• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریر: نرجس ملک 

ماڈلز: عیشا شیخ، ثنا ریاض 

ملبوسات: مون شیفون کلیکشن بائے سلمان 

آرائش: سلیک بائے عینی 

کوارڈی نیشن: عابد بیگ 

عکّاسی: ایم۔ کاشف 

لےآؤٹ: نوید رشید 

ایّوب خاور کی ایک چہکتی مہکتی سی نظم ہے ؎ سات سُروں کا بہتا دریا تیرے نام…ہر سُر میں ہے رنگ دھنک کا تیرے نام…جنگل جنگل اُڑنے والے سب موسم…اور ہُوا ہے سبز دوپٹّا تیرے نام…ہجر کی شام، اکیلی رات کے خالی دَر…صُبحِ فراق کا زرد اجالا تیرے نام…تیرے بنا جو عُمر بِتائی، بیت گئی…اب اِس عُمر کا باقی حصّہ تیرے نام…اِن شاعر آنکھوں نے جتنے رنگ چُنے…اُن کا عکس اور میرا چہرہ تیرے نام…دُکھ کے گہرے نیلے سمندر میں خاور…اُس کی آنکھیں، ایک جزیرہ تیرے نام۔ تو بس، یہ شاعر آنکھیں ہی ہیں، جو قوسِ قزح سے رنگ چُنتی ہیں اور پھر اِن رنگوں کو پیراہنوں، پوشاکوں، پہناووں میں ڈھالتے ہیں، کچھ ڈھالنے والے ہاتھ۔ پتّوں سے تن ڈھانپنے سے لے کر سونے کے تاروں سے مزیّن ملبوسات تک صرف ایک آرائش و زیبائش کے ضمن میں کیا کیا نہ نُدرتیں، جدّتیں، طبع آزمائیاں و دل آرائیاں انجام پائیں اور ہنوز یہ سلسلہ کہیں رُکتا نظر نہیں آتا۔

اگرچہ ایک امریکی لغت نگار، ارین میک کین کا کہنا ہے کہ ’’عورت اور حُسن لازم و ملزوم نہیں، کیا یہ ضروری ہے کہ بحیثیت عورت دنیا میں رہنے کا کرایہ خُوب صُورتی ہی کی صُورت ادا کیا جائے۔‘‘ لیکن عورت ہو اور حسین نظر آنا نہ چاہے، کچھ عجیب سی بات ہی لگتی ہے اور ہم تو یہ بات عرصے سے جانتے ہیں، تب ہی تو کوئی رُت، موسم، موقع ہو، اُس کی مناسبت سےہرہفتےہی ایک حسین سی بزم سجا لاتے ہیں۔ جیسا کہ اِن دنوں رمضان المبارک سے پہلے پہلے ایک کے بعد ایک تقریب کا انعقاد ہو رہا ہے، توہماری آج کی بزم کچھ تقریباتی پہناووں ہی سے مزیّن ہے۔ پھر چوں کہ آج کل میکسیز، گھگھر چولیاں، غرارے فیشن میں بہت اِن ہیں، تو ہم نے بھی آج آپ کے لیے کچھ ایسے ہی اسٹائلش سے رنگ و انداز منتخب کیے ہیں۔ 

ذرا دیکھیے، ٹی پنک اور عنّابی کے کنٹراسٹ میں ایک منفرد سا انداز ہے، تو فلورل پرنٹڈ جارجٹ میکسی بھی کچھ کم اسٹائلش نہیں۔ سُرمئی اور جامنی کے دل فریب امتزاج میں آرگنزا فیبرک کی حسین میکسی ہے، تو سیاہ اور اسٹیل بلیو رنگ کےمنفرد تال میل میں کاٹن فیبرک کے کام دار گھگھر چولی کا بھی جواب نہیں۔ طلائی رنگ کے ساتھ سُرخ کی ہم آمیزی میں حسین کام دار بنارسی غرارہ ہے، تو ڈارک پِیچ رنگ میں سلور کام سے آراستہ نیٹ کی ایک نہایت دلآویز سی میکسی بھی ہے۔

ایسی تیاری ہوگی، تو یہ مصرع تو آپ ہی آپ لبوں سے پھسلےگا ؎ غضب کا حُسن ہے، آرائشیں قیامت کی…اور پھر شاعر کا تو یہ کہنا بنتاہی ہے ؎ اِن شاعر آنکھوں نے جتنے رنگ چُنے…اُن کا عکس اور میرا چہرہ تیرے نام۔