پاکستان کی خارجہ پالیسی کے روایتی مفروضوں میں اس کے محل وقوع یا لوکیشن کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ پاکستان کے پالیسی ساز اس پہلو پر جنون کی حد تک یقین رکھتے رہے ہیں کہ پاکستان جغرافیائی حیثیت سے بے مثال اہمیت کا حامل ہے کیونکہ وسطی ایشیا کے تمام تجارتی راستے پاکستان سے گزرتے ہیں۔ بظاہر یہ دعویٰ درست نظر آتا ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ چھ دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود بھی پاکستان ایشیا کی تجارتی گزرگاہ نہیں بن سکا۔ بلکہ معاملہ اس کے بالکل الٹ نظر آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان ایسے ملکوں میں گھرا ہوا ہے جن کا رویہ اس کی طرف معاندانہ ہے۔ بد قسمتی سے یہ صورت حال تب تک بدلتی ہوئی نظر نہیں آتی جب تک پاکستان کے ہندوستان کے ساتھ تجارتی تعلقات معمول پر نہیں آتے۔
پاکستان کو جن وجوہات کی بنا پر اپنے محل وقوع پر ناز ہے وہ تو ایران اور افغانستان کو بھی ہو سکتاہے کیونکہ جو بھی راستہ پاکستان سے گزرے گاوہ وسط ایشیا تک بذریعہ افغانستان اور ایران ہی گزرے گا۔ اس پہلو سے یہ ممالک بھی اپنی جغرافیائی حیثیت پر اتنا ہی ناز کرسکتے ہیں۔ لیکن کیا آج کا افغانستان اپنی جغرافیائی حیثیت سے ممکنہ فائدہ حاصل کر سکتا ہے؟ ظاہر بات ہے کہ اس کا جواب نفی میں ہی ہوگا کیونکہ جب تک افغانستان میں سیاسی استحکام قائم نہیں ہوتاجغرافیائی حیثیت محض بہلاوا ہے۔ پاکستان کے بارے میں یہ بات درست ہے کہ جب تک ملک میں سیاسی استحکام قائم نہیں ہوتاوہ اپنی جغرافیائی حیثیت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔
تاریخی حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اس کیلئے وبال جان رہی ہے۔ ابھی تک پاکستان کی جغرافیائی حیثیت سے محض امریکہ اور اس کے اتحادی مستفیض ہوتے رہے ہیں۔ پاکستان کو اس کی جغرافیائی حیثیت کی بنا پر ہی اسے روس مخالف سیٹو اور سینٹو میں شامل کیا گیا۔ امریکہ نے پاکستان کی سر زمین کو سوویت یونین کی جاسوسی کیلئے استعمال کیا: بڈھ بیر پشاور سے امریکہ کے جاسوسی طیاروں کی پروازوں کا پردہ اس وقت فاش ہو گیا تھا جب روس نے ایک جاسوسی طیارہ گرا لیا تھا۔ پھر پاکستان کی جغرافیائی حیثیت کا اس وقت غلط استعمال ہوا جب روس مخالف جہاد کو پاکستان میں پروان چڑھایا گیا۔ افغانستان کے خلاف امریکہ کا اتحادی بن کر پاکستان نے جو کردار ادا کیا اس کے سنگین نتائج آج تک بھگتے جا رہے ہیں۔ غرض کہ پاکستان کے حکمراں طبقے نے اس کی جغرافیائی لوکیشن کو کرائے پر چڑھا کر اپنا الو سیدھا کیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان امیروں کی جنت ہے اور غریبوں کیلئے دوزخ۔
تاریخی پہلو سے بھی پاکستان کی حالت قابل رشک نہیں تھی۔ یہ علاقہ وسطی ایشیااور شمال سے آنے والے حملہ آوروں کی گزرگاہ بنا رہا۔ پھر یہ برطانیہ کی روس کے خلاف جنگ میں سرحدی صوبے کی حیثیت اختیار کر گیا۔ پاکستان بننے کے بعد اس میں کوئی خوش آئند تبدیلی نہیں آئی،تقسیم ہندوستان کے بعد یہ علاقہ امریکیوں کی روس مخالف جنگ میں ایک بڑی چھائونی بن گیا۔ پاکستان ابھی تک اپنے آپ کو عالمی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں سے نکال نہیں سکا۔ پاکستان کو اگر جنوبی اور وسطی ایشیاکا معاشی مرکز بننا تھا تو اسے اپنےآپ کو حربی فکری تناظر سے نکل کر خالص تجارتی انداز میں دیکھنا چاہئے تھا۔
پاکستان ہندوستان کیلئے شمالی اور وسطی ایشیا کیلئے ایک تجارتی گزرگاہ بن سکتا تھالیکن وہ تو بوجوہ ہو نہیں سکا اور اس کے مستقبل قریب میں امکانات بھی معدوم ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سخت قسم کی سرد جنگ جاری ہے۔ افغانستان کی حکومت بھی پاکستان کے ساتھ معاندانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ ایران اور ہندوستان میں قربتیں بڑھ رہی ہیں۔اسی ہفتے ہندوستان، ایران اور افغانستان کے درمیان سہ فریقی معاہدے پر دستخط ہوئے جن کے تحت ایران کی چا بہار بندرگاہ پاکستان کا متبادل تجارتی راستہ فراہم کر سکے گی۔ ہندوستان واہگہ کی بجائے چا بہار کے راستے افغانستان، ایران اور وسطی ایشیا سے تجارت کر سکے گا۔
پاکستان اس ناقابل رشک صورت حال سے نکلنے کیلئے چین سے راہداری کے سمجھوتے پر عملی اقدامات اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین پاکستان میں انفر اسٹرکچر تعمیر کرنے کیساتھ ساتھ توانائی کے منصوبوں پر بھی کام کر رہا ہے۔ چین پاکستان کو اس کی جغرافیائی بد بختی سے نکلنے کا موقع فراہم کررہاہے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آخر کار پاکستان چین کے ہاتھوں بھی ویسے ہی استعمال ہوگا جیسا کہ امریکی ہاتھوں میں ہوا۔ اس کے امکانات کم نظر آتے ہیں لیکن پھر بھی پاک چین راہداری کے منصوبے کے کچھ پہلو ئوں کو تنقیدی نقطہ نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان شاہراہوں اور ریلوے لنک کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے۔ ہم ناقدین کے اس نقطہ نظر سے اتفاق نہیں کرتے کہ محض شاہراہوں کی تعمیر معاشی ترقی کا راستہ نہیں کھول سکتی۔ اب بھی تو پاکستان کی زیادہ تر ترقی جی ٹی روڈ کے گرد و نواح میں ہوئی ہے۔ موٹرویز بھی معاشی ترقی کیلئے مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔
لہٰذا یہ دعویٰ تو درست نظر آتا ہے کہ شاہراہوں کا جال بچھنے سے معاشی ترقی میں اضافہ ہوگا۔لیکن چین کے ساتھ توانائی کے منصوبوں کے بارے میں کچھ سوالات ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ کیا چین اپنے پرانے کوئلے پر چلنے والے پلانٹ پاکستان میں لگا رہا ہے؟ چین اپنے ہاں فضائی کثافت (پولیوشن) کم کرنے کیلئے پرانے پلانٹوں کی جگہ اعلیٰ درجے کے پلانٹ لگا رہا ہے جن سے کثافت میں کمی آئے گی۔ عالمی ماہرین کو شک ہے کہ چین اپنے پرانے پلانٹ پاکستان میں لگا رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پاکستان کو ماحولیاتی تباہی کا سامنا ہوگا۔
المختصر جغرافیائی لحاظ سے پاکستان نا موافق حالات کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کے مشرق اور مغرب کے پڑوسی ممالک اس سے معاندانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ اس صورت حال میں پاک چین راہداری منصوبہ ہی راہ نجات دکھائی دیتا ہے۔ لیکن پاکستان کو چین کے ساتھ ہونیوالے معاہدے کے ہر پہلو کو غور سے دیکھنا ہوگا۔