• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملا منصور کے خلاف پاکستان میں کیوں کارروائی کی؟آرمی چیف

Why Action Against Mullah Mansoor In Pakistan Army Chief
امریکی ایلچیوں سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے سوال کیا ہے کہ ملا منصور کے خلاف پاکستان میں کیوں کارروائی کی، ملا فضل اللہ کے خلاف افغانستان میں کارروائی کیوں نہیں کرتے۔

امریکی فوج کے افغانستان میں کمانڈر جنرل جان نکلسن اور امریکی نمائندہ خصوصی رچرڈ اولسن نے جی ایچ کیوراولپنڈی میں جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی ۔

امریکی وفد کی مشیر خارجہ سے بھی ملاقات ہوئی جس میںمشیر خارجہ سرتاج عزیزبلوچستان ڈرون حملے کے پیچھے کیا عزائم تھے؟ جب امریکا کو علم ہوا کہ ملا منصور امن مذاکرات کا حامی نہیں تو پاکستان کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا؟

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ امریکا ملا فضل اللہ اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی کرے، پاکستان کو افغان عدم استحکام کا ذمے دار ٹھہرانا بدقسمتی ہے، بھارتی اور افغان خفیہ ایجنسیوں کو پاکستان میں دہشت گردی کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔

امریکی وفد سے ملاقات میں آرمی چیف نے مزید کہا کہ نوشکی ڈرون حملے سے پاک امریکا تعلقات کو نقصان پہنچا، اعتماد اور احترام کی فضا کو دھچکا لگا، آپریشن ضرب عضب کے ثمرات کو ٹھیس پہنچی،خطے میں دیرپا امن کا حصول مشترکہ ذمہ داری ہے،امریکا افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور ملا فضل اللہ کے خلاف کارروائی کرے۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے یہ بھی کہا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را ہو یا افغان این ڈی ایس کسی کو پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے امریکی وفد کو نوشکی ڈرون حملے کے بعد پیدا صورتحال سے آگاہ کیا اور پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر شدید تحفظات ظاہرکیے۔

آرمی چیف نے کہا کہ قیام امن کی مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے، افغانستان کے ساتھ طویل اور انتہائی پیچیدہ سرحد، 30لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی کئی دہائیوں سے پاکستان میں موجودگی اور بین القبائل روابط جیسے چیلنجز کی موجودگی میں پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام فریق پاکستان کو درپیش چیلنجز کو سمجھیں، پاکستان تمام دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق، بلا امتیاز آپریشن ضرب عضب جاری رکھے ہوئے ہے۔

آرمی چیف نےکہاکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مؤثر بارڈر مینجمنٹ کی ضرورت ہے، پاکستان افغان مفاہمتی میں چار ملکی رابطہ گروپ کے تحت کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
تازہ ترین