• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

" انڈیا سے ہماری دشمنی کی نوعیت کیا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب باوجود کوشش کے نہ مل سکا۔ لہٰذا اب آپ کے توسط سے اس سوال کو سب کے سامنے لا کر اس کا جواب جاننے کی کوشش ہے۔ ہم اپنے پچپن (جس کو تقریباً پچاس سال گزر چکے ہیں) سے یہ جانتے ہیں کہ کرہ ارض پر ہمارا سب سے بڑا دشمن انڈیا ہے۔ ہم نے جنگیں بھی صرف اسی ملک سے لڑی ہیں۔ ہمارے ملک میں جو بھی تخریب کاری ہوتی ہے اس کا ذمہ دار ہر حال میں انڈیا ہی ہوتا ہے۔ کرکٹ کا میچ اگر انڈیا کے ساتھ ہو رہا ہو تو ایسا لگتا ہے کہ دو دشمن آمنے سامنے ہو رہے ہیں، ہار جیت کھیل کا حصہ نہیں، موت و زندگی کا معاملہ ہے۔ ہر حال میں انڈیا کو ہرانا ہے اور اگر نہ ہرا سکے تو کھلاڑیوں کو برا بھلا کہنا ہے۔ ان لوگوں نے ناک کٹوادی، بے عزتی کروادی، ساری امیدیں خاک میں ملا دیں۔ لیکن جب دوسری طرف دیکھیں تو حالات قطعی مختلف ہیں۔ ہمارے بچوں اور بڑوں کے آئیڈیل انڈین اداکار ہیں۔ ہمارے مرد، انڈین مرد اداکاروں سے متاثر ہو کر ویسا ہی بننا چاہتے ہیں۔ ہماری خواتین، کسی نہ کسی انڈین اداکارہ سے اپنے آپ ملانے کی کوشش میں سرگرداں۔ شادی کے موقع پر دلہا دلہن بالکل انڈین فلموں یا انڈین ڈراموں میں نظر آنے والے دلہا دلہن کی طرح تیار ہوتے ہیں۔ جس طرح کا حلیہ فلموں کے دلہا کا ہوتا بالکل اسی طرح کا حلیہ ہمارے یہاں دلہوں کا ہوتا ہے۔ ایسے میں دشمنی کا عنصر کہاں رہ جاتا ہے۔ شادیوں کی رسومات بھی بالکل انڈین فلموں میں کی جانی والی شادی کی رسومات کی طرح کی جاتی ہیں۔ اسی طرح اگر خوبصورتی کی مثال دینی ہو تو وہ بھی انڈین ہیروئین کی دی جاتی ہے۔ جیسے پاکستان میں خوبصورتی ناپید ہے۔ بچوں بڑوں کو اردو مشکل لگتی ہے لیکن اگر اس اردو لفظ کا ہندی زبان میں ترجمہ کردیا جائے تو فورا سمجھ میں آجاتا ہے۔ یعنی ہندی زبان عام فہم ہوچکی ہے۔ ایک او لیول کے اسٹوڈنٹ نے بتایا کہ اردو کے پرچہ میں جب انگریزی کے لفظ کا ترجمہ اردو میں کرنے کو کہا جاتا ہے تو بہت سے بچے ہندی میں ترجمہ کردیتے ہیں کیوں کہ انہیں ہندی میں مطلب پتا ہوتے ہیں اردو میں نہیں۔ ایسے میں ہندوستان سے نفرت۔۔۔۔سمجھ سے بالا تر ہے۔ تعلیمی اداروں میں ہفتہ طلبا ہر دور میں منایا جاتا ہے۔ پہلے اس میں تقریری مقابلہ، بیت بازی، غزل سرائی کا مقابلہ، ملی نغموں کا مقابلہ وغیرہ ہوتے تھے۔ لیکن اب گلوبلائزیشن کی بدولت ہفتہ طلبا کی نوعیت بدل گئی ہے۔ اب character day، no bag pack day، وغیرہ منائے جاتے ہیں۔ جس میں یوم کردار character day میں طلبا کسی نہ کسی کردار کی نقل میں تیار ہوکر آتے ہیں۔ کئی یونیورسٹیز کے منعقدہ شدہ یوم کردار کا حال معلوم کیا تو پتا چلا 90 فیصد طلبا انڈین اداکاروں کے getup میں آتے ہیں اور بقیہ دس فیصد انگریزی فلموں کے اداکاروں کے۔ اساتذہ اگر سمجھا بھی دیں کہ پاکستان میں بھی بہت سے کردار ہیں ، آپ سیاستدانوں، مشہور اینکر پرسنز یا فلاحی کام کرنے والوں کا روپ دھار لیں۔ لیکن سب کے سب انڈین کردار ہی بنتے ہیں۔ ایسے میں نفرت صرف کرکٹ میچ تک ہی کیوں محدود ہے؟

minhajur.rab@janggroup.com.pk

تازہ ترین