• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
مرزا غالبؔ نے اپنے ممدوح کو درازیٔ عمر کی دعا دیتے ہوئے شاعرانہ مبالغے سے کام لیا اور اپنی دعا میں یہ بھی کہا کہ ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار۔ یہ مبالغہ آرائی غیر فطری ہونے کے باوجود ہمارے اجتماعی رویوں میں رچی بسی ہے۔ ہمیں جس شخص سے عقیدت یا محبت ہو ‘ تو اِس کیلئے اِسی قسم کی دعائیں دی جاتی ہیںکہ اﷲ تمہیں عمرِ خضرؑ عطا کرے اور تمہارا سایہ ہمارے سروں پر سدا قائم رکھے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ صرف حضرت خضرؑ کو دائمی زندگی عطا ہوئی ہے جو کسی اور ذی روح کے مقدر میں نہیں۔ جب محترمہ مریم نواز نے ٹویٹر پر یہ پیغام دیا کہ میں نے اپنے والد کو اﷲ کی امان میں دے دیا ہے، تو مجھے یقین ہو گیا تھاکہ وزیراعظم نوازشریف کے دل کا آپریشن کامیاب رہیگا اور وہ جلد صحت یاب ہو جائینگے۔ آپریشن سے پہلے اور آپریشن کے درمیان ایک ایسی فضا بنتی گئی کہ دلوں کا تعلق براہِ راست ربِ کائنات سے قائم ہوتا گیا۔اﷲ کا شکر ہے کہ چار گھنٹوں کے اندر دل کی چار مقامات پر پیوند کاری ہوئی۔ تب اُستاد کا شعر یاد آیا ؎
مصحفیؔ ہم تو سمجھتے تھے کہ ہو گا کوئی زخم
تیرے دل میں‘ تو بہت کام رفو کا نکلا
بفضل خدا خیروخوبی سے گزر نے والا آپریشن کا مرحلہ قوم کو یک جان کر گیا۔ عالمی قائدین نے تہنیت کے پیغام بھیجے‘ اسلامی دنیا نے محبت کے پھول نچھاور کئے اور غیر مسلم کمیونٹی نے بھی اپنائیت کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے عالی ظرفی کا ثبوت دیا ہے اور حکمران جماعت کے اندر ایک نئی روح دوڑنے لگی ہے ۔ یہ نیک شگون ہے اور اس وقت ایسے اقدامات کو اوّلین اہمیت دینی چاہئے جو قومی یک جہتی کو مزید فروغ دے سکیں اور پاکستان کو لاحق سنگین چیلنجوں کا مؤثر جواب فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
نوازشریف کے ناقدین کہتے ہیں کہ وہ مغل بادشاہوں کی طرح اپنے چند مصاحبین کے ذریعے حکمرانی کرتے ہیں۔ ممکن ہے انکے اس مشاہدے میں کچھ حقیقت بھی ہو‘ مگر ہمیں اِس امر کا اعتراف کرنا ہو گا کہ اُنہوں نے پاکستان کے کلیدی شعبوں میں حیرت انگیز انقلاب برپا کیا ہے اور وطن کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا ہے۔ وہ پہلی بار وزیراعظم بنے، تو اُنہوں نے معیشت کو بہت سارے شکنجوں سے آزاد کرایا اور اقتصادی ترقی کے راستے ہموار کئے۔ وہ ایک وژن رکھتے تھے جسکے مطابق اُنہوں نے کرنسی کی آزادانہ نقل و حرکت کا ایک جدید نظام وضع کیا، نجکاری اور فری مارکیٹ اکانومی کی حوصلہ افزائی کی۔ اِنہی کی ژرف نگاہی سے ٹیلی کمیونی کیشن کے شعبے میں دور رس تبدیلیاں آئیں۔ اِنکے دوسرے دورِ حکومت کے کارنامے پہلے سے زیادہ قابلِ فخر تھے۔ اُنہوں نے سب سے پہلے آئین میں ترمیم کر کے صدرِ مملکت کے پاس 58-2Bکے ذریعے حکومت اور قومی اسمبلی کو برطرف کرنے کے جو اختیارات حاصل تھے اُنہیںواپس لیا۔اس کے فوراً بعد ایک اور آئینی ترمیم سے ہارس ٹریڈنگ کا خاتمہ کیا۔ اُن کا سب سے بڑا کارنامہ بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے مقابلے میں 28اور 30مئی 1998ء کو چھ ایٹمی دھماکے کر گزرنا تھا، حالانکہ امریکی صدر بار بار فون کر کے ’گاجر‘ اور ’چھڑی‘ کی نوید سنا رہے تھے۔ پاکستان کے ایٹمی طاقت بن جانے کے بعد جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن قائم ہو چکا ہے اور ہولناک روایتی جنگ کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کی بے پایاں قوتِ ارادی سے ثابت ہوا کہ وہ فولادی اعصاب کے مالک ہیں اور اپنے وطن کی سلامتی اور خودمختاری کو سب سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔
اُن کی وزارتِ عظمیٰ کا تیسرا دور ملک بھر میں جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر سے عبارت ہے۔ وہ شاہراہیں، بندرگاہیں اور تیزرفتار مواصلاتی نظام کی تعمیر میں غیرمعمولی دلچسپی لے رہے ہیں اور اپنے وطن کو توانائی کی قلت سے نجات دلانے میں شب و روز منہمک ہیں۔ ان کی اور فوجی قیادت کی کاوشوں سے چین پاکستان میں 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کیلئے آمادہ ہوا اور دونوں ملک مل کر چین پاک اقتصادی راہداری تعمیر کرنے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ اِس منصوبے سے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے تین درجن سے زائد ممالک شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب میں ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے اور گوادر بندرگاہ کے آپریشنل ہو جانے سے بلوچستان پاکستان کا سب سے خوشحال صوبہ بن جائے گا۔ اِس عظیم الشان منصوبے کی تکمیل میں اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو حکومت سے تعاون اور غیر ضروری تنازعات پیدا کرنے سے کلیۃً اجتناب کرنا چاہئے، مگر بعض کم فہم سیاسی عناصر قدم قدم پر روڑے اٹکا رہے ہیں۔ نوازشریف علاج کیلئے لندن آئے، تو فقرے کسے گئے کہ محض سیر سپاٹے کیلئے آئے ہیں اور پاناما لیکس کی گرفت سے بچنے کیلئے ڈرامے رچا رہے ہیں۔ ستم کی انتہا یہ کہ جب وزیراعظم ہارٹ سرجری سے ایک شام پہلے اپنے فرائضِ منصبی ادا کرتے ہوئے ویڈیو لنک پر قومی اقتصادی کونسل اور وفاقی کابینہ کی صدارت فرما رہے تھے تاکہ مشاورت سے وفاقی بجٹ کی منظوری دی جا سکے، تو عمران خاں نے اِس عمل کو خطرناک قرار دیا اور بے وزن نکتہ اُٹھایا کہ وزیراعظم اپنی ذمہ داریاں کسی اور وزیر کو سونپ سکتا ہے نہ اپنی غیرموجودگی میں وفاقی کابینہ کا اجلاس بلانے کا مجاز ہے۔ معترضین نے اِس ضمن میں رولز آف بزنس پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کی جن میں لکھا ہے کہ ’’وزیراعظم اپنی غیر حاضری میں وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔‘‘
مجھے اِس مرحلے پر ہمارے گزرے ہوئے عہد کے رومانوی شاعر عدمؔ کا شعر ذہن کی اسکرین پر نمودار ہوا ؎
زندگی کے حسین لمحوں میں
بے وفا دوست یاد آتے ہیں
پاکستان کے حالات ایک مستحکم سیاسی حکومت اور ایک پائیدار معیشت اور ایک مضبوط خارجہ پالیسی کا تقاضا کرتے ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف دل کی بیماری کے باوجود اپنی صلاحیتوں کے مطابق اپنے وطنِ عزیز کو ایک روشن مستقبل عطا کرنے کیلئے سرگرمِ عمل رہے ہیں اور آئندہ پہلے سے کہیں زیادہ خدا خوفی‘ خوداحتسابی اور وسعت قلبی سے کام لیں گے کہ وہ ایک بہت بڑے روحانی اور جسمانی تجربے سے گزرے ہیں۔ اِس موقع پر ہمارے سیاسی قائدین کو جائزہ لینا چاہئے کہ بھارت اِس خطے کی بالادست طاقت بننے کیلئے کیا کیا حربے استعمال کر رہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے اعلان کیا تھا کہ وہ چین پاک اقتصادی راہداری کا منصوبہ سبوتاژ کرنے میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھیں گے۔ بدقسمتی سے امریکہ اِن کی پشت پناہی کر رہا ہے اور جون کے پہلے ہفتے میں وہ امریکہ جا رہے ہیں۔ اِس سے قبل وہ سعودی عرب اور امارات میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے میں کامیاب رہے۔ حال ہی میں اُنہوں نے چا بہار بندرگاہ کی تعمیر کیلئے افغانستان اور ایران سے معاہدہ کیا ہے اور 35کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا مژدہ سنایا ہے، جبکہ بھارت میں مسلمانوں کا جینا دوبھر ہوتا جا رہاہے اور اقلیتوں پر تعلیمی اداروں اور باعزت روزگار کے دروازے بند کئے جا رہے ہیں۔ گجرات میں مسلمانوں کاقتل عام ایک ڈرائونے خواب کی طرح آج بھی ذہنوں کو خوفزدہ رکھے ہوئے ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ بھارت کی بدنام ایجنسی ’را‘ مختلف اطراف سے بلوچستان میں داخل ہو کر علیحدگی پسندوں اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ کراچی میں بھی اِس کی تخریبی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بھارت امریکی تعاون سے چین پاک اقتصادی راہداری کے منصوبے کو ناکام بنانے پر تُلا ہوا ہے اور اس نے بلوچستان میں ڈرون حملے کے ذریعے افغان طالبان کے امیر ملا منصور کو موت کے گھاٹ اُتار کر پاک امریکی تعلقات میں گہرا شگاف ڈال دیا ہے اور پاکستان کی سلامتی پر کاری وار کیا ہے جسے ہمارے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ ایسے میں ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کو پوری یک سوئی کے ساتھ ایک ایک قدم ناپ تول کر اُٹھانا اور جمہوری اور سیاسی نظام کو زیادہ سے زیادہ مستحکم بنانا ہو گا۔
تازہ ترین