میری ٹیم دراصل ’’میرے مطابق‘‘ کی ٹیم ہے اور ہم سب ایک فیملی کی مانند ہیں۔ یہ سب میرے بیٹوں اور بھائیوں کی طرح ہیں۔ عائشہ سب کے لئے بہنوں جیسی اور میرے لئے میری لاڈلی بیٹی محمدہ جیسی ہے۔ فاروق پروڈیوسر لیکن دراصل چھوٹے بھائیوں جیسا ہے۔ عمان، ماجد اور فرخ ہمارے بازو ہیں جن کے بغیر میں تو ’’میرے مطابق‘‘ کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ میری ٹیم بالخصوص عمان کو شدید اعتراض ہے کہ میں نے اپنی بہت ہی محترم ’’فیس بک فیملی‘‘ کی تعداد گھٹا کر بیان کی۔ میں نے گزشتہ سے پیوستہ کالم میں اپنی فیس بک فیملی کی تعداد تقریباً پونے تین لاکھ لکھی تھی۔ عمان نے بتایا کہ یہ پونے تین لاکھ نہیں بلکہ 3 لاکھ 60 ہزار ہے۔ چشم ماروشن دل ماشاد لیکن کیا کروں کہ جسے سیل فون پر END اور SEND کے علاوہ کچھ آتا ہو اس کی بلا جانے یہ ’’فیس بک‘‘ ہوتی کیا ہے۔ یہی حال ’’ٹوئیٹر‘‘ کا ہے جس پر مجھے عمران خان کے ایک جیالے رفیع خان نے لگایا۔ یہ رفیع خان میرے لئے سو فیصد اجنبی تھا جب اس نے فون پر مجھ سے رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ عمران خان کا ہمدم دیرینہ ہے، برطانیہ اور امریکہ کی جم پل ہے اور تحریک انصاف کے لئے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پاکستان آ گیا ہے اور چاہتا ہے کہ مجھے ’’ٹوئیٹر‘‘ کی دنیا میں شامل کرے۔ میں نے اجازت دے دی اور یوں ٹوئیٹر بازی شروع ہو گئی۔ رفیع خان مجھ سے فون پر پوچھ کر ’’ٹوئیٹ‘‘ کرتے اور کبھی کبھی میں بھی ان کے ذریعہ حصہ ڈال دیتا۔ ہمارے درمیان کبھی کبھی چخ چخ بھی ہو جاتی کیونکہ ’’Too Much Of PTI"‘‘ مجھے گوارہ نہ تھی جبکہ رفیع خان کو اس کے بغیر روٹی ہضم نہ ہوتی۔ ’’فیس بک‘‘ کا قصہ بھی ملتا جلتا ہے۔ کینیڈا میں زیر تعلیم نوجوان علی چیمہ سے میں آج تک نہیں ملا لیکن اپنوں سے بڑھ کر اپنا لگتا ہے کیونکہ اس نے جتنی محبت، محنت اور ذمہ داری کے ساتھ میری ’’فیس بک‘‘ کا بیڑہ اٹھایا اور نبھایا، کمال ہے۔ علی چیمہ کے ہی اس Initiative کا نتیجہ ہے کہ آج میری فیس بک فیملی 3 لاکھ 60 ہزار ذہین اور باشعور لوگوں سے تجاوز کر رہی ہے۔
اس تمہید کے بعد چلتے ہیں اپنے عدالتی ہیرو کی تاریخی رخصتی کی طرف جس پر مختلف تحریروں کا طوفان آیا ہوا ہے اس لئے میں جج صاحب پر لکھنے کی بجائے صرف ’’ہیرو‘‘ کے لفظ کو موضوع بنائوں گا۔
’’ہیرو‘‘ کیا ہوتا ہے؟
ہیرو ازم پر بات کرنے سے پہلے چند ٹھوس سائنسی حقائق پر غور کرنا ہو گا۔ ہماری موجودہ نام نہاد اور اجتماعی تہذیبی زندگی کی کل مدت تقریباً گیارہ ہزار سال ہے جب انسان ’’شکاری اور شکار‘‘ کی زندگی یعنی Hunter- Gathererکے کھیل سے نکل کر ایگری کلچر یعنی زراعت کی طرف آیا۔ اس سے پہلے جنگل میں جو خطرات سامنے آتے اس سے نمٹنے کے محدود چوائسز تھے۔ پہلا Fright یعنی خوف سے کانپنا.... دوسرا Fight یعنی لڑنا مرضی یا مجبوری سے اور تیسرا Flight یعنی دڑکی لگا جانا۔ انسان کافی حد تک اپنے ہیروز کا تعین اوپر بیان کردہ پیرا میٹرز Parameters کے تحت کرتا ہے مثلاً بھاگنے والی پوزیشن میں اگر کوئی سرپھرا خطرے سے بھڑ جائے تو وہ عوام الناس میں ہیرو بن جائے گا۔ انسان کے اندر سے کیونکہ ابھی تک جنگل نہیں نکلا اسی لئے انسان نے ہیروز کو جنگلی جانوروں سے منسلک کرنا اپنی عادت بنا لی مثلاً فلاں شیر کی طرح دلیر یا عقاب کی طرح بلند حوصلہ ہے حالانکہ شیر خاصا بے شرم ہے جو شیرنی کی کمائی پر پلتا اور چند لگڑ بگڑ دیکھ کر بھاگ اٹھتا ہے جبکہ عقاب کی اوقات یہ کہ وہ معصوم ترین پرندوں یعنی کبوتروں اور چڑیوں وغیرہ کے خون و گوشت پر پلتا ہے۔ بھائیوں، بیٹوں، باپوں، بھتیجوں کو قتل کرانے والے بھی انسانوں کے ہیرو اس لئے ہوتے ہیں کہ ان کے اندر ’’جنگل‘‘ موجود اور درندوں سے متاثر ہونا انسان کے ڈی این اے میں موجود ہے جو آہستہ آہستہ ہی خارج ہو گا۔ سچ یہ کہ جنگل کا ’’ہیرو‘‘ شیر نہیں وہ گھاس ہے جو سردی، گرمی، بارش ، برفباری میں شیر کے شکار یعنی ہرن کو پالتی ہے۔ یہی حال انسانی ہیروز کا ہے جو عموماً عقل کے اندھوں کو دکھائی نہیں دیتے۔ ہم نے ہیرو ازم اور ہیرو ورشپ کے ساتھ جذباتی، ڈرامائی، وقتی اور حادثاتی تناظر کو خوامخواہ منسلک کر لیا ہے۔ پاور پلے پر لعنت کہ ہم جیسے معاشروں کے اصل ہیرو صرف وہ ہیں جو اس مکروہ اور بدبو دار ترین ماحول میں بھی کم نہیں تولتے، ملاوٹ نہیں کرتے، گھر کا کوڑا گلی میں نہیں پھینکتے، بجلی، گیس یا ٹیکس نہیں چراتے، ٹریفک
اصولوں کی دھجیاں نہیں اڑاتے، رشوت نہیں لیتے، دیگر حرام نہیں کھاتے، پرائی زمینوں پر قبضے نہیں کرتے علی ہذاالقیاس..... لیکن انسان کو ابھی بہت لمبا سفر طے کرنا ہے۔ جب تک انسان کے اندر سے ’’جنگل‘‘ پوری طرح باہر نہیں نکلتا اسے ہیرو اور ولن کی صحیح پہچان نہیں ہو گی جبکہ ہمارے جیسی شرح خواندگی والے معاشروں میں تو یہ سفر بہت ہی طویل ہو گا اور تب تک ہم پاور پلے کے کھلاڑیوں کو ہی کبھی ’’ہیرو‘‘ اور کبھی ’’شہید‘‘ سمجھتے رہیں گے۔