیتے، تھراپی ورکس کے ملازمین کو ظاہر جعفر کو باندھ کر لے جانا تھا لیکن پولیس پہنچ گئی، فارنزک رپورٹ نور مقدم قتل کیس کو مزید مضبوط کر دیتی ہے، نور مقدم کے ناخنوں کے اندر تک ظاہر جعفر کا ڈین این اے میچ ہوا ہے، ٹوتھ پک، سوئس نائف، ہینڈل اور جہاں جہاں سے خون کا سیمپل لیا نور مقدم کا خون ثابت ہوا، ظاہر جعفر کا فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ ہوا اور میچ ہوا جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا، میڈیکل رپورٹ کے مطابق نور مقدم کے پھیپھڑوں میں ڈرگ اور زہر ڈیٹیکٹ نہیں ہوا۔

پراسیکیوٹر رانا حسن نے کہا کہ ظاہر جعفر پر قتل اور زیادتی کرنے کے چارجز لگے ہیں، ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی پر قتل کی اطلاع نہ دینے اور سہولت کاری کے چارج لگتے ہیں، والدین پولیس کو اطلاع دے دیتے تو نور مقدم کو قتل ہونے سے بچایا جا سکتا تھا، چوکیدار اور مالی سب دیکھ رہے تھے لیکن کہتے ہیں کہ ہمیں تو پتہ ہی نہیں، چوکیدار اور مالی پر سزائے موت اور تا عمر قید کے چارجز لگتے ہیں، تھراپی ورکس کے مالک طاہر ظہور پر عمر قید اور سزائے موت کے چارجز لگتے ہیں، تھراپی ورکس کے ملازمین پر عمر قید اور سزائے موت کے چارجز لگتے ہیں، اس کیس کو ملک کا بچہ بچہ دیکھ رہا ہے کہ ملک کا نظام کیسے چل رہا ہے، نور مقدم قتل کیس کو عدالت مثالی کیس بنائے اور ملزمان کو زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے۔

ملزمہ عصمت آدم جی اور ملزم کے وکیل اسد جمال نےجوابی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایک سے ڈیڑھ ماہ تفتیش چلتی رہی لیکن کال ڈیٹا کی بات نہیں کی گئی، ہم نے تو کال ڈیٹا کا ریکارڈ مانا ہی نہیں، پراسیکیوشن نے نہیں بتایا کہ مقتولہ کی والدہ کو شاملِ تفتیش کیوں نہیں کیا گیا۔

ملزم ذاکر جعفر کے وکیل بشارت اللّٰہ نے جوابی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوشن اپنا کیس سامنے نہیں لا رہی بلکہ ہمارے بیان پڑھ پڑھ کر سنا رہی ہے، پراسیکیوشن نے کہا کہ نور مقدم قتل کیس ہائی پروفائل کیس ہے، میں بتاتا چلوں عدالت کے سامنے تمام کیس اہم ہوتے ہیں، وفاقی وزیر شیخ رشید نے کہا کہ میرے بس میں جتنا تھا میں نے کر دیا، اب میں ظاہر جعفر کو پولیس کسٹڈی میں گولی تو نہیں مار سکتا۔

وکیل کے ملزم نے مزید کہا کہ پراسیکیوشن بتا دے کہ جتنے بھی گواہان تھے ان میں سے کس نے کہا کہ واقعے کی اطلاع ہم نے دی، پراسیکیوشن بتائے کہ یہ گواہ ہے اور اس نے قتل ہوتے دیکھا، قتل کا کوئی چشم دید گواہ نہیں ہے۔

مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے وکیل شہر یار نواز نے عدالت کے سامنے جوابی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوشن نے کہا کہ ہر چیز پر ظاہر جعفر کے فنگر پرنٹس ہیں، پراسیکیوشن اب تک جواب نہیں دے پائی کہ آلۂ قتل پر ظاہر جعفر کے فنگر پرنٹس کیوں نہیں، پراسیکیوشن سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ نور مقدم کی والدہ کو کیوں شاملِ تفتیش نہیں کیا گیا۔

ملازمین افتخار، جمیل اور جان محمد کے وکیل سجاد بھٹی نے عدالت میں جوابی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ظاہر جعفر اور نور مقدم گیٹ سے آتے جاتے ہیں، چوکیدار افتخار نے گیٹ بند بھی کیا اور کھولا بھی، ملازم کو پتہ نہیں تھا کہ ظاہر جعفر اور نور مقدم کے درمیان کیا چل رہا ہے، افتخار نے ظاہر جعفر کے والدین کو کال کر کے اپنی پیشہ ورانہ ذمے داری پوری کی، تھراپی ورکس کے ملازمین شہادت کو ختم کرنا چاہتے تھے لیکن پولیس آ گئی، افتخار، جان محمد اور جمیل کا واقعے میں ملوث ہونا ثابت نہیں ہوتا، نور مقدم خود کو واش روم میں بند کر کے بھی کسی کو کال کر کے بتا سکتی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ مقتولہ نور مقدم نے کوئی کال نہیں کی، ڈی وی آر کے کیمرے بھی ری کور نہیں کیے گئے، کیا پورے شہر کو نور مقدم قتل کیس میں پھانسی دے دی جائے؟ ظاہر جعفر سے نہ جمیل، نہ افتخار اور نہ جان محمد کی کوئی بات ہوئی، نور مقدم نے بھی کسی کو نہیں کہا کہ ہٹ جاؤ مجھے گھر سے باہر جانا ہے، جان محمد، افتخار اور جمیل کو کیس میں ملوث کر کے ان کے بچوں کا معاشی قتل کیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ملازمین کے وکیل سجاد بھٹی کے جوابی دلائل بھی مکمل ہو گئے۔

عدالت نے نور مقدم قتل کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا، جج عطاء ربانی 24 فروری کو نور مقدم قتل کیس کا فیصلہ سنائیں گے۔

قومی خبریں سے مزید