• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں اس وقت میانوالی کے شہر پپلاں میں ہوں۔ میانوالی کے معروف صحافی اور شاعر اختر مجاز کی شادی میں شریک ہونے آیاہوں۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی ایک گلی سے گزرا تو یادوں کا ہجوم دماغ میں در آیا۔ یہ کوئی 1983 کی بات ہے جب میں پہلی بار اس گلی میں آیا تھا۔ نوجوانی تھی۔ ذہن کسی بھی مافوق الفطرت بات کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھا۔ واقعات سن لیجئے۔ ایک دوست کے گھر مہمان ہوا۔اس نے ایک کہانی سنائی جس میں چاندنی رات میں گلاب کے پھول کی آسیبی کیفیت بیان کی گئی تھی۔ میں نے اس کا خوب مذاق اڑایا۔ وہ رات بھی چاندنی رات تھی۔ ہم صحن میں سو رہے تھے۔ رات کے کسی پہر میں باتھ روم جانے کیلئے اٹھا تودیکھا کہ پودے پرکھلتا ہواگلاب میرے آگے بڑھنے سےپیچھے ہٹ رہا ہے۔ میں رُکا۔ پھول بھی رُک گیا۔ میں جیسے ہی آگے بڑھا۔پھول پھرپیچھے ہو گیا۔ میں نے مگرخوف زدہ ہونے کی بجائے آگے بڑھ کرپھول توڑنے کی کوشش کی۔ اسی لمحے احساس ہوا کہ نیچے کچھ ہے۔ غور سے دیکھا تو ایک بھورےرنگ کا کتے کا بچہ پودے کےبالکل ساتھ چمٹاہوا تھا۔ وہ پیچھے ہٹتا تھا توٹہنی اس کے زور سے پیچھے ہوجاتی تھی۔ میں ہنس دیا۔

ایک بارمجھے دوستوں نے کہا:ہمارے گھروں کے پیچھے ویرانےمیں جو بیر کا درخت ہے وہ آسیب زدہ ہے۔ رات کے وقت وہاں گھنگرو بجنے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ میں شام ہوتے ہی دوستوں کے ساتھ وہاں پہنچ گیا۔ جیسے ہی درخت میں سےگھنگھربجنے کی آواز آئی۔ دوست بھاگ کر دور جا کھڑے ہوئے مگر میں نے پتھر اٹھا یا اوربیری پر دے مارا۔بیری سے ایک کوا اڑا اور ہم سب ہنس پڑے۔ کسی شوخ نے کوے کوپکڑکر اس کے پائوں میں گھنگھرو باندھ دئیے تھے۔ مگر ابھی جس گلی سے گزر کرآرہا ہوں۔ اس گلی نے میری دنیا بدل دی تھی۔ وہاں عقل نےدم سادھ لی تھی۔یہ جمعہ مبارک کی صبح تھی میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ٹھیک نو بجے اس شخص سے ملنے پپلاں کی اسی گلی میں گیا تھا۔یہ میرے بڑے بھائی محمد اشفاق چغتائی کا دوست تھا۔ وہ مجھے اپنے ساتھ لے گئے تھے، ہم جب وہاں پہنچے تو مولوی صاحب بڑے پیار سے ہمیں ملے ان کے حجرے میں چار لوگ اور بھی بیٹھے ہوئے تھے اور مولوی صاحب بڑے دھیمے انداز میں گفتگو کر رہے تھے۔ مجھے بات سمجھنے کے لیے اپنی سماعت مجتمع کر کے پوری توجہ ان کی آواز پر مرکوز رکھنی پڑرہی تھی۔ ہمیں وہاں بیٹھے ہوئے تقریباً آدھا گھنٹہ گزراتھا کہ انہوں نے کہا، ” جمعہ کی نماز کا وقت ہونے والا ہے اس لیے اٹھا جائے“ ۔سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے میں نے سوچا کہ ہمیں اٹھانے کےلیے مولوی صاحب کو جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی ابھی ساڑھے نو بجے ہوں گے جمعہ کی نماز ایک ڈیڑھ بجے کھڑی ہوتی ہے یہی سوچتے ہوئے میں اس حجرہِ درویش سے باہر آیاتو مجھے احساس ہوا کہ سورج کو جہاں ہونا چاہئے تھا وہاں نہیں ہے۔ میں نے گھڑی پر نظر ڈالی تو ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔ میں نے بھائی سے وقت پوچھا تو انہوں نے بھی میری گھڑی کی ایک لائن میں کھڑی ہوئی سوئیوں کی تصدیق کی۔ میں پریشان ہو گیاتقریبا ساڑھے تین گھنٹوں کا فرق لگ رہا تھا مجھے۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ خانہ ءذہن سے یہ وقت کون چرا کر لے گیا ہے؟ میں ہفتہ بھر وقت کی اس گمشدگی کے بارے میں سوچتا رہا۔ پھر ایک دن گھر سے نکلا تو میری موٹر سائیکل کی رفتار اس وقت دھیمی ہوئی جب میں پپلاں پہنچ چکا تھا۔ پپلاں پہنچتے ہی میری موٹر سائیکل خودبخود اسی مسجد کی طرف مڑ گئی۔میں جس نے تشکیک کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا تھا،کئی سال سے نماز نہیں پڑھی تھی مسجد کے دروازے کے پاس جا کر رُک گیا۔ شام کی نماز ہو چکی تھی نمازی مسجد کے دروازے سے نکل رہے تھے، مسجد کے صحن میں صرف ایک شخص نمازپڑھ رہا تھا۔وہ وہی مولوی صاحب تھے شاید نفل پڑھ رہے تھے میں مسجد کے اندر داخل ہوا اور انہیں نماز پڑھتے ہوئے دیکھنے لگا ۔اچانک مجھے ایک دوست کی آواز سنائی دی”شکر ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں مسجد میں لے آیا ہے رُک کیوں گئے ہو چلو وضو کرو اور نماز پڑھو“۔میں نے اس سے کہا، ”میں نماز پڑھنے نہیں آیا مجھے مولوی صاحب سے کوئی کام ہے“۔اس نے مجھے کہا” دیکھواگر آج بھی تم نے نماز نہ پڑھی تو میں ساری زندگی تم سے کلام نہیں کروں گا “اور میں نے اپنے دوست کے لیے نماز پڑھنے کا ارادہ کر لیا۔ وضو کیا اور مسجد کے صحن میں آگیاجہاں پانچ چھ قطاروں میں پنکھے لگے ہوئے تھے جن کے نیچے صفیں بچھی ہوئی تھیں۔ میں آخری صف پر ایک پنکھے کے نیچے جا کر کھڑا ہو گیا۔ میرے بالکل سامنے مجھ سے پانچ صفیں آگے مولوی صاحب نماز پڑھ رہے تھے میں نے ابھی کوئی الٹی سیدھی نیت باندھی تھی کہ ایک طالب علم نے مولوی صاحب کے اوپر چلنے والے پنکھے کو چھوڑ کر باقی تمام پنکھوں کے بٹن آف کردیے۔ بلا کی گرمی تھی میں نے سوچا کہ میرے دوست کا خدا بھی نہیں چاہتا کہ میں اس کے لیے نماز پڑھوں اور میں نے حیرت سے مولوی صاحب کو دیکھا جنہوں نے کھڑے کھڑے سلام پھیر لیااور جا کر میرے اوپر چلنے والے پنکھے کا بٹن آن کیا۔ واپس آئے اور نماز کی پھر نیت باندھ لی، میں اندر سے کانپ کر رہ گیا۔ وہ مجھ سے اتنی دور تھے کہ انہیں میرے سر پر چلنے والے پنکھے کے بند ہو جانے کا احساس ہی نہیں ہو سکتاتھاپھرمیری طرف ان کی پشت تھی۔ میں آج تک اپنے دماغ کو اس بات کا قائل نہیں کر سکا کہ انہیں پنکھے کے بند ہو جانے کا احساس ہو گیا تھا اور اگر احساس ہو بھیگیا تھا تو اس شخص سے زیادہ عظیم اور کون ہو سکتا ہے جس نے صرف ایک اجنبی کو گرمی سے بچانے کے لیے اپنی نماز توڑ دی۔اس گلی میں میرے ساتھ اور بھی بہت سے واقعات پیش آئے جن کی تفصیل پھر کبھی بیان کروں گا۔اس شخصیت کا نام بابا مظہر قیوم تھا۔ اب اس گلی میں وہ تو نہیں مگر ان کی مرقدِ اقدس اور ان کے دوبیٹے موجود ہیں۔ یعنی روشنی اور خوشبو کی ترسیل کا سلسلہ جاری ہے۔

تازہ ترین