• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شاکر علی پاکستان کے نامور مصور اور خطاط ہیں۔ انھیں فن خطاطی کو تجریدی آرٹ کے طور پر متعارف کرانے پر ملک میں تجریدی آرٹ کا بانی کہا جاتا ہے۔ انھوں نے فن مصوری کو جدید مغربی تکنیک سے مالا مال کیا۔

تعلیم اور کیریئر

شاکر علی نے 6مارچ 1916ء کو رام پور، ہندوستان میں آنکھ کھولی۔ کم عمری میں ہی ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا، جس کی وجہ سے وہ اپنے خول میں بند ہوکر ہمیشہ کے لیے خاموش طبیعت کے مالک بن گئے تھے۔ ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ فن مصوری میں دلچسپی کی وجہ سے اس شعبے کی طرف آ گئے۔ 1937ء میں انھوں نے نئی دہلی کے UKIL برادر اسٹوڈیو میں کام کرنا شروع کیا۔ 

مصوری کی باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے انھوں نے 1938ء میں ممبئی کے جے جے اسکول آف آرٹس میں داخلہ لیا۔ 7سال تک اس ادارے میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد انھوں نے میورل ڈیکوریشن میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ حاصل کیا۔ مزید تعلیم کے لیے وہ 1948ء میں لندن چلے گئے، جہاں انھوں نے ر سیلیڈ اسکول آف آرٹ یونیورسٹی کالج سے فائن آرٹس میں ڈپلومہ حاصل کیا۔

1949ء میں شاکر علی نے فرانس کا رُخ کیا اور فرانس کے ممتاز مصور آندرے لاہوتے (Andre L'Hote) کے ساتھ ایک سال کام کیا۔ 1950ء میں اسکول آف انڈسٹریل ڈیزائننگ پیراگوئے سے ٹیکسٹائل ڈیزائننگ میں ڈپلومہ حاصل کرنے کے بعد انھوں نے 1951ء میں پاکستان آکر سکونت اختیار کی۔ 1952ء میں وہ میو اسکول آف آرٹس (موجودہ نیشنل کالج آف آرٹس) لاہور سے بطور لیکچرار وابستہ ہو گئے۔ 1958ء میں پروفیسر اور 1961ء میں وہ اس کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے اور 1973ء تک اس عہدے پر خدمات سر انجام دیتے رہے۔ 1974ء میں انہیں نیشنل کالج آف آرٹس کا تاحیات پروفیسر منتخب کرلیا گیا۔

فن مصوری اور خطاطی

شاکر علی کے فن پاروں کی پہلی نمائش کا انعقاد 1956ء میں شعبہ فائن آرٹ پنجاب یونیورسٹی لاہور میں کیا گیا۔ 1957ء میں آرٹ کونسل کراچی اور لاہور میں بھی تصویری نمائش منعقد کی گئیں۔ اس کے بعد نیشنل کالج آف آرٹس لاہور میں 1965ء، 1966ء اور 1973ء کے دوران آپ کی بنائی ہوئی تصاویر کی نمائشوں کا اہتمام کیا گیا۔ شاکر علی کے فن پاروں کی نمائش پاکستان کے علاوہ امریکا، برازیل، ایران، اٹلی اور انگلستان میں بھی ہوئیں۔

شاکر علی کے تجریدی آرٹ کی خاص بات ان کا منفرد زاویۂ فکر ہے۔ وہ التامیرا کے غار دیکھ چکے تھے اور ان کے رنگوں اور فن سے متاثر تھے۔ شاکر علی نے فطرت کی رنگینیوں، چاند ستاروں، چڑیوں اور پھولوں وغیرہ میں ایسے خوبصورت رنگ بھرے کے انہیں دیکھ کر حقیقت کا گماں ہوتا ہے۔ وہ خطاطی کے فن میں جدت اور تجربات کے حوالے سے بھی مشہور ہوئے۔ انھوں نے قرآنی آیات کو تجریدی انداز میں کینوس پر اتارا، جس سے متاثر ہوکر ملک کے دیگر نامور مصور بھی اس طرف متوجہ ہوئے اور اس فن کو بامِ عروج تک پہنچایا۔

شاکر علی میوزیم

شاکر علی کو بہت شوق تھا کہ ان کا گھر آرٹ کا نمونہ ہو۔ گارڈن ٹاؤن میں مکان کی تعمیر کے دوران لوگ دور دور سے اسے دیکھنے آتے تھے۔ ان کے لیے حیرانی کا باعث جو بات تھی وہ جلی ہوئی اینٹوں کا استعمال تھا کیونکہ عموماً لوگ تعمیرات میں اس طرح کی اینٹیں ضائع کردیتے ہیں جبکہ شاکر علی انہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر اکٹھا کرتے تھے۔ مکان کی تعمیر میں کافی عرصہ لگا اور جب یہ مکمل ہوا تو اس کے کچھ ہی عرصے بعد (27جنوری 1975ء) دنیائے مصوری کا یہ عظیم فنکار اس جہانِ فانی سے کوچ کرگیا۔ ان کی وفات کے بعد حکومت نے ان کا گھر خرید کر اسے ’شاکر علی میوزیم‘ بنا دیا۔

اعزازات

شاکر علی کی فنی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے14اگست 1966ء کو انھیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور 1971ء میں فائن آرٹ کے لیے گرانقدر تدریسی اور فنی خدمات کے صلے میں ستارہ امتیاز سے نوازا۔ اس کے علاوہ، پاکستان کے محکمہ ڈاک کی جانب سے 19اپریل 1990ء اور 14اگست 2006ء کو ان کی مصوری اور تصویر سے مزین دو ڈاک ٹکٹ جاری کیے گئے جبکہ مارچ 2016ء کو شاکر علی کے صد سالہ یومِ پیدائش کے موقع پر 10روپیہ مالیت کے ڈاک ٹکٹ کا بھی اجراء کیا گیا۔

تعلیم سے مزید