وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کے تعاون سے کراچی میں فیصلہ کن آپریشن کی تیاری شروع کردی ہے۔ سیاسی شخصیات کی گرفتاری کےلئے اجازت طلب کرلی گئی ہے۔ آپریشن کے آخری مرحلے میں بڑے پیمانے پر بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرز، لینڈ مافیا اور ان کے سیاسی سرپرستوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ یہ فیصلہ کن آپریشن ہوگا یا آخری رسومات ادا کرنے کی تیاریاں۔ وفاقی وزیر داخلہ آپریشن سے پہلے آپریشن تھیٹر لگائیں گے جس میں تمام سیاسی آرکسٹرا یکجا کیا جائے گا۔ چوہدری نثار علی خان صاحب جو دوپہر چوہدری گھرانے کے عظیم موسیقار ہیں، آخری دھن تیار کریں گےجس پر حکومتی فورسز اس زور سے ناچیں گی کہ گھنگھرو ٹوٹ جائیں گے۔ خیر جو ملی ہے وہ ایک لمبی چوڑی رپورٹ ہے جس کاچند سطروں میں احاطہ نہیں کیاجاسکتا۔ لیکن چند لفظوں میں خلاصہ یہ ہے کہ یہ سب کرشمہ سیاست کاہے۔ جو ہر اونچے نیچے پرخار میدان میں ہونے والی ’’حسن کارکردگی‘‘ کاسرچشمہ ہے۔کراچی کو سیاسی غنڈے الائچی کی طرح چبارہے ہیں۔ اب یہ عروس البلاد عروس ہزار داماد ہوچکی ہے۔ اس لئے کراچی کے حق میں دعا کریں کہ یہ آپریشن جو سیزیرین ہے اس میں زچہ بچہ دونوں جاسکتے ہیں۔ ایک لفظ تحفظات ہے جو ہر طرح کے ناجائز تحفظ کے لئے بکثرت استعمال کیا جاتا ہے گویا اب ہمارے الفاظ بھی طوائف الملوکی بن چکے ہیں۔ بھتہ دے کے جو چاہے استعمال کرے۔ قوم کی درخواست ہے کہ بس اب یہ آخری آپریشن سچ مچ کاآخری آپریشن ہونا چاہئے کہ اس کے بعد جب لاش ہی نہ ہوگی تو یہ پوسٹ مارٹم آپریشن بھی کیونکر ہوگا۔ وفاقی حکومت اب کی بار آفاقی انداز میں آپریشن کرے گی اور سندھ حکومت نرس کا کردار اداکرے گی۔ اگر ڈاکٹر با کردار ہوئے اور نرس حسین نہ ہوئی تو امکان ہے کہ آپریشن ڈیڈاینڈ کامیاب ہو جائے۔ ان آپریشنوں پر بھی کافی خرچ اٹھ رہا ہے۔ اس لئے اسراف سے کام نہ لیا جائے قناعت کو بروئے کار لایا جائے۔
٭٭٭٭٭
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے: وڈیروں، جاگیرداروں میں قانون کا ڈر پیدا کرنا ضروری ہے۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری فخر انصاف ہیں اور عدلیہ کے سر کا تاج،انہوں نے اپنے عہد میں انصاف کے مینار کھڑے کئے اور ظلم کے مینار مسمار کئے۔ عدلیہ کو اس کی بالاتر حیثیت دینے میں ان کا کلیدی رول رہا جبکہ وکلا اور عوام نے ان کے ہاتھ اتنے مضبوط کئے کہ ان کی گرفت سے جاتے جاتے بھی کوئی مجرم بچ نہ سکا۔ وہ جہاں بھی رہیں خوش رہیں، یہ جملہ ہم حکومت کی جانب سے ان کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ سچ پوچھیں تو اس ملک کو جاگیرداروں، وڈیروں ہی نے لوٹا اور اکثر یہ عمل بالواسطہ رہا اور جاگیرداروں وڈیروں کے ساتھ ساتھ جاگیردارانہ ذہنیت جوتقریباً ہر پاکستانی میں پیدا ہوچکی ہے ،وہ خودجاگیرداروں وڈیروں سے بھی بڑھ کر خطرناک ہے۔ قرآن حکیم میںارشاد ہے:’’اور تم زمین پر اکڑ کر نہ چلو‘‘گویا اصل بیماری وہ تکبر، غرور، خودنمائی، خودپرستی، خودغرضی ہے جو منبرو محراب اور میکدے کے درمیان فاصلے تک کم کرنے میں کامیاب ہے۔ جب آزادی ملی، دو ملک بنے، ایک نے پہلا کام یہ کیاکہ جاگیرداری کو ختم کردیا۔ دوسرے میں جاگیردار جاگیرداری کا کیسے خاتمہ کرتے، بہرحال یہ تو اب ہوچکا۔ بابائے قومؒ کو ان مگرمچھوں کااندازہ تھا مگر انہیں زیادہ مہلت نہ ملی۔ ورنہ ہمارے ہاں بھی یہ عنصر کب کا ہوا ہوچکا ہوتا۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ایک اچھی طرح ڈال دی ہے۔ اب اس پر گرہ لگانے والوں کو سامنے آنا ہوگا ورنہ ...........
٭٭٭٭٭
گزشتہ برس پاکستان دوبارہ دنیا کا 34واں کرپٹ ملک بن گیا۔ کرپشن کے باعث ملک معاشی و سیاسی حوالے سے تباہی کے دہانےپر جا پہنچا
ابھی ’’عشق‘‘ کے امتحاں اور بھی ہیں
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ہم دوسروں کی بات کیوں کریں ہم تو بس اپنے کمالات بے مثال کی مثال ہی پیش کرسکتے ہیں۔ ہمارا پیغام کرپشن ہے جہاں تک پہنچے، اگرچہ یہ کرپشن اعزاز پچھلے برس دوسری بار حاصل ہوا لیکن یہ ہماری 67 سالہ محنت شب و روز کا پھل ہے جو ہمارے سروں پر ٹپکے آم کی طرح گر رہا ہے اور ہم میں ہر کوئی کسی نہ کسی انداز میں مستفید ہو رہا ہے۔ اگر خالص دود ھ میں ایک قطرہ لیموں کے رس کا ٹپکا دیاجائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاتا ہے۔ جس بستی میں کرپٹ افراد کی اکثریت ہو جائے وہاں کی ایماندار اقلیت بھی رگڑی جاتی ہے اس لئے کہ وہ اس کرپشن کو برداشت کرتے رہے۔اس کے خلاف آواز نہ اٹھائی، ابھی تو ملک تباہی کے دہانے پر پہنچا ہے جب یہ دوزخ کے دہانےپر پہنچےگا تو تب استاد امام دین بھی کہے گا
جنت کی ٹکٹیں تو بک ہوگئی ہیں
تو جلدی سے دوزخ میں وَڑ مام دینا
موجودہ حکومت کو یہ ثواب پچھلی تاریخوں سے ملے گا۔ کیونکہ جس نے رائی کے دانے برابر اچھائی کی ہوگی اس کے سامنے آجائے گی اور جس نے رائی کے دانے برابر کرپشن کی ہوگی وہ بھی اسے بھگتے گا۔ سیاسی معاشی تباہی ہوتی ہے تولازم ہے کہ اخلاقی تباہی بھی ہوگی مگر یہ اخلاقی تباہی واہی تباہی ہوتی ہے۔ جب نیک لوگ بھی اپنی نیکی اللہ کو لائوڈ سپیکر پر سنانا شروع کردیں جب مذہب کی خرید و فروخت کا ریٹ آسمان سے باتیں کرنے لگے جب جب سیاست اور خباثت میں ایک ملی میٹر کا فرق باقی نہ رہےتو سمجھیں کہ گناہ کا نرخ بھی کس قدر بڑھ گیا ہے۔مگر کبھی کسی گناہگار نے اس کی شکایت نہیں کی کیونکہ کرپشن ہے نا، کرپشن کے خاتمے کے لئے موٹے تازے کرپٹئےکرپشن ویک منا رہے ہیں اور ویک لوگ میکے گئی ہوئی بیویوں کو منانے کا ویک منا رہے ہیں۔
٭٭٭٭٭
بخارسٹ میں ایک شخص جس کے سر پر سینگ نہیں اس لئے اس کے پاگل ہونے میں کوئی شک نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سیانے کہہ گئے ہیں پاگلوں کے سر پر سینگ نہیں ہوتے۔ ان سیانوں کوبھی بخارسٹ کے اس شخص کی برادری ہی سمجھ لیں جو بجلی سے چلنے والی سیڑھی کے اترنے والے رستے سے چڑھنے کی کوشش میں بیسیوں بارمنہ کے بل گر چکا ہے مگر سر پر سینگ نہ ہونے کے باعث باز بھی نہیں آتا۔ اگر سینگ ہوتے تو کہیں نہ کہیں اڑا کر بچ سکتے تھے۔ یہ جو محاورہ یا کہاوت ساز ہوتے ہیں ان کو عرف ِ عام میں سیانے کہا جاتا ہے۔ بخارسٹ میں تو ابھی ایک ہی آدمی اترنے والے برقی زینے سے چڑھنے کے حوالے سے دریافت ہوا ہے۔ ہمارے ہاں تو 67 برسوں سے یہی پریکٹس جاری ہے کیونکہ ہم میں بھی کسی کے سر پر سینگ نہیں اس لئے پہچانے نہیں جاتے۔ پاگلوں کی سینکڑوں اقسام ہیں۔ مگر کوئی بھی پاگل خود کو پاگل نہیں سمجھتا اگر سمجھ جائے تو سمجھو کہ عقلمند ہے۔ خود علامہ اقبالؒ نے بھی پاگل پن یا جنون کو صاحب ِ دانش قراردیا ہے اس سے بڑی سند کیا لائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ
زمانہ عقل کو سمجھے ہوئے ہے مشعل راہ
کسے خبر کہ جنوں بھی ہے صاحبِ ادراک
عقل دراصل ایک مشین ہے اسے چلاتا کوئی اور ہے مگر وہ فیصلے اپنے اختیار سے کرتاہے اس لئے ’’پھڑیا‘‘ جاتا ہے۔ شیخ سعدی نے شاید پاکستان آ کر یہ ریمارکس دیئے ہوں گے کہ میں ایک ایسے ملک گیا جہاں کتے آزاد اور پتھر گرفتار تھے۔ مجھے بڑی مشکل پیش آئی میں نےجلدی سے خود کو ایک رسی سے باندھا اور بے سدھ ہو کر زمین پر لیٹ گیا۔ کتوں نے مجھے بھی بندھا ہوا پتھر سمجھ کر چھوڑ دیا۔ اگر کسی کو اعتراض ہو کہ اس وقت تو پاکستان پیدا ہی نہیں ہوا تھا تو اس وقت الٹراسائونڈ بھی تو نہ تھا۔